Kavish Badri

کاوش بدری

  • 1927

کاوش بدری کی غزل

    پتھر بنا کر عرش سے پھینکا گیا تھا ایک میں

    پتھر بنا کر عرش سے پھینکا گیا تھا ایک میں شاید خدا سے پہلے ہی پوجا گیا تھا ایک میں تخلیق کاری میں تجھے حاصل مہارت ہے مگر کس انہماک و شوق سے سوچا گیا تھا ایک میں طفلی سے پیری تک مرے احوال سن لینا کبھی وقت ولادت ہی بہت کوسا گیا تھا ایک میں نقش قدم بھی آپ کا اک سانپ کا پھن ہی ...

    مزید پڑھیے

    وجود دل کے دروازوں کی کنجی کون رکھتا ہے

    وجود دل کے دروازوں کی کنجی کون رکھتا ہے فقیروں کے برابر گنج مخفی کون رکھتا ہے وہاں پہنچا دیا ہے مجھ کو انگشت تفکر نے جہاں میرے سوا یاد الٰہی کون رکھتا ہے یہ قطرہ کون ہے یہ نقش عریاں بیج ہے کس کا بدن میں سنگ بنیاد معانی کون رکھتا ہے جلا کر خیر اشیا کو تنور چشم ہستی میں نظر کوئی ...

    مزید پڑھیے

    لفظ کی بہتات اتنی نقد و فن میں آ گئی

    لفظ کی بہتات اتنی نقد و فن میں آ گئی مسخ ہو کر صورت معنی سخن میں آ گئی نصف آنکھیں کھول کر ہی اس نے دیکھا تھا مجھے چلنے پھرنے کی سکت مفلوج تن میں آ گئی اب نہ وہ احباب زندہ ہیں نہ رسم الخط وہاں روٹھ کر اردو تو دہلی سے دکن میں آ گئی اس کے چہرے کا مجھے مردانہ پن اچھا لگا چاشنی نمکین ...

    مزید پڑھیے

    سنگ اور خشت ملامت سے بچا لو مجھ کو

    سنگ اور خشت ملامت سے بچا لو مجھ کو اپنے دربار کی دیوار بنا لو مجھ کو پارہ پارہ ہو انا اور سر مغرور فنا گیند کی طرح فضاؤں میں اچھالو مجھ کو لقمۂ تر نے مرے نفس کو برباد کیا یاد کرتے رہو کنکر کے نوالو مجھ کو جانے کس قبر کا ہے پیکر خالی میرا میں کھلونا ہوں تو بس توڑ ہی ڈالو مجھ ...

    مزید پڑھیے

    گھر میں ہوں گو حنوط شدہ لاش کی طرح

    گھر میں ہوں گو حنوط شدہ لاش کی طرح پھرتی ہے روح شہر میں اوباش کی طرح بازیچۂ فراعنۂ مصر دیکھنا ہم آہنی گرفت میں ہیں تاش کی طرح یہ جان ناتواں بھی ہے کیا ثمرۂ حیات رکھ دی گئی ہے کاٹ کے اک قاش کی طرح سکھ کی زمیں بسیط نہیں ہے تو کیا ہوا دکھ تو مرا وشال ہے آکاش کی طرح شاید مرا وجود ...

    مزید پڑھیے

    رات بھی ہم نے رو رو کاٹی دن بھی سو کے خراب کیا

    رات بھی ہم نے رو رو کاٹی دن بھی سو کے خراب کیا کھلنے والی آنکھوں کو بھی عمداً محو خواب کیا ایک ہی روٹی کو دھو دھو کر پیتے رہے ہم شام و سحر ساری عمر میں شاید ہم نے ایک ہی کار ثواب کیا رزق تو ہے مقسوم ہمارا اس کو دعا کی حاجت کیوں ڈھانک کے چہرہ دست دعا سے ہم نے خود سے خطاب کیا اس کی ...

    مزید پڑھیے

    دوست جتنے بھی تھے مزار میں ہیں

    دوست جتنے بھی تھے مزار میں ہیں غالباً میرے انتظار میں ہیں وہ نہ ہوتے مرا وجود نہ تھا میں نہ ہوتا وہ کس شمار میں ہیں شاخ ادراک میں جو کانٹے ہیں پھول بننے کے انتظار میں ہیں کیا سبب ہے کہ ایک موسم میں کچھ خزاں میں ہیں کچھ بہار میں ہیں ایک شاعر بنا خدائے سخن جو رسول سخن تھے غار میں ...

    مزید پڑھیے

    تیر کی پرواز ہے مشکیزۂ دل کی طرف

    تیر کی پرواز ہے مشکیزۂ دل کی طرف ہو کے گھائل پھر بھی ہم مائل ہیں قاتل کی طرف گو نہیں پیراک لیکن حوصلہ بڑھنے کا ہے موج کی اک فوج صف بستہ ہے ساحل کی طرف ہر جگہ حاضر ہوں میں اپنے مثالی تن کے ساتھ فاصلے اور وقت بے معنی ہیں منزل کی طرف جیسی اپنی عین ہے اتنی ہی اپنی دوڑ دھوپ قیس محمل ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 2