Bashar Nawaz

بشر نواز

ممتاز ترقی پسند شاعر،نقاد،اسکرپٹ رائٹراورنغمہ نگار۔فلم بازار کے گیت' کروگے یاد تو ہر بات یاد آئیگی 'کے لئے مشہور

One of the prominent progressive poets, critic and lyricist Known for writing lyrics ‘karoge yaad to har baat yaad…’ for ‘Bazaar’.

بشر نواز کی نظم

    تو ایسا کیوں نہیں کرتے

    تو ایسا کیوں نہیں کہتے کہ یہ سپنے ہی میرے کرب کے ضامن ہیں ان کے ہی سبب سے میں جھلستے ریگ زاروں میں برہنہ پا بھٹکتا ہوں انہی پرچھائیوں کو جسم دینے کی تمنا مجھ سے آسائش کا ہر لمحہ مزے کی نیند اعصابی سکوں سب چھین لیتی ہے یہی وہ زہر ہے جس نے مرے خوں کے نمک کو نیم کے رس میں بدل ڈالا تو ...

    مزید پڑھیے

    ابدیت

    اور پھر دونوں فانوس سینے کے بجھ جائیں گے اوڑھ لے گی دھواں دودھ کی دھار کی طرح اجلی نظر ناخن پا سے زلفوں کے بادل تلک جگمگاتی ہوئی کھال سے خواہشوں کے پراسرار محمل تلک ایک تحریر لکھے گی دیمک فنا ہر طرف بے حسی تیرگی تیرگی ہاں مگر صرف رخسار و لب صرف رخسار و لب راکھ میں دابی چنگاریوں کی ...

    مزید پڑھیے

    کرو گے یاد تو ہر بات یاد آئے گی

    کرو گے یاد تو ہر بات یاد آئے گی گزرتے وقت کی ہر موج ٹھہر جائے گی یہ چاند بیتے زمانوں کا آئنہ ہوگا بھٹکتے ابر میں چہرہ کوئی بنا ہوگا اداس رہ ہے کوئی داستاں سنائے گی کرو گے یاد تو ہر بات یاد آئے گی برستا بھیگتا موسم دھواں دھواں ہوگا پگھلتی شمع پہ چہرہ کوئی گماں ہوگا ہتھیلیوں کی ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 2