تو ایسا کیوں نہیں کرتے
تو ایسا کیوں نہیں کہتے کہ یہ سپنے ہی میرے کرب کے ضامن ہیں ان کے ہی سبب سے میں جھلستے ریگ زاروں میں برہنہ پا بھٹکتا ہوں انہی پرچھائیوں کو جسم دینے کی تمنا مجھ سے آسائش کا ہر لمحہ مزے کی نیند اعصابی سکوں سب چھین لیتی ہے یہی وہ زہر ہے جس نے مرے خوں کے نمک کو نیم کے رس میں بدل ڈالا تو ...