Bashar Nawaz

بشر نواز

ممتاز ترقی پسند شاعر،نقاد،اسکرپٹ رائٹراورنغمہ نگار۔فلم بازار کے گیت' کروگے یاد تو ہر بات یاد آئیگی 'کے لئے مشہور

One of the prominent progressive poets, critic and lyricist Known for writing lyrics ‘karoge yaad to har baat yaad…’ for ‘Bazaar’.

بشر نواز کی غزل

    جانے کیا دیکھا تھا میں نے خواب میں

    جانے کیا دیکھا تھا میں نے خواب میں پھنس گیا پھر جسم کے گرداب میں تیرا کیا تو تو برس کے کھل گیا میرا سب کچھ بہہ گیا سیلاب میں میری آنکھوں کا بھی حصہ ہے بہت تیرے اس چہرے کی آب و تاب میں تجھ میں اور مجھ میں تعلق ہے وہی ہے جو رشتہ ساز اور مضراب میں میرا وعدہ ہے کہ ساری زندگی تجھ سے ...

    مزید پڑھیے

    کیا کیا لوگ خوشی سے اپنی بکنے پر تیار ہوئے

    کیا کیا لوگ خوشی سے اپنی بکنے پر تیار ہوئے ایک ہمیں دیوانے نکلے ہم ہی یہاں پر خوار ہوئے پیار کے بندھن خون کے رشتے ٹوٹ گئے خوابوں کی طرح جاگتی آنکھیں دیکھ رہی تھیں کیا کیا کاروبار ہوئے آپ وہ سیانے رستے کے ہر پتھر کو بت مان لیا ہم وہ پاگل اپنی راہ میں آپ ہی خود دیوار ہوئے اپنی ...

    مزید پڑھیے

    یہ حسن ہے جھرنوں میں نہ ہے باد چمن میں

    یہ حسن ہے جھرنوں میں نہ ہے باد چمن میں جس حسن سے ہے چاند رواں نیل گگن میں اے کاش کبھی قید بھی ہوتا مرے فن میں وہ نغمۂ دلکش کہ ہے آوارہ پون میں اٹھ کر تری محفل سے عجب حال ہوا ہے دل اپنا بہلتا ہے نہ بستی میں نہ بن میں اک حسن مجسم کا وہ پیراہن رنگیں ڈھل جائے دھنک جیسے کسی چندر کرن ...

    مزید پڑھیے

    آہٹ پہ کان در پہ نظر اس طرح نہ تھی

    آہٹ پہ کان در پہ نظر اس طرح نہ تھی ایک ایک پل کی ہم کو خبر اس طرح نہ تھی تھا دل میں درد پہلے بھی لیکن نہ اس قدر ویراں تو تھی حیات مگر اس طرح نہ تھی ہر ایک موڑ مقتل ارمان و آرزو پہلے تو تیری راہ گزر اس طرح نہ تھی جب تک صبا نے چھیڑا نہ تھا نکہت گلاب کوچہ بہ کوچہ محو سفر اس طرح نہ ...

    مزید پڑھیے

    جب کبھی ہوں گے تو ہم مائل غم ہی ہوں گے

    جب کبھی ہوں گے تو ہم مائل غم ہی ہوں گے ایسے دیوانے بھی اس دور میں کم ہی ہوں گے ہم تو زخموں پہ بھی یہ سوچ کے خوش ہوتے ہیں تحفۂ دوست ہیں جب یہ تو کرم ہی ہوں گے بزم عالم میں جب آئے ہیں تو بیٹھیں کچھ اور بس یہی ہوگا نا کچھ اور ستم ہی ہوں گے جب بھی برباد وفا کوئی نظر آئے تمہیں غور سے ...

    مزید پڑھیے

    روز کہاں سے کوئی نیاپن اپنے آپ میں لائیں گے

    روز کہاں سے کوئی نیاپن اپنے آپ میں لائیں گے تم بھی تنگ آ جاؤ گے اک دن ہم بھی اکتا جائیں گے چڑھتا دریا ایک نہ اک دن خود ہی کنارے کاٹے گا اپنے ہنستے چہرے کتنے طوفانوں کو چھپائیں گے آگ پہ چلتے چلتے اب تو یہ احساس بھی کھو بیٹھے کیا ہوگا زخموں کا مداوا دامن کیسے بچائیں گے وہ بھی کوئی ...

    مزید پڑھیے

    دل کے ہر درد نے اشعار میں ڈھلنا چاہا

    دل کے ہر درد نے اشعار میں ڈھلنا چاہا اپنا پیراہن بے رنگ بدلنا چاہا کوئی انجانی سی طاقت تھی جو آڑے آئی ورنہ ہم نے تو بہر گام سنبھلنا چاہا چاہتے تو کسی پتھر کی طرح جی لیتے ہم نے خود موم کی مانند پگھلنا چاہا آنکھیں جلنے لگیں تپتے ہوئے بازاروں میں دل نے جب بھی کسی منظر پہ مچلنا ...

    مزید پڑھیے

    بازار زندگی میں جمے کیسے اپنا رنگ

    بازار زندگی میں جمے کیسے اپنا رنگ ہیں مشتری کے طور نہ بیوپاریوں کے ڈھنگ مدت سے پھر رہا ہوں خود اپنی تلاش میں ہر لمحہ لڑ رہا ہوں خود اپنے خلاف جنگ اک نام لوح ذہن سے مٹتا نہیں ہے کیوں کیوں آخر اس پہ وقت چڑھاتا نہیں ہے رنگ اس سے الگ بھی عمر تو کٹ ہی گئی مگر ایک ایک پل کے بوجھ سے ...

    مزید پڑھیے

    بہت تھا خوف جس کا پھر وہی قصا نکل آیا

    بہت تھا خوف جس کا پھر وہی قصا نکل آیا مرے دکھ سے کسی آواز کا رشتا نکل آیا وہ سر سے پاؤں تک جیسے سلگتی شام کا منظر یہ کس جادو کی بستی میں دل تنہا نکل آیا جن آنکھوں کی اداسی میں بیاباں سانس لیتے ہیں انہیں کی یاد میں نغموں کا یہ دریا نکل آیا سلگتے دل کے آنگن میں ہوئی خوابوں کی پھر ...

    مزید پڑھیے

    عکس ہر روز کسی غم کا پڑا کرتا ہے

    عکس ہر روز کسی غم کا پڑا کرتا ہے دل وہ آئینہ کہ چپ چاپ تکا کرتا ہے بہتے پانی کی طرح درد کی بھی شکل نہیں جب بھی ملتا ہے نیا روپ ہوا کرتا ہے میں تو بہروپ ہوں اس کا جو ہے میرے اندر وہ کوئی اور ہے جو مجھ میں جیا کرتا ہے رنگ سا روز بکھر جاتا ہے دیواروں پر کچھ دیئے جیسا دریچے میں جلا ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 2