مجھے جینا نہیں آتا
میں جیسے درد کا موسم گھٹا بن کر جو بس جاتا ہے آنکھوں میں دھنک کے رنگ خوشبو نذر کرنے کی تمنا لے کے جس منظر تلک جاؤں سیہ اشکوں کے گہرے کہر میں ڈوبا ہوا پاؤں میں اپنے دل کا سونا پیار کے موتی ترستی آرزو کے پھول جس در پر سجاتا ہوں وہاں جیسے مکیں ہوتا نہیں کوئی بنا ہوں ایک مدت سے صدائے ...