Bashar Nawaz

بشر نواز

ممتاز ترقی پسند شاعر،نقاد،اسکرپٹ رائٹراورنغمہ نگار۔فلم بازار کے گیت' کروگے یاد تو ہر بات یاد آئیگی 'کے لئے مشہور

One of the prominent progressive poets, critic and lyricist Known for writing lyrics ‘karoge yaad to har baat yaad…’ for ‘Bazaar’.

بشر نواز کی نظم

    مجھے جینا نہیں آتا

    میں جیسے درد کا موسم گھٹا بن کر جو بس جاتا ہے آنکھوں میں دھنک کے رنگ خوشبو نذر کرنے کی تمنا لے کے جس منظر تلک جاؤں سیہ اشکوں کے گہرے کہر میں ڈوبا ہوا پاؤں میں اپنے دل کا سونا پیار کے موتی ترستی آرزو کے پھول جس در پر سجاتا ہوں وہاں جیسے مکیں ہوتا نہیں کوئی بنا ہوں ایک مدت سے صدائے ...

    مزید پڑھیے

    قرض

    مہر ہونٹوں پہ سماعت پہ بٹھا لیں پہرے اور آنکھوں کو کسی آہنی تابوت میں رکھ دیں کہ ہمیں زندگی کرنے کی قیمت بھی چکانی ہے یہاں

    مزید پڑھیے

    مجھے کہنا ہے

    نہیں میں یوں نہیں کہتا کہ یہ دنیا جہنم اور ہم سب اس کا ایندھن ہیں نہیں یوں بھی نہیں کہتا کہ ہم جنت کے باسی ہیں سروں پر لاجوردی شامیانے اور پیروں میں نرالے ذائقوں والے پھلوں کے پیڑ شیر و شہد کی نہریں مچلتی ہیں مجھے تو بس یہی کچھ عام سی کچھ چھوٹی چھوٹی باتیں کہنی ہیں مجھے کہنا ہے اس ...

    مزید پڑھیے

    وقت کے کٹہرے میں

    سنو تمہارا جرم تمہاری کمزوری ہے اپنے جرم پہ رنگ برنگے لفظوں کی بے جان ردائیں مت ڈالو سنو تمہارے خواب تمہارا جرم نہیں ہیں تم خوابوں کی تعبیر سے ڈر کر لفظوں کی تاریک گپھا میں چھپ رہنے کے مجرم ہو تم نے ہواؤں کے زینے پر پاؤں رکھ کر قوس قزح کے رنگ سمیٹے اور خلاؤں میں اڑتے فرضی تاروں ...

    مزید پڑھیے

    ازل تا ابد

    افق تا افق یہ دھندلکے کا عالم یہ حد نظر تک نم آلود سی ریت کا نرم قالیں کہ جس پر سمندر کی چنچل جواں بیٹیوں نے کسی نقش پا کو بھی نہ چھوڑا فضا اپنے دامن میں بوجھل خموشی سمیٹے ہے لیکن مچلتی ہوئی مست لہروں کے ہونٹوں پہ نغمہ ہے رقصاں یہ نغمہ سنا تھا مجھے یاد آتا نہیں کب مگر ہاں بس احساس ...

    مزید پڑھیے

    نارسا

    مجھے خواب اپنا عزیز تھا سو میں نیند سے نہ جگا کبھی مجھے نیند اپنی عزیز ہے کہ میں سر زمین پہ خواب کی کوئی پھول ایسا کھلا سکوں کہ جو مشک بن کے مہک سکے کوئی دیپ ایسا جلا سکوں جو ستارہ بن کے دمک سکے مرا خواب اب بھی ہے نیند میں مری نیند اب بھی ہے منتظر کہ میں وہ کرشمہ دکھا سکوں کہیں ...

    مزید پڑھیے

    پتہ نہیں وہ کون تھا

    پتہ نہیں وہ کون تھا جو میرے ہاتھ موگرے کی ڈال پنکھ مور کا تھما کے چل دیا پتہ نہیں وہ کون تھا ہوا کے جھونکے کی طرح جو آیا اور گزر گیا نظر کو رنگ دل کو نکہتوں کے دکھ سے بھر گیا میں کون ہوں گزرنے والا کون تھا یہ پھول پنکھ کیا ہیں کیوں ملے یہ سوچتے ہی سوچتے تمام رنگ ایک رنگ میں اترتے ...

    مزید پڑھیے

    وصال

    جب کسی تمتماتے ہوئے جسم کا سرسراتا ہوا پیرہن رس بھرے سنترے کے چمکدار چھلکے کی مانند اترنے لگے گا دھندلکے میں سوئے ہوئے نرم بسر کی نیندیں کسی سوندھی خوشبو کی جھنکار سے جب اچٹ جائیں گی اور الجھی ہوئی گرم سانسوں کی موجوں پہ میں بے سہارا بھٹکتی ہوئی ناؤ کی طرح بہنے لگوں گا یقیں ہے ...

    مزید پڑھیے

    ایک خواہش

    اب کی بار ملو جب مجھ سے پہلی اور بس آخری بار ہنس کر ملنا پیار بھری نظروں سے تکنا ایسے ملنا جیسے ازل سے میرے لیے تم سرگرداں تھے بحر تھا میں تم موج رواں تھے پہلی اور بس آخری بار ایسے ملنا جیسے تم خود مجھ پہ فدا ہو جیسے مجسم مہر وفا ہو جیسے بت ہو تم نہ خدا ہو

    مزید پڑھیے

    فاصلہ

    نہ پھر وہ میں تھا نہ پھر وہ تم تھے نہ جانے کتنی مسافتیں درمیاں کھڑی تھیں اس ایک لمحے کے آئینے پر نہ جانے کتنے برس پریشان دھول کی طرح سے جمے تھے جنہیں رفاقت سمجھ کے ہم دونوں مطمئن تھے اس ایک لمحے کے آئینے میں جب اپنے اپنے نقاب الٹ کر خود اپنے چہروں کو ہم نے دیکھا تو ایک لمحہ وہ ایک ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 2