Akhtar Payami

اختر پیامی

ترقی پسند ادبی نظریے سے وابستہ شاعر، روز مرہ کے مسائل و موضوعات کو اپنی نظموں میں برتنے کے لیے جانے جاتے ہیں

A poet associated with progressive poetics, known for drawing upon the day-to-day realities of life

اختر پیامی کی نظم

    سالگرہ

    کون گستاخ ہے کیا نام ہے کیوں آیا ہے پہرے والو اسے خنجر کی انی سے روکو اپنی بندوقوں کی نالی سے ڈراؤ اس کو اور اس پر جو نہ مانے اسے توپوں کی سلامی دے دو جشن کا دن ہے مری سالگرہ کا دن ہے آج محلوں میں جلیں گے مہ و انجم کے چراغ آج بجھتے ہوئے چہروں کی ضرورت کیا ہے آج مایوس نگاہوں کی ضرورت ...

    مزید پڑھیے

    خود کشی سے پہلے

    زندگی ناچ کہ ہر لمحہ ہے جنت بہ کنار دیکھ یہ لب ہیں یہ آنکھیں یہ گلابی رخسار پھر نہ آئے گی پلٹ کر تری دنیا میں بہار آج کی رات غنیمت ہے چراغاں کر لیں ایک انگڑائی جو لی کھل گئیں کالی زلفیں پھر مجھے کھینچ رہی ہیں یہ گھنیری پلکیں دیکھ ہیجان سے لرزاں ہیں یہ عارض کی رگیں آج اس جنس گراں ...

    مزید پڑھیے

    کشمیر

    سرخ پھولوں سے لہو پھوٹ رہا ہے شاید آج جنت میں جہنم کے نظارے دیکھو آج مزدور کے ماتھے کا پسینہ بن کر آسمانوں سے بھی ٹوٹیں گے ستارے دیکھو آج محکوم نگاہوں کو جلال آیا ہے راکھ کی گود میں پلتے ہیں شرارے دیکھو آج ایوان حکومت کے ستوں کانپ اٹھے کس طرح مڑ گئے یہ خون کے دھارے دیکھو جبر اور ...

    مزید پڑھیے

    شناسائی

    رات کے ہاتھ پہ جلتی ہوئی اک شمع وفا اپنا حق مانگتی ہے دور خوابوں کے جزیرے میں کسی روزن سے صبح کی ایک کرن جھانکتی ہے وہ کرن درپئے آزار ہوئی جاتی ہے میری غم خوار ہوئی جاتی ہے آؤ کرنوں کو اندھیروں کا کفن پہنائیں اک چمکتا ہوا سورج سر مقتل لائیں تم مرے پاس رہو اور یہی بات کہو آج بھی حرف ...

    مزید پڑھیے

    اے نگار وطن

    تجھے کچھ اس کی خبر بھی ہے اے نگار وطن ترے لئے کوئی سینہ فگار ہے اب بھی اٹھا چکا ہوں فریب وفا کے داغ مگر شکستہ دل کو ترا اعتبار ہے اب بھی ہزاروں کاہکشاں نے بچھائے جال مگر مری نظر میں تری رہ گزار ہے اب بھی وہ ایک قطرہ جو ٹپکا تھا تیرے دامن پر وہ ایک نقش مرا شاہکار ہے اب بھی وہ ایک لمحہ ...

    مزید پڑھیے

    لمس آخری

    نہ رؤو جبر کا عادی ہوں مجھ پہ رحم کرو تمہیں قسم مری وارفتہ زندگی کی قسم نہ رؤو بال بکھیرو نہ تم خدا کے لیے اندھیری رات میں جگنو کی روشنی کی قسم میں کہہ رہا ہوں نہ رؤو کہ مجھ کو ہوش نہیں یہی تو خوف ہے آنسو مجھے بہا دیں گے میں جانتا ہوں کہ یہ سیل بھی شرارے ہیں مری حیات کی ہر آرزو جلا ...

    مزید پڑھیے

    یہ عورتیں

    سوچ لو سوچ لو جینے کا یہ انداز نہیں اپنی بانہوں کا یہی رنگ نمایاں نہ کرو حسن خود زینت محفل ہے چراغاں نہ کرو نیم عریاں سا بدن اور ابھرتے سینے تنگ اور ریشمی ملبوس دھڑکتے سینے تار جب ٹوٹ گئے ساز کوئی ساز نہیں تم تو عورت ہو مگر جنس گراں بن نہ سکیں اور آنکھوں کی یہ گردش یہ چھلکتے ہوئے ...

    مزید پڑھیے

    گھروندے

    گھنٹیاں گونج اٹھیں گونج اٹھیں گیس بے کار جلاتے ہو بجھا دو برنر اپنی چیزوں کو اٹھا کر رکھو جاؤ گھر جاؤ لگا دو یہ کواڑ ایک نیلی سی حسیں رنگ کی کاپی لے کر میں یہاں گھر کو چلا آتا ہوں ایک سگریٹ کو سلگاتا ہوں وہ مری آس میں بیٹھی ہوگی وہ مری راہ بھی تکتی ہوگی کیوں ابھی تک نہیں آئے ...

    مزید پڑھیے

    شکست

    گھنے درخت کے سائے میں کون بیٹھا ہے تصورات کی سو مشعلیں جلائے ہوئے ریاض و فکر کی لہریں جوان چہرے پر سیاہ زلف مشیت کا دل چرائے ہوئے یہ اضطراب کہ اندر کا دل دھڑکتا ہے یہ ارتعاش کہ کہسار تھرتھرائے ہوئے یہ آدمی نہ کہیں ضبط زندگی سہہ کر مجھی سے چھین لے میرے کنول جلائے ہوئے کہو کہو کسی ...

    مزید پڑھیے

    نیا سال

    پھر نیا سال دبے پاؤں چلا آیا ہے اور مٹتے ہوئے مدھم سے نقوش دور ماضی کی خلاؤں میں نظر آتے ہیں جیسے چھوڑی ہوئی منزل کا نشاں جیسے کچھ دور سے آتی ہوئی آواز جرس کون سہمے ہوئے مایوس دیوں کو دیکھے پھر بھی یہ مجھ کو خیال آتا ہے کتنی نوخیز امیدوں کو سہارے نہ ملے کتنی ڈوبی ہوئی کشتی کو ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 2