جمود
یہ شام شام اودھ نہیں ہے جسے تمہاری سیاہ زلفیں چھپا سکیں گی یہ صبح صبح طرب نہیں ہے یہ اک دھندلکا ہے ایک کہرا ابھرتے سورج کی گرم کرنوں کے خواب سیال ہو گئے ہیں زمین اپنی رگوں کی گرمی لٹا چکی ہے حیات آنسو بہا رہی ہے ہر ایک برگ و ثمر پہ موتی جھلک رہے ہیں تم اپنے آنچل پہ بزم پرویں سجا چکی ...