Akhtar Payami

اختر پیامی

ترقی پسند ادبی نظریے سے وابستہ شاعر، روز مرہ کے مسائل و موضوعات کو اپنی نظموں میں برتنے کے لیے جانے جاتے ہیں

A poet associated with progressive poetics, known for drawing upon the day-to-day realities of life

اختر پیامی کی نظم

    جمود

    یہ شام شام اودھ نہیں ہے جسے تمہاری سیاہ زلفیں چھپا سکیں گی یہ صبح صبح طرب نہیں ہے یہ اک دھندلکا ہے ایک کہرا ابھرتے سورج کی گرم کرنوں کے خواب سیال ہو گئے ہیں زمین اپنی رگوں کی گرمی لٹا چکی ہے حیات آنسو بہا رہی ہے ہر ایک برگ و ثمر پہ موتی جھلک رہے ہیں تم اپنے آنچل پہ بزم پرویں سجا چکی ...

    مزید پڑھیے

    آوارہ

    خوب ہنس لو مری آوارہ مزاجی پر تم میں نے برسوں یوں ہی کھائے ہیں محبت کے فریب اب نہ احساس تقدس نہ روایت کی فکر اب اجالوں میں نہ کھاؤں گی میں ظلمت کے فریب خوب ہنس لو کہ مرے حال پہ سب ہنستے ہیں میری آنکھوں سے کسی نے بھی نہ آنسو پونچھے مجھ کو ہمدرد نگاہوں کی ضرورت بھی نہیں اور شعلوں کو ...

    مزید پڑھیے

    نیا ادب

    ہاں تو میں آپ سے کہتا تھا جناب زندگی جبر کی پابند نہیں رہ سکتی اور ندی اسی دھارے پہ نہیں بہہ سکتی جس میں ماضی کی چتاؤں کے سوا جس میں مرگھٹ کی ہواؤں کے سوا اور تو کچھ بھی نہیں کچھ بھی نہیں ہے شاید آپ بیکار مری بات پہ جھنجھلاتے ہیں کون کہتا ہے کہ ماضی کو برا کہتا ہوں میں کہوں یہ کسی ...

    مزید پڑھیے

    روایات کی تخلیق

    میرے نغمے تو روایات کے پابند نہیں تو نے شاید یہی سمجھا تھا ندیم تو نے سمجھا تھا کہ شبنم کی خنک تابی سے میں ترا رنگ محل اور سجا ہی دوں گا تو نے سمجھا تھا کہ پیپل کے گھنے سائے میں اپنے کالج کے ہی رومان سناؤں گا تجھے ایک رنگین سی تتلی کے پروں کے قصے کچھ سحر کار نگاہوں کے بیاں کچھ جواں ...

    مزید پڑھیے

    خط راہ گزار

    سلسلے خواب کے گمنام جزیروں کی طرح سینۂ آب پہ ہیں رقص کناں کون سمجھے کہ یہ اندیشۂ فردا کی فسوں کاری ہے ماہ و خورشید نے پھینکے ہیں کئی جال ادھر تیرگی گیسوئے شب تار کی زنجیر لیے میرے خوابوں کو جکڑنے کے لیے آئی ہے یہ طلسم سحر و شام بھلا کیا جانے کتنے دل خون ہیں انگشت حنائی کے لیے کتنے ...

    مزید پڑھیے

    شاعر

    آج پھر سنولا رہا ہے عارض روئے حیات موت کے قانون پر ہے زندگی کا گرم ہاتھ جھلملاتا جا رہا ہے تند آندھی میں چراغ مل رہا ہے خون کے قطروں سے منزل کا سراغ آ رہا ہے فاقہ کش مزدور کے چہرے پہ رنگ کھردرے ہاتھوں سے اب ٹکرا رہے ہیں جام و سنگ چھٹ رہی ہے نبض ہستی آ رہا ہے انقلاب اٹھ رہا ہے آج ...

    مزید پڑھیے

    میری شاعری

    زندگی کی سبھی راہوں سے گزرتا ہوں ندیم جائزہ لیتا ہوں ہر موڑ پہ شاعر کا دماغ ہر بدلتے ہوئے منظر پہ نظر رکھتا ہوں اور تاریک سی راتوں میں جلاتا ہوں چراغ زندگی کی سبھی راہوں سے گزرتا ہوں ندیم جھلملاتے ہوئے آنچل میں سکوں ڈھونڈ چکا اک تبسم کے لئے ایک اشارے کے لئے اپنے جذبات میں انداز ...

    مزید پڑھیے

    استقبال

    ابل رہا ہے ترنم چھلک رہی ہے شراب پیو پیو کہ نئے سال کی کرن پھوٹی مگر یہ کون ہے ہر بار مجھ سے کہتا ہے ترا خمار بھی جھوٹا شراب بھی جھوٹی وہ دیکھو بنت کلیسا کی نیلگوں آنکھیں جھکی جھکی سی ہیں پلکیں مگر سبو دے گی یہ چیخ ہاں یہ تمدن کی ایک ہچکی تھی اسی دیار میں انسانیت لہو دے گی مگر لہو ...

    مزید پڑھیے

    پردۂ زنگاری

    دیکھ ان ریشمی پردوں کی حدوں سے باہر دیکھ لوہے کی سلاخوں سے پرے دیکھ سڑکوں پہ یہ آوارہ مزاجوں کا ہجوم دیکھ تہذیب کے ماروں کا ہجوم اپنی آنکھوں میں چھپائے ہوئے ارمان کی لاش قافلے آتے چلے جاتے ہیں زندگی ایک ہی محور کا سہارا لے کر ناچتے ناچتے تھک جاتی ہے ناچتے ناچتے تھک جاتی ہے تیرے ...

    مزید پڑھیے

    ابھی تو میں جوان ہوں

    ابھی تو میں جوان ہوں جوان ہو تو زندگی کی نبض گدگدا تو دو جوان ہو تو وقت کی سیاہیاں مٹا تو دو یہ آگ لگ رہی ہے کیوں اسے ذرا بجھا تو دو ابھی تو میں جوان ہوں جوان ہو تو آندھیوں سے ڈر رہے ہو کس لئے جوان ہو تو بے کسی سے مر رہے ہو کس لئے عروس نو کی طرح تم سنور رہے ہو کس لئے ابھی تو میں جوان ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 2