Akhtar Payami

اختر پیامی

ترقی پسند ادبی نظریے سے وابستہ شاعر، روز مرہ کے مسائل و موضوعات کو اپنی نظموں میں برتنے کے لیے جانے جاتے ہیں

A poet associated with progressive poetics, known for drawing upon the day-to-day realities of life

اختر پیامی کے تمام مواد

20 نظم (Nazm)

    جمود

    یہ شام شام اودھ نہیں ہے جسے تمہاری سیاہ زلفیں چھپا سکیں گی یہ صبح صبح طرب نہیں ہے یہ اک دھندلکا ہے ایک کہرا ابھرتے سورج کی گرم کرنوں کے خواب سیال ہو گئے ہیں زمین اپنی رگوں کی گرمی لٹا چکی ہے حیات آنسو بہا رہی ہے ہر ایک برگ و ثمر پہ موتی جھلک رہے ہیں تم اپنے آنچل پہ بزم پرویں سجا چکی ...

    مزید پڑھیے

    آوارہ

    خوب ہنس لو مری آوارہ مزاجی پر تم میں نے برسوں یوں ہی کھائے ہیں محبت کے فریب اب نہ احساس تقدس نہ روایت کی فکر اب اجالوں میں نہ کھاؤں گی میں ظلمت کے فریب خوب ہنس لو کہ مرے حال پہ سب ہنستے ہیں میری آنکھوں سے کسی نے بھی نہ آنسو پونچھے مجھ کو ہمدرد نگاہوں کی ضرورت بھی نہیں اور شعلوں کو ...

    مزید پڑھیے

    نیا ادب

    ہاں تو میں آپ سے کہتا تھا جناب زندگی جبر کی پابند نہیں رہ سکتی اور ندی اسی دھارے پہ نہیں بہہ سکتی جس میں ماضی کی چتاؤں کے سوا جس میں مرگھٹ کی ہواؤں کے سوا اور تو کچھ بھی نہیں کچھ بھی نہیں ہے شاید آپ بیکار مری بات پہ جھنجھلاتے ہیں کون کہتا ہے کہ ماضی کو برا کہتا ہوں میں کہوں یہ کسی ...

    مزید پڑھیے

    روایات کی تخلیق

    میرے نغمے تو روایات کے پابند نہیں تو نے شاید یہی سمجھا تھا ندیم تو نے سمجھا تھا کہ شبنم کی خنک تابی سے میں ترا رنگ محل اور سجا ہی دوں گا تو نے سمجھا تھا کہ پیپل کے گھنے سائے میں اپنے کالج کے ہی رومان سناؤں گا تجھے ایک رنگین سی تتلی کے پروں کے قصے کچھ سحر کار نگاہوں کے بیاں کچھ جواں ...

    مزید پڑھیے

    خط راہ گزار

    سلسلے خواب کے گمنام جزیروں کی طرح سینۂ آب پہ ہیں رقص کناں کون سمجھے کہ یہ اندیشۂ فردا کی فسوں کاری ہے ماہ و خورشید نے پھینکے ہیں کئی جال ادھر تیرگی گیسوئے شب تار کی زنجیر لیے میرے خوابوں کو جکڑنے کے لیے آئی ہے یہ طلسم سحر و شام بھلا کیا جانے کتنے دل خون ہیں انگشت حنائی کے لیے کتنے ...

    مزید پڑھیے

تمام