Akhtar Jameel Nazmi

اختر جمیل نظمی

  • 1931 - 1997

اختر جمیل نظمی کی غزل

    الجھنیں اور بڑھاتے کیوں ہو

    الجھنیں اور بڑھاتے کیوں ہو مجھ کو ہر بات بتاتے کیوں ہو میں غلط لوگوں میں گھر جاتا ہوں تم مجھے چھوڑ کے جاتے کیوں ہو دن مرا کاٹے نہیں کٹتا پھر تم ذرا دیر کو آتے کیوں ہو میں نہیں ہاتھ لگانے والا اس قدر خود کو بچاتے کیوں ہو یہ بھی تسکین کی صورت ہے کوئی اس کے خط سب کو دکھاتے کیوں ...

    مزید پڑھیے

    سب یہ باتیں کہاں سمجھتے ہیں

    سب یہ باتیں کہاں سمجھتے ہیں درد کی ہم زباں سمجھتے ہیں کاروباری نہیں ہیں سب لیکن اپنا سود و زیاں سمجھتے ہیں جانتے ہیں کہ کیوں اٹھا لنگر کیوں کھلا بادباں سمجھتے ہیں ان سے مل کر بھی وہ ملا ہی نہیں جو اسے بے زباں سمجھتے ہیں کون کیسا ہے کس کی نظروں میں لوگ یہ سب کہاں سمجھتے ہیں اب ...

    مزید پڑھیے

    مسلسل چلا رہ گزر میں رہا

    مسلسل چلا رہ گزر میں رہا مرا آب و دانہ سفر میں رہا میں اپنی گھٹن اپنے دل میں لئے ہمیشہ ہوا دار گھر میں رہا نظر سے کئی لوگ گزرے مگر وہی ایک چہرہ نظر میں رہا مجھے بھی خوشی ڈھونڈنے آئی تھی مگر ان دنوں میں سفر میں رہا کسی پر توجہ کسی نے نہ دی مرا عیب سب کی نظر میں رہا مجھے خود بھی ...

    مزید پڑھیے

    راہگیروں سے ربط پیدا کر

    راہگیروں سے ربط پیدا کر دور جانا ہے بات سمجھا کر رات پر دن کا کوئی قرض نہیں ذہن کو صاف رکھ کے سویا کر کیا مرا ہم خیال کوئی نہیں تو اگر ہے تو ہاتھ اونچا کر رات بھر جاگنے سے کیا حاصل خواب کا راستہ نہ روکا کر فاصلے سوچنے نہیں دیتے مجھ کو دیکھو مرے قریب آ کر عکس کب کون سا ابھر ...

    مزید پڑھیے