Akhtar Imam Rizvi

اختر امام رضوی

اختر امام رضوی کی غزل

    دل وہ پیاسا ہے کہ دریا کا تماشا دیکھے

    دل وہ پیاسا ہے کہ دریا کا تماشا دیکھے اور پھر لہر نہ دیکھے کف دریا دیکھے میں ہر اک حال میں تھا گردش دوراں کا امیں جس نے دنیا نہیں دیکھی مرا چہرہ دیکھے اب بھی آتی ہے تری یاد پہ اس کرب کے ساتھ ٹوٹتی نیند میں جیسے کوئی سپنا دیکھے رنگ کی آنچ میں جلتا ہوا خوشبو کا بدن آنکھ اس پھول کی ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 2