زندگی میں جیت کے کیا کر لیا ہے
زندگی میں جیت کے کیا کر لیا ہے
اور زیادہ خود کو تنہا کر لیا ہے
اک تجھے اپنا بنانے کی طلب میں
جانے کتنوں کو ہی رسوا کر لیا ہے
کر لیا ہے خود کو چھت ماں باپ نے اور
جسم کا بچوں پہ سایہ کر لیا ہے
عشق کا انجام اس نے بھی نہ پوچھا
ختم ہم نے بھی یہ قصہ کر لیا ہے
میں لڑا تھا واسطے جس کے سبھی سے
پھر اسی نے مجھ سے جھگڑا کر لیا ہے