وہ جینے بھی نہیں دیتا وہ مرنے بھی نہیں دیتا
وہ جینے بھی نہیں دیتا وہ مرنے بھی نہیں دیتا
وہ مجھ کو اپنے پہلو میں ٹھہرنے بھی نہیں دیتا
سناؤں میں کسے یہ جو کہانی اس سفر کی ہے
شجر ہے اک کہیں جو سایہ کرنے بھی نہیں دیتا
نشاں دکھنے لگے ہیں جب سے چہرے پہ جدائی کے
یہ شیشہ چین سے مجھ کو سنورنے بھی نہیں دیتا
یوں تو روتا ہے ہر اک شخص ہجر یار میں تانیؔ
غرور اپنا ہے جو اب آہیں بھرنے بھی نہیں دیتا