ضرورت

مہک کا دل اسے چھونے کے لئے تڑپ رہا تھا ۔ دسترس میں ہوتے ہوئے بھی اس کے بس میں کچھ نہیں تھا ۔۔۔ وہ اس کا شوہر تھا ۔۔۔
اس کے بچوں کا باپ ، اس کا کفیل ۔۔ اس کے سر کا تاج ۔۔ اس کو معاشرے میں عزت دینے والا ۔ اس کے جسم پر ایک مدت تک اپنا حق جتا کر حکومت کرنے والا ۔۔ ۔۔ ۔۔۔
آج وہ اس کا محتاج تھا ۔۔ بے بس تھا ۔
مہک نے میک اپ کی آخری تہہ اپنے سرد چہرے پر لگائی ۔ ساری کا پلو سیٹ کیا اور گجرے پہن کر گھڑی دیکھنے لگی ۔۔ گھڑی کی دیوار کے عین نیچے دروازے کے کھلے پٹ سے اس کی نظر شوہر کی وہیل چیئر پر پڑی شوہر کی بے جان ٹانگوں پر پڑیں ۔ اس سے اوپر نظر اٹھانے کی اس میں ہمت نہیں تھی ۔۔۔ اس نے جلدی سے اپنا منہ مین گیٹ کی طرف موڑ لیا ۔ رات کے دس بجے تھے ۔ بچے سو گئے تھے ۔ وہ اپنے سوئے ہوئے جذبات کو جگاتی ہوئی، ہارن کی آواز پر باہر چلی گئی ۔۔۔۔
اس کے شوہر نے حسب معمول اسے باہر جاتے دیکھا ۔ ۔۔۔۔گولیاں اس کی ریڑھ کی ہڈی میں ایسی جگہ لگی تھیں کہ اس کا نچلا دھڑ بے کار ہوچکا تھا ڈاکٹرز نے اس کی ساری جمع پونچی ہتھیانے کے بعد جواب دے دیا تھا ۔۔۔ اس نے حسب معمول جاتی ہوئ اپنی بیوی کی کمر کو دیکھا جو دن بہ دن ننگی اور پتلی ہوتی جا رہی تھی ۔۔