اردو شاعری میں ہولی کے رنگ


جب پھاگن رنگ جھمکتے ہوں تب دیکھ بہاریں ہولی کیاور دف کے شور کھڑکتے ہوں تب دیکھ بہاریں ہولی کیپریوں کے رنگ دمکتے ہوں تب دیکھ بہاریں ہولی کیخم، شیش، جام چھلکتے ہوں تب دیکھ بہاریں ہولی کیجب ہندوستانی تیج تیوہاروں کے حوالے سے اردو شاعری پر گفتگو ہوتی ہے تو ذہن میں سب سے پہلا نام نظیرؔ اکبرآبادی کا آتا ہے۔ نظیرؔ ایسے شاعر ہوئے ہیں جنھیں پہلا عوامی شاعر کہاجاتا ہے۔ جب اردو شاعری کی قندیل بادشاہوں کے محلوں اور نوابوں کی محفلوں کو منور کر رہی تھی، اسی دوران نظیرؔ اردو زبان وادب کو عوام الناس میں مقبول بنا رہے تھے۔ جس دور کے شعراء بادشاہوں اور اہلِ منصب کی مدح میں قصیدے تحریر کررہے تھے، نظیراکبرآبادی عوامی موضوعات پر شاعری کر رہے تھے۔ بعد کے دور نے یہ ثابت کیا کہ مال وزر کی لالچ میں کہے گئے قصیدے کبھی کلیات سے باہر نہیں نکل سکے مگر عوامی موضوعات نے اس ملک کے لوگوں کے دل کو چھوا اور یہی سبب ہے کہ مدت گزرنے کے بعد بھی وہ مقبول ہیں۔ بھارت ایک قدیم ملک ہے، جہاں آئے دن مختلف تیج تیوہار منائے جاتے رہتے ہیں۔ انھیں تیوہاروں میں سے ایک ہولی بھی ہے۔ ہولی موسم بہار میں منایا جانے والا ایک اہم بھارتی تہوار ہے۔ یہ تہوار ہندو تقویم کے مطابق پھاگن ماس کی پورے چاند کو منایا جاتا ہے۔ رنگوں کا تہوار کہا جانے والا یہ تہوار روایتی طور پر دو دن منایا جاتا ہے۔ بھارت اور نیپال میں زیادہ اہمیت سے منایا جاتا ہے۔ یہ تہوار بہت سے دیگر ممالک جن میں اقلیتی ہندو لوگ رہتے ہیں وہاں بھی دھوم دھام کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ پہلے دن کو الاؤ جلائی جاتی ہے، جسے الاؤ دہن یا ہولیکا دہن کہتے ہے۔ جب کہ دوسرے دن لوگ ایک دوسرے پر رنگ، عبیر، گلال وغیرہ پھینکتے ہیں، ڈھول بجا کر ہولی کے گیت گائے جاتے ہیں اور گھر گھر جا کر لوگوں کو رنگ لگایا جاتا ہے۔ ایسا مانا جاتا ہے کہ ہولی کے دن لوگ پرانی ترشی کو بھول کر گلے ملتے ہیں اور پھر سے دوست بن جاتے ہیں۔ ایک دوسرے کو رنگنے اور گانے، بجانے کا دور دوپہر تک چلتا ہے۔ اس کے بعد غسل کر کے آرام کرنے کے بعد نئے کپڑے پہن کر شام کو لوگ ایک دوسرے کے گھر ملنے جاتے ہیں، گلے ملتے ہیں اور مٹھائیاں کھلاتے ہیں۔ راگ، رنگ کا یہ مقبول تہوار موسم بہار کا پیامی مانا جاتا ہے۔ پھالگن ماہ میں منائے جانے کی وجہ اسے پھگوا بھی کہتے ہیں۔ ہولی کا تہوار وسنت پنچمی سے ہی شروع ہو جاتا ہے۔ اسی دن پہلی بار گلال اڑایا جاتا ہے۔ اس دن سے پھاگ اور دھمار کاگانا شروع ہو جاتا ہے۔ کھیتوں میں سرسوں کھل اٹھتی ہے۔ باغوں میں پھولوں کی پرکشش چھٹا چھا جاتی ہے۔ پیڑ، پودے، جانور، پرند اور انسانوں سب مسرت سے بھر جاتے ہیں۔ کھیتوں میں گندم مکئی اٹھلانے لگتی ہیں۔ کسانوں کا دل خوشی سے ناچ اٹھتا ہے۔ بچے، بوڑھے تمام افراد ڈھول، تاشے، جانجھ منجیرے کی دھن پر رقص ورنگ میں ڈوب جاتے ہیں۔ تاریخ دانوں کا خیال ہے کہ قدیم زمانے سے یہ تہوار منایا جارہا ہے لیکن مشرقی بھارت میں یہ زیادہ جوش وخروش کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ اس تہوار کا بیان کئی قدیم مذہبی کتابوں میں ملتا ہے۔ پرانوں میں بھی اس تہوار کا ذکر ملتا ہے۔ سنسکرت ادب میں بسنت خزاں اور وسنت ا تسو متعدد شاعروں کے پسندیدہ موضوع رہے ہیں۔ مشہور مسلم سیاح البرونی نے بھی اپنے تاریخی سفر ی یادداشتوں میں ہولی کاذکر کیا۔ ہندوستان کے کئی مسلم شاعروں نے اپنی تخلیقات میں اس بات کا ذکر کیا ہے کہ ہولی اتسو صرف ہندو ہی نہیں مسلمان بھی مناتے ہیں۔ مغل دور کی مستند تاریخی کتابوں میں اکبر کا اپنی بیوی کے ساتھ ہولی کھیلنے کا ذکر ملتا ہے جب کہ جہانگیر نے بھی نورجہاں کے ساتھ ہولی کھیلا تھا۔ الور میوزیم کی ایک تصویر میں جہانگیر کو ہولی کھیلتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ شاہ جہاں کے وقت تک ہولی کھیلنے کا انداز بدل گیا تھا۔ تاریخ میں بیان ہے کہ شاہ جہاں کے زمانہ میں ہولی کو ’’عید ِگلابی‘‘ یا ’’عید ِ آب پاشی‘‘ (رنگوں کی بوچھارکا تہوار) کہا جاتا تھا۔ آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کے بارے میں مشہور ہے کہ ہولی پر ان کے وزیر انہیں رنگ لگانے جایا کرتے تھے۔ قدیم پینٹنگز، اور مندروں کی دیواروں پر اس جشن کی تصاویر ملتی ہیں۔ وجے نگر اور احمد نگر کی ریاستوں میں بھی ہولی کھیلنے کی تاریخی رویات ملتی ہیں۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ شاہی محلات میں بھی رنگ کھیلنے اور خوشیاں منانے کا رواج تھا۔ اس موقع پر تحفے تحائف کے تبادلے کی بھی روایت ملتی ہے۔ ہولی کے تہوار سے جڑی ہوئی متعدد اساطیری روایات ہیں۔ ان میں سے سب سے زیادہ مشہور کہانی پرہلاد کی مانی جاتی ہے۔ ہولی کے تہوار کی طرح اس کی روایتیں بھی انتہائی قدیم ہیں اور اس کا فارمیٹ اور مقصد وقت کے ساتھ بدلتا رہا ہے۔ قدیم دور میں یہ شادی شدہ خواتین کی طرف سے خاندان کی خوشی کے لئے منایا جاتا تھا اور مکمل چاند کی عبادت کرنے کی روایت تھی۔ ویدک دور میں اس تہوار کو نواتریشٹ یشتھ کہا جاتا تھا۔ اس جشن کے بعد ہی چیت مہینے کا آغاز ہوتا ہے۔ بھارت میں ہولی کا تہوار الگ الگ علاقوں میں مختلف طریقے سے منایا جاتا ہے۔ برج کی ہولی آج بھی پورے ملک کی توجہ کا مرکزہوتی ہے۔ برسانے کی لٹھمار ہولی کافی مشہور ہے۔ اس میں مرد عورتوں پر رنگ ڈالتے ہیں اور خواتین ان کو لاٹھیوں اور کپڑے کے بنائے گئے کوڑوں سے مارتی ہیں۔ اسی طرح متھرا اور ورنداون میں بھی 15 دنوں تک ہولی کا تہوار منایا جاتا ہے۔ مغربی بنگال میں گیندے کے پھولوں کی ہولی کا رواج ہے، جب کہ ہریانہ میں بھابھی کی طرف سے دیور کو ستائے جانے کی رسم ہے۔ اس کے علاوہ مہاراشٹر کی رنگ پنچمی میں خشک گلال کھیلنے، گوا کے شمگومیں جلوس نکالنے کے بعد ثقافتی پروگراموں کے انعقاد کا رواج ہے۔ جنوبی گجرات کے قبائلیوں کے لئے ہولی سب سے بڑا تہوار ہے، چھتیس گڑھ کی ہوری میں لوک گیتوں کی حیرت انگیز روایت ہے اور مدھیہ پردیش کے مالوا اچل کے قبائلی علاقوں میں بے حد دھوم دھام سے منایا جاتا ہے بھگوا۔ بہار کا پھگوا جم کر موج مستی کرنے کا موقع ہے اور نیپال کی ہولی پر مذہبی و ثقافتی رنگ دکھائی دیتا ہے۔ اسی طرح مختلف ممالک میں آباد تارکین وطن اپنے طریقے سے ہولی مناتے ہیں۔ اردو شاعری میں ہولی کا رنگاردو شاعری میں ہندوستانی تہذیب کے صدہا رنگ پوری قوت اور جاذبیت کے ساتھ نظر آتے ہیں۔ بے شمار شاعروں نے ہندوستانی تیوہاروں کو اپنی شاعری کا موضوع بنایا ہے اور ان میں سب سے نمایاں نام نظیر ؔ اکبر آنادی کا کاہے۔ انھوں نے جس طرح سے شب برأت، عید وغیرہ پر نظمیں کہیں اسی طرح ہولی اور دیوالی پر بھی نظمیں کہی ہیں۔ انھوں نے جو کچھ لکھا ہے وہ بے مثال ہے۔ ان کی ’’ہولی‘‘ کی ابتدا یوں ہوتی ہے۔ آجھمکے عیش وطرب کیا کیا، جب حسن دکھایا ہولی نے ہر آن خوشی کی دھوم ہوئی، یوں لطف جتایا ہولی نے ہر خاطر کو خُرسند کیا، ہر دل کو لبھایا ہولی نے دف رنگیں نقش سنہری کا جس وقت بجایا ہولی نے بازار گلی اور کوچوں میں غل شور مچایا ہولی نے اس سلسلے میں مولانا حسرت موہانی نے بہت کم لکھا ہے مگر بہت خوب لکھا ہے۔ مو پہ رنگ نہ ڈار مراریبنتی کرت ہوں تہاریپنیا بھرن کا جائے نہ دیہیں شیام بھرے پچکاریتھر تھر کانپن لاجن حسرتؔدیکھت ہیں نرنارینظیر اکبرآبادی کی شناخت اردو کے ایک ایسے شاعر کے طور پر کی گئی ہے جو سب سے زیادہ عوامی موضوعات کو اپنی شاعری کے لئے منتخب کرتا ہے۔ انھوں نے ہولی اور دیوالی پر بہت سی نظمیں کہی ہیں، لیکن ایسا نہیں کہ اردو شاعروں میں صرف نظیر نے ہی ایسے موضوعات چنے ہیں، بلکہ دوسرے شاعروں نے بھی ہندوستانی تیج تیوہاروں پر نظمیں کہی ہیں۔ ہولی پر اردو میں خوب نظمیں لکھی گئی ہیں۔ ایسے شاعروں میں ایک قدآورشاعر گزرے ہیں بالمکند عرشؔ ملسیانی۔ عرشؔ کی ہولی پر ایک بے حد خوبصورت نظم ہے جس کی ابتدا یوں ہوتی ہے۔ چہرۂ زندگی ہوا ہے لالاڑرہاہے عبیر اور گلالگرہِ دل آج رت نے کھولی ہے ہر طرف شور ہے کہ ہولی ہے جس کی پوچھو اسی کی آج ہے جیتجس کو دیکھو وہ گارہا ہے گیتعرش کے علاوہ بیکل اتساہی نے بھی اس موضوع پر بہت کچھ لکھا ہے اور انتہائی خوبصورت لکھا ہے۔ ان کے علاوہ بھی اردو میں اس بارے میں بہت کچھ لکھا گیا ہے جن کا اگر تذکرہ بھی کیا جائے تو ایک دفتر کی ضرورت ہے۔