کیسا ہوگا دیس پیا کا کیسا پیا کا گاؤں رے

کیسا ہوگا دیس پیا کا کیسا پیا کا گاؤں رے
کیسی ہوگی دھوپ وہاں کی کیسی وہاں کی چھاؤں رے


چاندی جیسے پیڑ وہاں کے ہیرے موتی پھول و پھل
سونے کی پیلی دھرتی پر رکھتے ہوں گے پاؤں رے


پی پی پپیہے بولتے ہوں گے کانوں میں رس گھولتے ہوں گے
ٹھمری ہوگی کوئل کی کو کجری کاگا کی کاؤں رے


کانہا ہوں گے لوگ وہاں کے رادھا ہوں گی بالائیں
پیار کی بنسی بجتی ہوگی ہر سمے ہر ٹھاؤں رے


لاج سے ہائے مر جاؤں گی میں مٹی میں گڑ جاؤں گی
جب سکھیاں مجھ کو چھیڑیں گی لے کر پی کا ناؤں رے