Mohammad Abid Ali Abid

محمد عابد علی عابد

محمد عابد علی عابد کے تمام مواد

12 غزل (Ghazal)

    نہ بخشا گل کو بھی دست قضا نے

    نہ بخشا گل کو بھی دست قضا نے بہت منت سماجت کی صبا نے سفر میں رہنمائی کے بہانے لگایا برق نے مجھ کو ٹھکانے سلاسل توڑنا مشکل نہیں تھا مجھے روکا سدا عہد وفا نے سوا تیرے نہیں کچھ دیدنی ہے مناظر ہیں سبھی صدیوں پرانے توازن رشتوں میں رکھا ہے قائم جفا نے آپ کی میری وفا نے

    مزید پڑھیے

    پتھر ہو کہ فولاد ہو ڈرنے کا نہیں میں

    پتھر ہو کہ فولاد ہو ڈرنے کا نہیں میں اب صورت آئینہ بکھرنے کا نہیں میں جو ذات کا میری ہے خلا چیز دگر ہے جو بھر بھی گئے زخم تو بھرنے کا نہیں میں دیکھیں نہ نظر بھر کے مجھے دیر تلک آپ جو چڑھ گیا نظروں میں اترنے کا نہیں میں کی بادہ کشی ترک معابد کے مقابل اب اس سے زیادہ تو سدھرنے کا ...

    مزید پڑھیے

    اسے ملال ہو کیا دوست کی جدائی کا

    اسے ملال ہو کیا دوست کی جدائی کا جو سہہ چکا ہو غم و رنج آشنائی کا بھلائی میں بھی نکالا سبب برائی کا بنا دیا ہے عدو نے پہاڑ رائی کا یہ چاند تارے یہ سورج ہیں کیا دریچے ہیں تجھے بھی شوق ہے گویا کہ خود نمائی کا تڑپتا دیکھ کے چرکے لگائے بسمل کو ستم تو ٹھیک پہ عالم تری ڈھٹائی کا میں ...

    مزید پڑھیے

    مرا رفیق پس جسم و جان زندہ رہا

    مرا رفیق پس جسم و جان زندہ رہا یقین مردہ ہوا پر گمان زندہ رہا جہاں وہ رہتا تھا اب اس کی یاد رہتی ہے مکیں بغیر بھی گویا مکان زندہ رہا بس اس کے ہونے کا احساس ہے غرض کہ خدا وجود واہمے کے درمیان زندہ رہا سخن سے فائدہ کچھ ہو تو کوئی بولے بھی میں جس جگہ بھی رہا بے زبان زندہ رہا تمام ...

    مزید پڑھیے

    جاننے کے لئے بیتاب تھا اغیار کا حال

    جاننے کے لئے بیتاب تھا اغیار کا حال اس نے پوچھا نہ ہمارے دل بیمار کا حال شمع بھی جلنے پہ آمادہ تھی پروانہ بھی ایک جیسا ہی تھا مطلوب و طلبگار کا حال سوگواری میں ہماری تھے برابر کے شریک ہم سے ملتا تھا ہمارے در و دیوار کا حال سرو تمثال ہے قامت میں شباہت میں گلاب کیا بیاں سامنے اس ...

    مزید پڑھیے

تمام