افسانہ

پنچایت

مہاراج رام لال مدن پور گاؤں کے پروہت تھے۔ بڑے ہنس مکھ اور ملنسار تھے۔ کسرت کا خاص شوق تھا۔ جوانی میں انہوں نے کئی کشتیاں ماری تھیں۔ دور دور تک ان کی پہلوانی کا شہرہ تھا۔ مگر اب بڈھے ہوچکے تھے۔ اب خود تو کشتی لڑ نہیں سکتے تھے، بلکہ اکھاڑے کے کنارے کھڑے ہوکر اپنے شاگردوں کو داؤ پیچ ...

مزید پڑھیے

واپسی کا سفر

ائیر پورٹ کے لاؤنج میں بنے ہوئے کیفیڑیا کی بڑے بڑے شیشوں والی کھڑکی سے باہر کا منظر ایک تصویر کی طرح نظر آ رہا تھا۔ باہر دو ر تک برف کی چادر پھیلی تھی، بے برگ درختوں کی شاخوں پر کہیں کہیں برف اٹکی ہوئی تھی، دور بہت دور سڑک کے اس پار کسی تنہا مکان کے دروازے پر کر سمس گذرجانے کے ہفتے ...

مزید پڑھیے

اس ملبے میں

گھر پر مستقل ٹی دی دیکھ دیکھ کر دماغ اُڑا جا رہا تھا تو میں گاڑی نکال کر یوں ہی بے مقصد سڑکو ں پر گھومتا رہا۔سہ پہر کا وقت مجھے ہمیشہ اداس کردیتا ہے اور آج تو سار ا شہر ہی سائیں سائیں کرتا ہو ا لگ رہا تھا ۔ سرسبز درختوں سے گھری صاف شفاف سڑکوں پر گھنٹوں گاڑی گھمانے کے بعدنہ جانے ...

مزید پڑھیے

آسمان میں کھڑکی

زہرہ!زہرہ ! دونوں وقت مل رہے ہیں نیچے آؤ! کیسی باتیں ہیں تم لوگوں کی جو ختم ہی نہیں ہوتیں، دن میں کالج میں دونوں ساتھ رہتی ہو مگر پھر بھی نجمہ کے ساتھ گھنٹوں چھت پر ٹہل ٹہل کر باتیں کرنا ضروری ہے ‘‘ دادی کی آواز آئی۔ دادی کی آواز سے میری آنکھ کھل گئی ۔ لیکن نہ وہ مظفر نگر والا گھر ...

مزید پڑھیے

الٰہی یہ جلسہ کہاں ہورہا ہے

مجھے امام باڑے تک پہنچنے میں کافی دیر ہوگئی تھی آج سیٹرڈے نائٹ تھی اور وہ بھی گرمی کے موسم میں ،لہٰذا ٹریفک بہت تھا اور مزید مصیبت یہ ہوئی کہ جس راستہ سے مجھے آنا تھا وہ (Forum)فورم اسٹیڈیم کے سامنے سے ہوکر گذرتا تھا، آج فورم میں شاید کسی مشہور سنگرکا کا نسرٹ تھا ٹریفک اور بھیڑ کی ...

مزید پڑھیے

انتم سنسکار

ڈیوڑھی نما بڑے دروازے میں داخل ہوکر بیری والا باغ محلہ شروع ہوتا تھا جہاں پھوپی جان کا گھر تھا۔ دروازے سے داخل ہوتے ہی بیچ کی نسبتاََ چوڑی گلی سے دائیں بائیں پتلی پتلی گلیاں نکلتی تھیں جہاں پرانے مکان تھے جو مسلمان پاکستان جاتے وقت چھوڑ گئے تھے اور ان میں مغربی پنجاب سے آئے ...

مزید پڑھیے

ڈیڈ اِنڈ

میں راستہ بھی تو نہیں بدل سکتی ،آفس آتے جاتے روز اسی بلڈنگ کے سامنے سے گذرنا ہوتا ہے۔۔۔ سال بھر سے زیادہ ہوگیا ، لیکن جب بھی یہاں سے گذرتی ہوں تو کھڑکی سے وہ چہرے جھانکتے نظر آتے ہیں، اور خاص طور پر وہ چاند سا چہرہ۔۔۔ ہمیشہ سوچتی ہوں کی اس کھڑکی اور بالکنی کی طرف دیکھوں بھی نہیں ...

مزید پڑھیے

قصوروار

دھائیں۔۔۔گولی چلنے کی آواز۔۔۔ بند کمرے سے بلند ہوتی ہوئی چیخ ۔۔۔کال بیل بج رہی ہے۔۔۔ مسز شیخ ؟۔۔۔سامنے پولیس آفیسر اپنی ٹوپے اتارکر سر جھکا کر کہہ رہا ہے۔۔۔ I have a bad news for you۔۔۔یہ خط ہے آپ کے نام۔۔۔پھر کہیں گولی چلی ۔۔۔ ثروت گھبراکر اٹھ بیٹھی ، سارا جسم پسینے سے تر ہورہا تھا گھڑی ...

مزید پڑھیے

گھر لوٹ کے جانے کا تصّور

آج جمعے کی شام تھی اسلئے بطحیٰ کے بازار میں بہت بھیڑ تھی ۔ہمیشہ کی طرح ٹیکسیوں اور پرائیوٹ کاروں کادریا سا بہہ رہا تھا۔ سار ابازار برقی روشنیوں سے روشن تھا۔ الکٹرونک سامان بنانے والی مشہور کمپنیوں ، سونی ، L۔G ، سنسو ئی ، سیمسنگ کے بڑے بڑے بورڈ وں سے سجی دکانیں ہمیشہ کی طرح ...

مزید پڑھیے

الہ دین کا چراغ

شادی میں آئے ہوئے سارے مہمان رخصت ہو چکے تھے ،آج ہماری روانگی تھی۔اس بار اماں نے اپنے میکے کے گاؤں سے ایک بچے کو ہمارے ساتھ جانے پر راضی کر لیا تھا۔ ا س بار منو بھی ہمارے ساتھ جا رہا تھا ۔ ڈیوڑھی کے پاس سب سامان بندھا ہو ا رکھا تھا، باہر جیپ تیار کھڑی تھی۔منو برآمدے کے ستون سے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 209 سے 233