قرآن فہمی کے بنیادی اصول کیا ہیں؟

قرآن مجید کے الفاظ میں خیرو برکت ہے، اس کی تلاوت میں سکونِ قلب ہے۔ اس کے معافی میں ہدایت و راہ نمائی ہے، اس کے پڑھنے اور پڑھانے میں عظمت و فضیلت ہے، اور اس پر عمل کرنے میں انسان کی ابدی سعادت اور اُخری نجات ہے۔قرآن پاک اللہ تعالیٰ کی اُتاری ہوئی ایک عظیم نعمت ہے۔ اس نے ایک مکمل اور جامع ضابطۂ حیات ہمیں دیا ہے۔ اللہ کا جو بندہ اس کے مطابق زندگی گزارے، وہی پکا مومن، وہی متقی، وہی صالح اور محبوب خدا ہے۔ ہم مسلمانوں پر اس کتاب کے درج ذیل حقوق ہیں:

قرآن پر ایمان لانا:

قرآن پر ایمان لانے کا مطلب یہ ہے کہ زبان سے اس کا اقرار کیا جائے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا نازل کردہ آخری کلام ہے، جو ہمارے پیارے نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر عربی زبان میں نازل ہوا۔ اس کے ہر حرف، لفظ، آیت اور سورت پر ایمان لانا فرض عین ہے۔ اس کا منکر دائرہ اسلام سے خارج اور کافر ہے۔ یہ بھی ایمان رکھنا چاہیے کہ جب سے یہ قرآن نازل ہوا ہے، اس وقت سے لے کر آج تک اس میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ اس بات پر ایمان لانا کہ جو کچھ اس میں ہے وہ حق ہے۔

قرآن حکیم کی تلاوت کرنا:

قرآن کا دوسرا حق یہ ہے کہ اسے صبح و شام پڑھا جائے۔ اس کی تلاوت عبادت ہونے کے ساتھ ایمان کو تروتازہ رکھنے کا ذریعہ بھی ہے۔ اس کی تلاوت روح کی غذا ہے۔ اس سے اللہ تعالیٰ کا قرب ہونے کا شرف حاصل ہوتا ہے۔ حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا، ’’جب تم میں سے کوئی یہ چاہے کہ اپنے رب سے گفتگو کرے تو اسے قرآن مجید پڑھنا چاہیے‘‘۔

اس کے ایک ایک حروف کی تلاوت پر دس دس نیکیاں ملتی ہیں۔ قرآن پڑھنے سے رزق میں برکت ہوتی ہے، گھر میں انوار و تجلیات اور رحمتِ الٰہی کی بارش ہوتی ہے۔ اس سے دل کو سکون کی دولت میسر آتی ہے۔ قرآن کی برکت سے بیماروں کو شفاء ملتی ہے اور تنگ دستوں کی تنگ دستی دور ہوتی ہے۔

قرآن کو سمجھنا:

قرآن کا تیسرا حق یہ ہے کہ اسے سمجھا جائے۔اس کا سمجھنا اللہ تعالیٰ نے بہت آسان فرما دیا ہے۔ ارشاد باری ہے، ’’ہم نے اس قرآن میں (عجائبات قدرت اور امثالِ عبرت و نصیحت کو) طرح طرح سے بیان کر دیا ہے، تاکہ اسے اچھی طرح سمجھا جائے‘‘۔ (سورۂ بنی اسرائیل)اسے سمجھنے کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ ہم اپنی اور کائنات کی تخلیق کے مقصد سے واقف ہو جائیں اور احکام الٰہی سے باخبر ہوکر ان پر عمل کریں اور اپنے لیے دین و دنیا میں کام یابی کا سامان پیدا کریں۔قرآن کریم میں غور و فکر سے قرآنی تعلیمات سے پوری طرح فائدہ اُٹھایا جاسکتا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے، ’’یہ ایک بابرکت کتاب ہے جسے ہم نے آپ ﷺ پر اس لیے نازل فرمایا، تاکہ لوگ اس کی آیتوں میں غور و فکر کریں اور اہل عقل نصیحت حاصل کریں۔‘‘ (سورۂ ص: آیت 29)

قرآن پر عمل کرنا:

قرآن مجید کا مسلمانوں پر چوتھا حق یہ ہے کہ وہ اس کی تعلیمات پر عمل کریں۔ یہ بنیادی طور پر ایک کتاب ہدایت ہے اور اللہ تعالیٰ نے اسے تمام انسانوں کے لیے راہبرورہنما بنایا ہے۔ اس کتاب کو پڑھنے، سمجھنے اور اس میں غور و فکر کرنے کے بعد اگر کوئی انسان اس کی تعلیمات پر عمل نہ کرے تو یہ اس کی بہت بڑی بدبختی ہے۔ قرآن نے خیرو شر، ہدایت و گم راہی، حق و باطل اور کفرو اسلام ہر ایک کی مکمل نشان دہی فرمادی ہے۔ اب بھی اگر کوئی انسان اس نور ہدایت سے روشنی حاصل نہیں کرتا یا ہدایت پاکر اس کی تعلیمات پر عمل نہیں کرتا تو یہ اس کی بدنصیبی ہے۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے، ’’جو کوئی نیک عمل کرے، وہ اپنی ذات (کے فائدہ) کے لیے کرتا ہے، اور جو برائی کرتا ہے تو اس کا وبال (گناہ و عذاب) بھی اسی پر رہتا ہے۔پھر تم سب کو (اپنے اپنے اعمال کی جواب دہی کے لیے) اپنے پروردگار کی طرف جانا ہے۔‘‘ (سورۃ الجاثیہ :آیت 15)

جو لوگ، جو قوم قرآنِ پاک کے احکام اور فرامین وقوانین پر عمل کرتی ہے، اللہ تعالیٰ انہیں دونوں جہانوں میں کام یابی عطا فرماتا ہے اور انہیں بے شمار نعمتوں، رحمتوں، برکتوں اور سعادتوں سے نوازتا ہے۔

قرآن پاک کو دوسروں تک پہنچانا:

جس مسلمان نے قرآن کو دل سے پڑھا، سمجھا اور عمل بھی کیا، اس کے بعد اس کا فرض ہے کہ وہ اس کے آفاقی پیغام کو دوسروں تک پہنچائے، یعنی اس کی تبلیغ کرے۔ قرآن کی تعلیم، اشاعت، قرآنی تعلیمات پر مضامین و مقالے لکھنا، رسائل اور کتابیں لکھ کرتقسیم کرنا بھی تبلیغ ہے۔ نیز قرآنِ پاک کے نسخے مساجد، مدارس اور مکاتب میں رکھنا اور انہیں تقسیم کرنا بھی تبلیغ ہے۔قرآن کی تبلیغ و اشاعت اُمت محمدیہ کے ہر فرد پر فرض ہے۔ جسے ناظرہ پڑھنا آتا ہے، وہ دوسروں کوناظرہ پڑھائے، جسے کتاب اللہ حفظ ہے، وہ دوسروں کو حفظ کرائے اور جسے قرآنِ پاک کا ترجمہ اور اس کی تفسیر و تشریح آتی ہے، وہ اسے دوسروں تک پہنچائے۔

متعلقہ عنوانات