قومی زبان

جو شجر سوکھ گیا ہے وہ ہرا کیسے ہو

جو شجر سوکھ گیا ہے وہ ہرا کیسے ہو میں پیمبر تو نہیں میرا کہا کیسے ہو دل کے ہر ذرے پہ ہے نقش محبت اس کی نور آنکھوں کا ہے آنکھوں سے جدا کیسے ہو جس کو جانا ہی نہیں اس کو خدا کیوں مانیں اور جسے جان چکے ہیں وہ خدا کیسے ہو عمر ساری تو اندھیرے میں نہیں کٹ سکتی ہم اگر دل نہ جلائیں تو ضیا ...

مزید پڑھیے

جل بھی چکے پروانے ہو بھی چکی رسوائی

جل بھی چکے پروانے ہو بھی چکی رسوائی اب خاک اڑانے کو بیٹھے ہیں تماشائی اب دل کو کسی کروٹ آرام نہیں ملتا اک عمر کا رونا ہے دو دن کی شناسائی اب وسعت عالم بھی کم ہے مری وحشت کو کیا مجھ کو ڈرائے گی اس دشت کی پہنائی جی میں ہے کہ اس در سے اب ہم نہیں اٹھیں گے جس در پہ نہ جانے کی سو بار قسم ...

مزید پڑھیے

یہ بھی سچ ہے کہ نہیں ہے کوئی رشتہ تجھ سے

یہ بھی سچ ہے کہ نہیں ہے کوئی رشتہ تجھ سے جتنی امیدیں ہیں وابستہ ہیں تنہا تجھ سے ہم نے پہلی ہی نظر میں تجھے پہچان لیا مدتوں میں نہ ہوئے لوگ شناسا تجھ سے شب تاریک فروزاں تری خوشبو سے ہوئی صبح کا رنگ ہوا اور بھی گہرا تجھ سے بے تعلق بھی ہیں ہر رنگ ہر انداز سے ہم وہ تعلق بھی ہے قائم ...

مزید پڑھیے

اس بھرے شہر میں آرام میں کیسے پاؤں

اس بھرے شہر میں آرام میں کیسے پاؤں جاگتے چیختے رنگوں کو کہاں لے جاؤں پیرہن چست ہوا سست کھڑی دیواریں اسے چاہوں اسے روکوں کہ جدا ہو جاؤں حسن بازار کی زینت ہے مگر ہے تو سہی گھر سے نکلا ہوں تو اس چوک سے بھی ہو آؤں لڑکیاں کون سے گوشے میں زیادہ ہوں گی نہ کروں بات مگر پیڑ تو گنتا ...

مزید پڑھیے

میں جو روتا ہوں تو کہتے ہو کہ ایسا نہ کرو

میں جو روتا ہوں تو کہتے ہو کہ ایسا نہ کرو تم اگر میری جگہ ہو تو بھلا کیا نہ کرو اب تو اے دل ہوس ساغر و مینا نہ کرو چھوڑ بھی دو یہ تقاضا یہ تقاضا نہ کرو دل پہ اے دوست قیامت سی گزر جاتی ہے تم نگاہ غلط انداز سے دیکھا نہ کرو پھر بھی آنکھیں انہیں ہر بات بتا دیتی ہیں دل تو کہتا ہے کسی ...

مزید پڑھیے

واقعہ کوئی نہ جنت میں ہوا میرے بعد

واقعہ کوئی نہ جنت میں ہوا میرے بعد آسمانوں پہ اکیلا ہے خدا میرے بعد پھر دکھاتا ہے مجھے جنت فردوس کے خواب کیا فرشتوں میں ترا جی نہ لگا میرے بعد کچھ نہیں ہے تری دنیا میں ہیولوں کے سوا مجھ سے پہلے بھی وہی تھا جو ہوا میرے بعد خاک صحرائے جنوں نرم ہے ریشم کی طرح آبلہ ہے نہ کوئی آبلہ ...

مزید پڑھیے

پرانے دوستوں سے اب مروت چھوڑ دی ہم نے

پرانے دوستوں سے اب مروت چھوڑ دی ہم نے معزز ہو گئے ہم بھی شرافت چھوڑ دی ہم نے میسر آ چکی ہے سربلندی مڑ کے کیوں دیکھیں امامت مل گئی ہم کو تو امت چھوڑ دی ہم نے کسے معلوم کیا ہوگا مآل آئندہ نسلوں کا جواں ہو کر بزرگوں کی روایت چھوڑ دی ہم نے یہ ملک اپنا ہے اور اس ملک کی سرکار اپنی ...

مزید پڑھیے

یہ سوچ کر کہ تیری جبیں پر نہ بل پڑے

یہ سوچ کر کہ تیری جبیں پر نہ بل پڑے بس دور ہی سے دیکھ لیا اور چل پڑے دل میں پھر اک کسک سی اٹھی مدتوں کے بعد اک عمر کے رکے ہوئے آنسو نکل پڑے سینے میں بے قرار ہیں مردہ محبتیں ممکن ہے یہ چراغ کبھی خود ہی جل پڑے اے دل تجھے بدلتی ہوئی رت سے کیا ملا پودوں میں پھول اور درختوں میں پھل ...

مزید پڑھیے

جو دل میں کھٹکتی ہے کبھی کہہ بھی سکو گے

جو دل میں کھٹکتی ہے کبھی کہہ بھی سکو گے یا عمر بھر ایسے ہی پریشان پھرو گے پتھر کی ہے دیوار تو سر پھوڑنا سیکھو یہ حال رہے گا تو جیو گے نہ مرو گے طوفان اٹھاؤ گے کبھی اپنے جہاں میں یا آنکھ کے پانی ہی کو سیلاب کہوگے سوئے ہو اندھیرے میں چراغوں کو بجھا کر آئے گا نظر خاک اگر جاگ ...

مزید پڑھیے

سکون کچھ تو ملا دل کا ماجرا لکھ کر

سکون کچھ تو ملا دل کا ماجرا لکھ کر لفافہ پھاڑ دیا پھر ترا پتہ لکھ کر سمجھ میں یہ نہیں آتا خطاب کیسے کروں حروف کاٹ دیے میں نے بارہا لکھ کر قلم نے ٹوکا بھی دل کی صدا نے روکا بھی مگر جو اس نے کہا میں نے دے دیا لکھ کر ہجوم غم میں زباں ساتھ جب نہ دے پائی جو حال دل کا تھا میں نے سنا دیا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 925 سے 6203