جو شجر سوکھ گیا ہے وہ ہرا کیسے ہو
جو شجر سوکھ گیا ہے وہ ہرا کیسے ہو میں پیمبر تو نہیں میرا کہا کیسے ہو دل کے ہر ذرے پہ ہے نقش محبت اس کی نور آنکھوں کا ہے آنکھوں سے جدا کیسے ہو جس کو جانا ہی نہیں اس کو خدا کیوں مانیں اور جسے جان چکے ہیں وہ خدا کیسے ہو عمر ساری تو اندھیرے میں نہیں کٹ سکتی ہم اگر دل نہ جلائیں تو ضیا ...