قومی زبان

انجانے جزیروں پر

قدم رکھنے سے پہلے جان لو کہ بے آباد جگہ آسیب زدہ بھی ہو سکتی ہے بستی بسانے سے پہلے جن کی خوش نودی لازم آتی ہے بسے رہنے کا معاوضہ کلابتونی پہنا دے زرق چڑھاوے مرصع کندنی پرنیاں ہیں اشرفی بوٹی والے کمخواب کا سربار بھی ادا کرنا ہوتا ہے ورنہ ان کے اسلوب حیات سے انحراف العقارب ...

مزید پڑھیے

بے نوا

وقت کی تند و تیز موجیں میرے چاروں جانب بہتی رہیں اور میں بہ رغبت و رضا اس کی ہر جگر پاش چوٹ سہتی رہی ایک مبہم سی آس کے سہارے کہ شاید کبھی بے مہر ساحل میرا ہم نوا ہو جائے

مزید پڑھیے

بوگن ویلیا کی وارفتگی دیکھ کر

تناور پیڑ کھجور سے وارفتگی یوں کہ جیسے اس کی توانائی تیری قوت کی ضامن ہو بے ساختہ بالیں ہوتی یوں کہ محفوظ ہوتی موسموں کی جولانیوں سے تودا سوخت نہ سہی مگر تیری فرو ماندگی لرزاں و جھلسی تازگی بزبان خود مستفتی ہوئی یوں کہ فضیلت کفالت کو ہے محض تونگری کو نہیں بالادستی فرضیت کی بجا ...

مزید پڑھیے

صبائے صحرا

بے داغ وسعتوں کی آہوئے بے باک تیرے ایک ہی مشک بیز جھونکے نے یادوں کے دریچے کھول دیے ہیں جھلستی دوپہروں میں گھنے پیپل کی چھاؤں میں جھولا جھولتی ہم جولیاں خوش گلو چاڑھے کی آواز میں ریگ زاروں کے گیت کن رس ہوئے جاتے ہیں برسات کی آبنوسی رات کا منظر کھلے آسمان تلے بان کی ٹھنڈی چارپائی ...

مزید پڑھیے

کٹ نہ پائے یہ فاصلے بھی اگر

کٹ نہ پائے یہ فاصلے بھی اگر اور اس پر یہ رابطے بھی اگر جو تمہاری طرف نہیں کھلتے بند نکلے وہ راستے بھی اگر خیر ہو تیری بے نیازی کی اب نہیں خود پرست تھے بھی اگر کیا کریں گے سوائے خواہش کے مہلت یک نفس ملے بھی اگر عمر بھر کے زیاں کا مول نہیں چند لمحے چرا لیے بھی اگر خوں بہا کون دے ...

مزید پڑھیے

حاصل عمر ہے جو ایک کسک باقی ہے

حاصل عمر ہے جو ایک کسک باقی ہے میری سانسوں میں ابھی تیری مہک باقی ہے مجھ سے کیا چھین سکا تو کہ ابھی تک میرے پاؤں کے نیچے زمیں سر پہ فلک باقی ہے پھر تجھے اور مجھے اور کہیں جانا ہے ہم سفر ساتھ تو چل جتنی سڑک باقی ہے یہ کوئی کم تو نہیں دوست جدا ہو کر بھی اپنے لہجے میں شکایت کی جھلک ...

مزید پڑھیے

اس گھر میں مرے ساتھ بسر کر کے تو دیکھو

اس گھر میں مرے ساتھ بسر کر کے تو دیکھو ٹوٹی ہوئی کشتی میں سفر کر کے تو دیکھو دھرتی سے بچھڑنے کی سزا کہتے ہیں کس کو طوفاں میں جزیروں پہ نظر کر کے تو دیکھو خوابوں کو صلیبوں پہ سجا پاؤ گے ہر سو آنکھوں کے بیاباں سے گزر کر کے تو دیکھو ممکن ہے کہ نیزے پہ اٹھا لے کوئی بڑھ کر مقتل کے ...

مزید پڑھیے

یاد تم آئے تو پھر بن گئیں بادل آنکھیں

یاد تم آئے تو پھر بن گئیں بادل آنکھیں دل کے ویرانے کو کرنے لگیں جل تھل آنکھیں میری آنکھوں کا کوئی ابر سے رشتہ ہے ضرور ٹوٹ کے برسی گھٹا جب ہوئیں بوجھل آنکھیں خواب کو خواب سمجھتی ہی نہیں جانے کیوں ڈھونڈھتی رہتی ہیں اک شخص کو پاگل آنکھیں کیسا رشتہ ہے تعلق ہے یہ کیسا آخر چوٹ تو دل ...

مزید پڑھیے

دل کی کہانیوں کو نیا موڑ کیوں دیا

دل کی کہانیوں کو نیا موڑ کیوں دیا رشتوں کے ٹوٹے شیشے کو پھر جوڑ کیوں دیا دہلیز پر جلا کے سر شام اک چراغ دروازہ تم نے گھر کا کھلا چھوڑ کیوں دیا گلدان میں سجے ہوئے نقلی گلاب پر اک بد حواس تتلی نے دم توڑ کیوں دیا طوفاں سے لڑ رہا تھا وہ ساحل کے واسطے ساحل ملا تو ناؤ کا رخ موڑ کیوں ...

مزید پڑھیے

پلکوں پہ لرزتے رہے آنسو کی طرح ہم

پلکوں پہ لرزتے رہے آنسو کی طرح ہم گھر میں ترے مہکا کئے خوشبو کی طرح ہم سورج کے لئے چھوڑا تھا اس نے ہمیں پھر بھی راتوں کو ستاتے رہے جگنو کی طرح ہم آتے رہے جاتے رہے کشتی کے مسافر پیروں سے لپٹتے رہے بالو کی طرح ہم ریکھا ہے کھنچی اور نہ ہے سیتا کوئی گھر میں اس شہر میں کیوں پھرتے ہیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 866 سے 6203