قومی زبان

اک آتش سیال سے بھر دے مجھ کو

اک آتش سیال بھر دے مجھ کو اک جشن خیالی کی خبر دے مجھ کو اے موج فلک میں سر اٹھانے والے کٹ جائے تو روشن ہو وہ سر دے مجھ کو Let molten fire fill my being Give me the glad tidings of a feast of the mind. You, who raise your head into the wavy skies: Give me the head that glows when it is slashed away

مزید پڑھیے

من عرف نفسہ

روشنی کی ایک ننھی سی لکیر میرے کمرے کے اندھیرے کا بدن چپکے چپکے ٹٹولتی ہے جس طرح حبشی حسینہ کے ڈھلے صندل کے سے آبنوسی جسم کے اعصاب میں تیز سوئی کی اچانک اک چبھن سرسراتے سانپ کی مانند دوڑاتی ہے خوں جھنجھنا اٹھتے ہیں سارے تار و پو اور پھر آہستہ آہستہ کہیں زیر سطح جان و دل یہ ...

مزید پڑھیے

سبز سورج کی کرن

سبز بلی سبز آنکھیں سبز سورج کی کرن جب نیم خوابی کی طرح اس آنکھ اوپر جھولتی ہے جھومتی ہے سبز آنکھیں سبز روشن رنگ کی باریک لہریں ارغوانی قرمزی تھوڑا بہت سونے کا جھلمل رنگ آنکھیں زندگی بنتی ہیں دھندلی روشنی میں سبز بھوری آنکھیں کھلتی ہیں تو فوراً قمقمے سی کھلکھلاتی بے محابا ...

مزید پڑھیے

ماہ منیر

خلاؤں کے اندھے مسافر سے پوچھیں وہ اک ذرۂ خاک سے ٹوٹ کر دور لا انتہا وسعتوں اور بے سمت راہوں کی پر ہول خاموشیوں میں بھٹکتا پھرا تھا ہواؤں کے رہوار پر برق رفتار صدیاں گزرتی رہیں اس کی راہوں میں پل بھر کو آہٹ نہ آئی زمیں آتشیں گویا چوگاں خلا میں لڑھکتی ہوئی یوں ہی بے مدعا رقص کرتی ...

مزید پڑھیے

رات شہر اور اس کے بچے

سرد میدانوں پہ شبنم سخت سکڑی شاہ راہوں منجمد گلیوں پہ جالا نیند کا مصروف لوگوں بے ارادہ گھومتے آوارہ کا ہجوم بے دماغ اب تھم گیا ہے رنڈیوں زنخوں اچکوں جیب کتروں لوطیوں کی فوج استعمال کردہ جسم کے مانند ڈھیلی پڑ گئی ہے سنسناتی روشنی ہواؤں کی پھسلتی گود میں چپ اونگھتی ہے فرش ...

مزید پڑھیے

اندھیری شب سے ایک لا حاصل

اندھیری شب کے شرمیلے معطر کان میں اس نے کہا وہ شخص دور افتادہ لیکن میرے دل کی طرح روشن ہے جو میرے پاؤں کے تلوے ہتھیلی کے گلابی گال میں کانٹا سا چبھتا ہے جو میرے جسم کی کھیتی پہ بارش کا چھلاوا ہے وہ جس کی آنکھ کی قاتل ہوس اک منتظر لیکن نہ ظاہر ہونے والے پھول کی مانند بے چینی میں ...

مزید پڑھیے

کمزوری

نسیم خلد بے خوفی سے میرے گھر میں در آئی کہا میں نے کہ تم کب شعلۂ جوالہ بن جاؤ گی خاشاک دل و جاں کو جلا کر خاک کرنا ہے بدن پر تھرتھری طاری ہے دیواریں لرزتی ہیں وہ ٹھنڈک ہے کہ بالوں کی جڑوں میں خون جمتا جا رہا ہے ہر کڑی چھت کی سکڑ کر چشم افیوں نوش کے مانند چھوٹی ہوتی جاتی ہے وہ دیکھوں ...

مزید پڑھیے

شور تھمنے کے بعد

اب شور تھما تو میں نے جانا آدھی کے قریب رو چکی ہے شب گرد کو اشک دھو چکی ہے چادر کالی خلا کی مجھ پر بھاری ہے مثل موت شہپر ہے سانس کو رکنے کا بہانہ تسبیح سے ٹوٹتا ہے دانہ میں نقطہ حقیر آسمانی بے فصل ہے بے زماں ہے تو بھی کہتی ہے یہ فلسفہ طرازی لیکن یہ سنسناتی وسعت اتنی بے حرف و بے ...

مزید پڑھیے

شیشۂ ساعت کا غبار

میں زندہ تھا مگر میں تیرے سرخ نیلگوں سفید بلبلے میں قید تھا ہوا وسیع تھی مگر حدود سے رہا نہ تھی نہ میرے پر شکستہ تھے نہ میری سانس کم تھا بلبلے کی کائنات میں مرا ہی دم قدم مگر مری اڑان سرخ نیلگوں سفید مقبرے کے آخری خطوط سے سوا نہ تھی میں حال کے اتھاہ پانیوں میں غرق یا گذشتہ وقت کے ...

مزید پڑھیے

آخری تماشائی

اٹھو کہ وقت ختم ہو گیا تماش بینوں میں تم آخری ہی رہ گئے ہو اب چلو یہاں سے آسمان تک تمام شہر چادریں لپیٹ لی گئیں زمین سنگ ریزہ سخت دانت سی سفید ملگجی دکھائی دے رہی ہے ہر طرف تمہیں جہاں گمان سبزہ تھا وہ جھلک رہی ہے کہنہ کاغذوں کی برف وہ جو چلے گئے انہیں تو اختتامیے کے سب سیاہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 821 سے 6203