قومی زبان

در پائے اجل

گھر میں کچھ بھی نہیں تاریک سی خوشبو کے سوا کچھ چمکتا نہیں اب خوف کے جگنو کے سوا دم کہسار میں ڈھونڈا تو نہ نکلا کچھ بھی برف پر چھڑکی ہوئی خون کی خوشبو کے سوا اس کا چھپنا تھا کہ آنکھوں میں مری کچھ نہ رہا سرمئی سبز منور رم آہو کے سوا

مزید پڑھیے

تین شاموں کی ایک شام

یہ سرمئی سی شام رگوں میں جس کی دوڑتا ہے خوں شفق کے لالہ زار کا کسی حسینہ کی اتاری اوڑھنی کی طرح ملگجی سی شام جو لمحہ لمحہ خامشی کے بند کی اسیر ہے یہ آسماں کی سمت منہ اٹھا کے کس کو یاد کرتی ہے یہ مثل داغ لالۂ چمن سیاہ آنکھوں میں جو آنسوؤں کا نور بھرتی ہے تو کیا اسے بھی ہے خبر کہ ...

مزید پڑھیے

مور نامہ

اس جنگل میں مور بہت ہیں نیلے پیلے چور بہت ہیں دن بھر موروں کی جھنکار اوپر نیچے چیخ پکار شیر میاں کو نیند نہ آئی لے کر اک لمبی سی جمائی لومڑی بی سے کہلایا موروں کو کس نے بلوایا مور تو کرتے شور بہت ہیں اس جنگل میں مور بہت ہیں نیلے پیلے چور بہت ہیں رات کا آنگن چاندی جیسا دن کا چہرہ ...

مزید پڑھیے

بیان صفائی

رات اترتی گئی مجھ کو خبر ہی نہ تھی کاغذ بے رنگ میں سرد ہوس جنگ میں صبح سے مصروف لوگ اپنی چادر میں بند آنکھ کھٹکتی نہیں دل پہ برستی نہیں خشک ہنسی بے نمک شہر فضا میں بلند تنگ گلی کی ہوا شام کو چوہوں کی دوڑ تیز قدم گربۂ شاہ جہاں کب جھپٹ لے گی کسے کیا پتہ نیند کا اونچا مکاں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 820 سے 6203