جنگل سے گھنے خواب حقیقت رم شب
جنگل سے گھنے خواب حقیقت رم شب بوجھل بکھرے خواب حقیقت رم شب بستر کی ہر شکن پسینے سے تر یا حبس بھرے خواب حقیقت رم شب
جنگل سے گھنے خواب حقیقت رم شب بوجھل بکھرے خواب حقیقت رم شب بستر کی ہر شکن پسینے سے تر یا حبس بھرے خواب حقیقت رم شب
تاریک رگیں لہو سے روشن کر دے شادابیٔ زر کو زیب دامن کر دے اے شمع فروزاں پس لوح سحری بادل آنکھوں کو برق مسکن کر دے
ہر آگ کو نذر خس و خاشاک کروں ہر سیل کو برباد سر خاک کروں اے شیشۂ آہنگ میں معنی کی شراب کہہ دے تجھے کس درجہ میں بے باک کروں
کس خوف کا داغ ماہ وا دید میں ہے کیا آنکھ ہے جو محاذ خورشید میں ہے کیسی ہے نسیم وہم اڑے ہیں چہرے کس سانپ کی آمد شب تجدید میں ہے
رفتار و صدا گنبد افلاک میں آئے کچھ رنگ حیا دیدۂ چالاک میں آئے ہر چیز مقید ہے کسی کے دل میں دل ٹوٹے تو جاں نقش کف خاک میں آئے
گھر میں کچھ بھی نہیں تاریک سی خوشبو کے سوا کچھ چمکتا نہیں اب خوف کے جگنو کے سوا دم کہسار میں ڈھونڈا تو نہ نکلا کچھ بھی برف پر چھڑکی ہوئی خون کی خوشبو کے سوا اس کا چھپنا تھا کہ آنکھوں میں مری کچھ نہ رہا سرمئی سبز منور رم آہو کے سوا
یہ سرمئی سی شام رگوں میں جس کی دوڑتا ہے خوں شفق کے لالہ زار کا کسی حسینہ کی اتاری اوڑھنی کی طرح ملگجی سی شام جو لمحہ لمحہ خامشی کے بند کی اسیر ہے یہ آسماں کی سمت منہ اٹھا کے کس کو یاد کرتی ہے یہ مثل داغ لالۂ چمن سیاہ آنکھوں میں جو آنسوؤں کا نور بھرتی ہے تو کیا اسے بھی ہے خبر کہ ...
اس جنگل میں مور بہت ہیں نیلے پیلے چور بہت ہیں دن بھر موروں کی جھنکار اوپر نیچے چیخ پکار شیر میاں کو نیند نہ آئی لے کر اک لمبی سی جمائی لومڑی بی سے کہلایا موروں کو کس نے بلوایا مور تو کرتے شور بہت ہیں اس جنگل میں مور بہت ہیں نیلے پیلے چور بہت ہیں رات کا آنگن چاندی جیسا دن کا چہرہ ...
رات اترتی گئی مجھ کو خبر ہی نہ تھی کاغذ بے رنگ میں سرد ہوس جنگ میں صبح سے مصروف لوگ اپنی چادر میں بند آنکھ کھٹکتی نہیں دل پہ برستی نہیں خشک ہنسی بے نمک شہر فضا میں بلند تنگ گلی کی ہوا شام کو چوہوں کی دوڑ تیز قدم گربۂ شاہ جہاں کب جھپٹ لے گی کسے کیا پتہ نیند کا اونچا مکاں ...
دل بھی دامن ہے پھیلاؤ سر شب موتی سی بارش برساؤ سر شب جب جوش سیل سے منور ہو دماغ ان کڑوی بوندوں میں نہاؤ سر شب