قومی زبان

دنیا ہے کیا چیز برابر دیکھ رہا ہوں

دنیا ہے کیا چیز برابر دیکھ رہا ہوں اپنی آنکھ سے آگے بڑھ کر دیکھ رہا ہوں ایک سمندر آنکھ سے باہر دیکھ رہا ہوں ایک سمندر اپنے اندر دیکھ رہا ہوں کس حیرت سے تیرا پیکر دیکھ رہا ہوں یوں لگتا ہے تتلی کے پر دیکھ رہا ہوں ایسے دیکھو یہ دیکھو اور وہ نہیں دیکھو بند کرو یہ میں بھی اکثر دیکھ ...

مزید پڑھیے

مری گہرائیاں پل بھر میں وہ نایاب کر دے گا

مری گہرائیاں پل بھر میں وہ نایاب کر دے گا مجھے وہ بازوؤں میں لے گا اور پایاب کر دے گا عجب انداز ہے اس گل بدن کے پیار کرنے کا مجھے پاتال تک لے جا کے محو خواب کر دے گا وہ جب چاہے جسے چاہے غرور آشنائی دے نظر بھر کر جسے دیکھے گا وہ سرخاب کر دے گا سنا ہے گل کی رعنائی رہے گی جوں کی توں ...

مزید پڑھیے

اپنی ہستی کو اندھے کنوئیں میں گرانا نہیں چاہتا

اپنی ہستی کو اندھے کنوئیں میں گرانا نہیں چاہتا میں حقیقت پسندی کو سولی چڑھانا نہیں چاہتا در بدر ہوں تو شعر و سخن کے لیے یا شکم کے لیے ورنہ میں گھر سے باہر گلی تک بھی آنا نہیں چاہتا میں نے منت نہیں مان رکھی درختوں سے گرتا رہوں میں کسی شاخ پر کوئی تنکا سجانا نہیں چاہتا ہو گئی ہے ...

مزید پڑھیے

جینے کو ایک آدھ بہانہ کافی ہوتا ہے

جینے کو ایک آدھ بہانہ کافی ہوتا ہے سچا ہو تو ایک فسانہ کافی ہوتا ہے چاند کو میں نے جب بھی دیکھا یہ احساس ہوا اک صحرا میں اک دیوانہ کافی ہوتا ہے ہم روٹھیں تو گھر کے کمرے کم پڑ جاتے ہیں ہم چاہیں تو ایک سرہانا کافی ہوتا ہے جیتے جی یہ بات نہ مانی مر کے مان گئے سب کہتے تھے ایک ٹھکانہ ...

مزید پڑھیے

بس بھئی سورج

آنکھیں جب چمکاتے ہو جان کو بس آ جاتے ہو کلیوں کو بھی مرجھاتے ہو کتنے گندے بن جاتے ہو بس بھئی سورج بس کتا کیسا کانپ رہا ہے زباں نکالے ہانپ رہا ہے کونے میں خود کو ڈھانپ رہا ہے اس کو کتنا ستاتے ہو بس بھئی سورج بس سر کو جھکائے چڑیاں ساری دھوپ کی ماری ڈر کی ماری چپکی بیٹھیں سب بے ...

مزید پڑھیے

شری گرو نانک

راز قدرت کے خبردار گرو نانک تھے واقف عالم اسرار گرو نانک تھے نشۂ حسن حقیقی سے تھے مدہوش ازل بادۂ ناب سے سرشار گرو نانک تھے کیوں مہک اٹھتا نہ خوشبو سے دماغ عالم نگہت گلشن اسرار گرو نانک تھے ذکر معبود حقیقی میں زبان سے شاطرؔ سایۂ رحمت غفار گرو نانک تھے

مزید پڑھیے

کسی خیال کی شبنم سے نم نہیں ہوتا

کسی خیال کی شبنم سے نم نہیں ہوتا عجیب درد ہے بڑھتا ہے کم نہیں ہوتا میں آ رہا ہوں ابھی چوم کر بدن اس کا سنا تھا آگ پہ بوسہ رقم نہیں ہوتا تمہارے ساتھ میں چل تو رہا ہوں چلنے کو ہر اک ہجوم میں لیکن میں ضم نہیں ہوتا میں ایسے خطۂ زرخیز کا مکیں ہوں جہاں صنم تراش کو پتھر بہم نہیں ...

مزید پڑھیے

جہاں سے آئے تھے شاید وہیں چلے گئے ہیں

جہاں سے آئے تھے شاید وہیں چلے گئے ہیں وہ صاحبان بشارت کہیں چلے گئے ہیں زمیں پہ رینگتے رہنے کو ہم جو ہیں موجود جو اہل شرم تھے زیر زمیں چلے گئے ہیں بہشت ہے کہ نہیں ہے یہ تو ہی جانتا ہے ترے فقیر بہ نام یقیں چلے گئے ہیں دکھائی دیں گے کبھی وقت کے جھروکوں سے وہ لوگ اب بھی یہیں ہیں ہمیں ...

مزید پڑھیے

ریشہ ریشہ بکھر گیا میں نہ کہ تو

ریشہ ریشہ بکھر گیا میں نہ کہ تو اپنی تہہ میں اتر گیا میں نہ کہ تو اے سر چکراتی وسعت کے مالک تھکتے تھکتے ٹھہر گیا میں نہ کہ تو Who broke into bits vein by vein, you or I? Who was lost in his own depths, you or I? You, the master of mind-reeling vastness: Who halted, slowly worn out, you or I?

مزید پڑھیے
صفحہ 819 سے 6203