یادوں کی میں بارات لیے آیا ہوں
یادوں کی میں بارات لیے آیا ہوں اور اشکوں کی سوغات لیے آیا ہوں دنیا کے مسائل سے گزر کر تم تک امید ملاقات لیے آیا ہوں
یادوں کی میں بارات لیے آیا ہوں اور اشکوں کی سوغات لیے آیا ہوں دنیا کے مسائل سے گزر کر تم تک امید ملاقات لیے آیا ہوں
کچھ سوچ کر اداس نہ ہو کنٹرول ہے اب شب کو دیر تک نہ پڑھو کنٹرول ہے بستر سے اٹھ کے منہ بھی نہ دھو کنٹرول ہے اب ناشتے کا نام نہ لو کنٹرول ہے کھانے میں احتیاط کرو کنٹرول ہے بچپن بدل گیا ہے جوانی بدل گئی پریوں کے دیس کی وہ کہانی بدل گئی راجہ کا حال دیکھ کے رانی بدل گئی سپنوں کے ساتھ ساتھ ...
شان کی فکر ہے نہ آن کی ہے اب مجھے فکر امتحان کی ہے پڑھ رہا ہوں کتاب محنت سے ہوں گا میں کامیاب محنت سے فرسٹ آنا ہے مجھ کو اب کی بار کچھ دکھانا ہے مجھ کو اب کی بار اپنی محنت کی لاج رکھنی ہے کل کی بنیاد آج رکھنی ہے فوری کر لوں گا میں اگر محنت امتحاں سے نہ ہوگی کچھ وحشت سال بھر میں نے کی ...
وہی غنچوں کی شادابی وہی پھولوں کی نکہت ہے وہی سیر گلستاں ہے وہی جوش مسرت ہے وہی موج تبسم ہے وہی انداز فطرت ہے وہی دام تخیل ہے وہی رنگ حقیقت ہے وہی صبح مسا ہوتی ہے لیکن تم نہیں ہوتیں بڑی رنگیں فضا ہوتی ہے لیکن تم نہیں ہوتیں وہی مخمور راتیں اب بھی تصویر تخیل ہیں وہی دل چسپ باتیں اب ...
قدم قدم پہ نگاہیں پکارتی ہیں مجھے نفس نفس کا کوئی اعتبار ہو تو رکوں یہ دل کہ تھا جو کبھی مرکز محبت بھی کسی کے واسطے پھر بے قرار ہو تو رکوں
تم آئے نصیب جاگ اٹھا مایوس نگاہ مسکرائی لیکن کوئی کہہ رہا ہے مجھ سے انجام وصال ہے جدائی
ہر مسافر تلاش کرتا ہے اپنی منزل کو شام سے پہلے آرزو کروٹیں بدلتی ہے زندگی کے قیام سے پہلے
مجسم عشوہ و انداز بھی ہے مگر عورت جہان راز بھی ہے ستم آرائیاں تسلیم لیکن نہایت مخلص و دم ساز بھی ہے شکت آرزو کی بات کیسی ہجوم آرزو کا راز بھی ہے اگر کوتاہ نظری ہو نہ حائل تو شاید مرکز پرواز بھی ہے کہیں افسانۂ عشق و محبت کہیں روداد سوز و ساز بھی ہے یہی تقدیس مریم ضبط سیتا یہی ...
شام ڈھلی ہوا چلی دیپ جلے کام رکے چاند ہنسا رنگ جما رات بڑھی اوس پڑی پھول ہنسے پیار لیے آ ہی گئی چھا ہی گئی سپنوں بھری نیند پری
حلوے کے لیے پھر آج بھی ہم اک آس لگائے بیٹھے ہیں جو بات زباں پر لا نہ سکے وہ دل میں چھپائے بیٹھے ہیں تھوڑی سی مٹھائی طاق پہ تھی مٹھی میں چرائے بیٹھے ہیں ابو کے بھگائے بھاگے تھے امی کے بلائے بیٹھے ہیں کچھ بچ بھی گئی ہیں پٹنے سے کچھ مار بھی کھائے بیٹھے ہیں تجھ سے تو ہمیں کوئی شکوہ اے ...