احساس کی لذت کے قریب آ جاؤ
احساس کی لذت کے قریب آ جاؤ انفاس کی نگہت کے قریب آ جاؤ فطرت کے تقاضوں سے تغافل کب تک آ جاؤ محبت کے قریب آ جاؤ
احساس کی لذت کے قریب آ جاؤ انفاس کی نگہت کے قریب آ جاؤ فطرت کے تقاضوں سے تغافل کب تک آ جاؤ محبت کے قریب آ جاؤ
خوابوں کے طلسمات سے ہم گزرے ہیں اس دور کے حالات سے ہم گزرے ہیں سیلاب کا مرکز تھا جب اپنا آنگن اس رات کی برسات سے ہم گزرے ہیں
دل پر اثر خواب ہے ہلکا ہلکا جیسے کوئی پیمانہ ہو چھلکا چھلکا آنکھوں کے لیے مرکز رعنائی ہے آنچل ترے شانوں پہ یہ ڈھلکا ڈھلکا
شاعری یا لن ترانی ہے تو ہے یہ روایت خاندانی ہے تو ہے لازمی تھا کچھ سوالوں کا جواب چلئے پھر یہ بد زبانی ہے تو ہے ہم تو اک تصویر ان کو دے چکے اب بھلے یہ مہربانی ہے تو ہے عشق کوئی بانٹنے کی شے نہیں سامنے پھر کوئی رانی ہے تو ہے کون سے نخرے اٹھاتی تھی مری منہ پھلائے زندگانی ہے تو ...
سوداگری کے سارے حوالوں کو بیچ دوں میں آگ کو خرید کے چھالوں کو بیچ دوں ڈر ہے کہ اندھیروں کو بتا دیں گے میرا عیب چن چن کے گھر سے سارے اجالوں کو بیچ دوں ممکن ہے بیچ سکتی ہوں اپنے سخن کو میں ایسا بھی اب نہیں کہ خیالوں کو بیچ دوں سوچا کسی بہانے صفائی ہو ذہن کی ردی سے بے تکے سے سوالوں ...
وقت کی دھوپ تیز ہوتی ہے ہم سفر ہو تو راہ کٹ جائے سہل ہو جائے پھر تو جہد حیات دل نہ سہمے خیال بٹ جائے
ہم غریبوں کے لیے عید کہاں زندگی یاس کا گہوارہ ہے ہر نفس تازہ امیدوں کے لیے اک دہکتا ہوا انگارہ ہے
سکوت زندگی ہے دشمن جاں اب تو آ جاؤ مری ہستی ہے خود مجھ سے پریشاں اب تو آ جاؤ سنا ہے آج کل میں اور بھی بے تاب رہتا ہوں مری آنکھوں سے حسرت ہے نمایاں اب تو آ جاؤ
میری مایوس جوانی تجھے راس آ نہ سکی سالہا سال امیدوں کے ثمر مل نہ سکے بارہا موج صبا پاس سے گزری لیکن تیرے ہونٹوں پہ تبسم کے کنول کھل نہ سکے
جرأت ہو تو دنیا سے بغاوت کر لو احساس کو بے گانۂ نفرت کر لو کیوں حرص کے مرگھٹ پہ سسکتے ہو بھلا انسان ہو اپنے سے محبت کر لو