ہاتھ سینہ پہ مرے رکھ کے کدھر دیکھتے ہو
ہاتھ سینہ پہ مرے رکھ کے کدھر دیکھتے ہو اک نظر دل سے ادھر دیکھ لو گر دیکھتے ہو ہے دم باز پسیں دیکھ لو گر دیکھتے ہو آئینہ منہ پہ مرے رکھ کے کدھر دیکھتے ہو ناتوانی کا مری مجھ سے نہ پوچھو احوال ہو مجھے دیکھتے یا اپنی کمر دیکھتے ہو پر پروانہ پڑے ہیں شجر شمع کے گرد برگ ریزی محبت کا ...