قومی زبان

ہاتھ سینہ پہ مرے رکھ کے کدھر دیکھتے ہو

ہاتھ سینہ پہ مرے رکھ کے کدھر دیکھتے ہو اک نظر دل سے ادھر دیکھ لو گر دیکھتے ہو ہے دم باز پسیں دیکھ لو گر دیکھتے ہو آئینہ منہ پہ مرے رکھ کے کدھر دیکھتے ہو ناتوانی کا مری مجھ سے نہ پوچھو احوال ہو مجھے دیکھتے یا اپنی کمر دیکھتے ہو پر پروانہ پڑے ہیں شجر شمع کے گرد برگ ریزی محبت کا ...

مزید پڑھیے

کیا غرض لاکھ خدائی میں ہوں دولت والے

کیا غرض لاکھ خدائی میں ہوں دولت والے ان کا بندہ ہوں جو بندے ہیں محبت والے چاہیں گر چارہ جراحت کا محبت والے بیچیں الماس و نمک سنگ جراحت والے گئے جنت میں اگر سوز محبت والے تو یہ جانو رہے دوزخ ہی میں جنت والے ساقیا ہوں جو صبوحی کی نہ عادت والے صبح محشر کو بھی اٹھیں نہ ترے ...

مزید پڑھیے

زخمی ہوں ترے ناوک دزدیدہ نظر سے

زخمی ہوں ترے ناوک دزدیدہ نظر سے جانے کا نہیں چور مرے زخم جگر سے ہم خوب ہیں واقف ترے انداز کمر سے یہ تار نکلتا ہے کوئی دل کے گہر سے پھر آئے اگر جیتے وہ کعبہ کے سفر سے تو جانو پھرے شیخ جی اللہ کے گھر سے سرمایۂ امید ہے کیا پاس ہمارے اک آہ ہے سینہ میں سو نامید اثر سے وہ خلق سے پیش ...

مزید پڑھیے

دکھلا نہ خال ناف تو اے گل بدن مجھے

دکھلا نہ خال ناف تو اے گل بدن مجھے ہر لالہ یاں ہے نافۂ مشک ختن مجھے ہمدم وبال دوش نہ کر پیرہن مجھے کانٹا سا ہے کھٹکتا مرا تن بدن مجھے پھرتا لیے چمن میں ہے دیوانہ پن مجھے زنجیر پا ہے موج نسیم چمن مجھے تسبیح دور بزم میں دیکھو امام کو بخشی ہے حق نے زیب سر انجمن مجھے اے میرے یاسمن ...

مزید پڑھیے

کہاں تلک کہوں ساقی کہ لا شراب تو دے

کہاں تلک کہوں ساقی کہ لا شراب تو دے نہ دے شراب ڈبو کر کوئی کباب تو دے بجھے گا سوز دل اے گریہ پل میں آب تو دے دگر ہے آگ میں دنیا یوں ہی عذاب تو دے گزرنے گر یہ مرے سر سے اتنا آب تو دے کہ سر پہ چرخ بھی دکھلائی جوں حباب تو دے ہزاروں تشنہ جگر کس سے ہوئیں گے سیراب خدا کے واسطے تیغ ستم کو ...

مزید پڑھیے

چپکے چپکے غم کا کھانا کوئی ہم سے سیکھ جائے

چپکے چپکے غم کا کھانا کوئی ہم سے سیکھ جائے جی ہی جی میں تلملانا کوئی ہم سے سیکھ جائے ابر کیا آنسو بہانا کوئی ہم سے سیکھ جائے برق کیا ہے تلملانا کوئی ہم سے سیکھ جائے ذکر شمع حسن لانا کوئی ہم سے سیکھ جائے ان کو درپردہ جلانا کوئی ہم سے سیکھ جائے جھوٹ موٹ افیون کھانا کوئی ہم سے ...

مزید پڑھیے

بلائیں آنکھوں سے ان کی مدام لیتے ہیں

بلائیں آنکھوں سے ان کی مدام لیتے ہیں ہم اپنے ہاتھوں کا مژگاں سے کام لیتے ہیں ہم ان کی زلف سے سودا جو وام لیتے ہیں تو اصل و سود وہ سب دام دام لیتے ہیں شب وصال کے روز فراق میں کیا کیا نصیب مجھ سے مرے انتقام لیتے ہیں قمر ہی داغ غلامی فقط نہیں رکھتا وہ مول ایسے ہزاروں غلام لیتے ...

مزید پڑھیے

باغ عالم میں جہاں نخل حنا لگتا ہے

باغ عالم میں جہاں نخل حنا لگتا ہے دل پر خوں کا وہاں ہاتھ پتا لگتا ہے کیا تڑپنا دل بسمل کا بھلا لگتا ہے کہ جب اچھلے ہے ترے سینے سے جا لگتا ہے دل کہاں سیر تماشے پہ مرا لگتا ہے جی کے لگ جانے سے جینا بھی برا لگتا ہے جو حوادث سے زمانے کے گرا پھر نہ اٹھا نخل آندھی کا کہیں اکھڑا ہوا لگتا ...

مزید پڑھیے

قصد جب تیری زیارت کا کبھو کرتے ہیں

قصد جب تیری زیارت کا کبھو کرتے ہیں چشم پر آب سے آئینے وضو کرتے ہیں کرتے اظہار ہیں در پردہ عداوت اپنی وہ مرے آگے جو تعریف عدو کرتے ہیں دل کا یہ حال ہے پھٹ جائے ہے سو جائے سے اور اگر اک جائے سے ہم اس کو رفو کرتے ہیں توڑیں اک نالے سے اس کاسۂ گردوں کو مگر نوش ہم اس میں کبھو دل کا لہو ...

مزید پڑھیے

بزم میں ذکر مرا لب پہ وہ لائے تو سہی

بزم میں ذکر مرا لب پہ وہ لائے تو سہی وہیں معلوم کروں ہونٹ ہلائے تو سہی سنگ پر سنگ ہر اک کوچہ میں کھائے تو سہی پر بلا سے ترے دیوانے کھائے تو سہی گو جنازے پہ نہیں قبر پہ آئے وہ مری شکوہ کیا کیجے غنیمت ہے کہ آئے تو سہی کیونکہ دیوار پہ چڑھ جاؤں کوئی کہتا ہے پاؤں کاٹوں گا انگوٹھا وہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 772 سے 6203