قومی زبان

زندگی رین بسیرے کے سوا کچھ بھی نہیں

زندگی رین بسیرے کے سوا کچھ بھی نہیں یہ نفس عمر کے پھیرے کے سوا کچھ بھی نہیں جسے نادان کی بولی میں صدی کہتے ہیں وہ گھڑی شام سویرے کے سوا کچھ بھی نہیں دل کبھی شہر سدا رنگ ہوا کرتا تھا اب تو اجڑے ہوئے ڈیرے کے سوا کچھ بھی نہیں ہاتھ میں بین ہے کانوں کی لوؤں میں بالے یہ ریاکار سپیرے ...

مزید پڑھیے

جب عرش پہ دم توڑنے لگتی ہیں دعائیں

جب عرش پہ دم توڑنے لگتی ہیں دعائیں دیتا ہے رگ جاں سے مجھے کوئی صدائیں پھر سرمد و منصور کا آتا ہے زمانہ اب اہل چمن گل کی جگہ دار اگائیں اس تشنہ کی برسات میں کیا پیاس بجھے گی کشمیر کے برفاب جسے آگ لگائیں یوں اپنی دعا سن کے چہک اٹھے فرشتے جس طرح سخن فہم کوئی مصرع اٹھائیں اللہ رے ...

مزید پڑھیے

مرے سینے سے تیرا تیر جب اے جنگجو نکلا

مرے سینے سے تیرا تیر جب اے جنگجو نکلا دہان زخم سے خوں ہو کے حرف آرزو نکلا مرا گھر تیری منزل گاہ ہو ایسے کہاں طالع خدا جانے کدھر کا چاند آج اے ماہ رو نکلا پھرا گر آسماں تو شوق میں تیرے ہے سرگرداں اگر خورشید نکلا تیرا گرم جستجو نکلا مئے عشرت طلب کرتے تھے ناحق آسماں سے ہم وہ تھا ...

مزید پڑھیے

بادام دو جو بھیجے ہیں بٹوے میں ڈال کر

بادام دو جو بھیجے ہیں بٹوے میں ڈال کر ایماں یہ ہے کہ بھیج دے آنکھیں نکال کر دل سینے میں کہاں ہے نہ تو دیکھ بھال کر اے آہ کہہ دے تیر کا نامہ نکال کر اترے گا ایک جام بھی پورا نہ چاک سے خاک دل شکستہ نہ صرف کلال کر لے کر بتوں نے جان جب ایماں پہ ڈالا ہاتھ دل کیا کنارے ہو گیا سب کو ...

مزید پڑھیے

جلوہ بے مایہ سا تھا چشم و نظر سے پہلے

جلوہ بے مایہ سا تھا چشم و نظر سے پہلے زیست اک حادثہ تھی قلب و جگر سے پہلے حسن کے سوز نمائش کا ہے انعام حیات وقت بھی وقت نہ تھا شمس و قمر سے پہلے وحی اتری دل بے تاب کی تشکیل کے بعد عشق تعمیر ہوا علم و ہنر سے پہلے عین فردوس میں جل اٹھا تھا آدم کا شباب آگ برسی تھی یہیں دیدۂ تر سے ...

مزید پڑھیے

برق میرا آشیاں کب کا جلا کر لے گئی

برق میرا آشیاں کب کا جلا کر لے گئی کچھ جو خاکستر بچا آندھی اڑا کر لے گئی اس کے قدموں تک نہ بیتابی بڑھا کر لے گئی ہائے دو پلٹے دئیے اور پھر ہٹا کر لے گئی ناتوانی ہم کو ہاتھوں ہاتھ اٹھا کر لے گئی چیونٹی سے چیونٹی دانہ چھڑا کر لے گئی صبح رخ سے کون شام زلف میں جاتا تھا آہ اے دل شامت ...

مزید پڑھیے
صفحہ 771 سے 6203