قومی زبان

شاعر فراق گورکھپوری

معاصرین فراق میں سے کوئی دوسرا شاعر بجز ان کے ایسا نظر نہیں آتا جس کے بارے میں یہ کہا جا سکے کہ اس نے جو اثاثہ اپنے مرنے کے بعد چھوڑا ہے اس میں اس کی شاعری اور نثر ہی اہم نہیں ہے بلکہ اس کی شخضیت کا انوکھاپن، اس کی گفتگو، اس کے اقوال ظرافت و ذکاوت بھی اپنی دلچسپی میں کچھ کم اہم ...

مزید پڑھیے

ماضی کے ادب عالیہ سے متعلق

ایک ایسے زمانے میں جبکہ طبقاتی جنگ تیز ہو جاتی ہے تو جذباتی وفور کے باعث کبھی کبھی ادبی پرکھ میں غلطیاں بھی ہو جاتی ہیں۔ یہ تصور سیاسی تیز پسندی کا نہیں ہے کیونکہ سیاست تو تیز ہوتی ہی ہے۔ بورژوا نظام کے تضاد جوں جوں ابھرتے جائیں گے، طبقاتی جنگ کا تیز ہونا لازمی ہے۔ تاریخ کا ...

مزید پڑھیے

ادب، روایت، جدت اور جدیدیت

جدیدیت کی جو ایک لہر ان دنوں چل رہی ہے اس کے مدنظر ذرا کچھ ہمیں اپنی ادبی روایات ک ابھی جائزہ لینا چاہئے، لیکن اس سے پہلے ہمیں روایت کے مفہوم کو متعین کر لینا چاہئے، تاکہ جدت کو ’’جدیدیت‘‘ سے جدا کرکے بھی دیکھا جا سکے۔ کیوں کہ میرے نزدیک جدت، روایت کا ایک تکوینی حصہ ہے۔ کوئی ...

مزید پڑھیے

تصوف اور شاعری

چونکہ دنیائے اسلام کی تاریخ میں تصوف نے ایک منظم تحریک اور منضبط عقیدے کی صورت بھی اختیار کر رکھی تھی، ہرچندکہ اس میں اختلافات عقائد بھی بے شمار رہے، اس لئے تصوف کو انگریزی لفظ مسٹی سی ازم (MYSTICISM) کے ہم معنی قرار دینے میں کسی قدر جھجک محسوس ہوتی ہے۔ لیکن جب ہم اس کے بنیادی عقائد ...

مزید پڑھیے

رجعت پسند ادب کیا ہے؟

رجعت پسند ادب کیا ہے؟ کی اس تعریف اس سے زیادہ مشکل ہے کہ ترقی پسند ادب کیا ہے۔ کیونکہ ترقی کاراستہ صرف ایک ہی ہوتا ہے اور پیچھے لوٹنے کی راہیں مختلف ہوتی ہیں۔ انسانی معاشرت کی یہ خصوصیت رہی ہے کہ نئے اور پرانے کی جنگ ہردورمیں ہوتی رہی ہے۔ وہ قوتیں جونئے کی تعمیر میں حصہ لیتی ہیں ...

مزید پڑھیے

ادیب اور آزادیٔ رائے

آزادی رائے، خواہ وہ کسی ادیب کی ہو یا عام آدمی کی، انسان کی اس آزادی کا ایک داخلی پہلو ہے جو اپنے کو تہذیب و تمدن کی مختلف برکتوں کی صورت میں ظاہر کرتی رہتی ہے۔ جنگلی پھلوں یا بیخ و بن پر گزارہ کرنے کے بجائے اپنے لئے غذا زمین سے اگانا، اسے محفوظ کرنا اور پھر آگ سے پکاکر کھانا، ...

مزید پڑھیے

قومی زندگی میں علاقائی زبان اور کلچر کی اہمیت

(اپریل ۱۹۶۱ء میں بزم ثقافت ملتان نے جشن فرید منایا تھا۔ اس سلسلے میں بزم نے ایک مجلس مذاکرہ بھی منعقد کیا تھا۔ مذاکرے کا موضوع تھا، ’’قومی زندگی میں علاقائی کلچر کی اہمیت۔‘‘ یہ تقریر اسی مذاکرے میں کی گئی تھی جسے بعدمیں، میں نے ’’ہم قلم‘‘ کے لئے قلمبند کر دیا تھا۔ مصنف)کسی ...

مزید پڑھیے

رسالہ در معرفت استعارہ

انسانوں کو حیوانوں سے ممتاز کرنے کے لیے فلسفیوں نے اسے مختلف ناموں سے یاد کیا ہے۔ کہیں کسی نے اسے سماجی حیوان کا نام دیا ہے تو کہیں کسی نے اسے سیاسی حیوا ن کا نام دیا ہے۔ (ارسطو) نوعی اعتبار سے اسے HOMO SAPIEN یعنی حیوان ناطق عاقل کہا گیا ہے۔ انسان کی یہ تجنیس بغیر کسی تاریخی مشاہدے کے ...

مزید پڑھیے

حالی کا نقطۂ نظر

حق نہ ملا نے کچھ بتایا صاف اور نہ صوفی نے کچھ دکھایا صاف آنکھ اپنی ہی جب تلک نہ کھلی مہر روشن نظر نہ آیا صاف زاہد وہم تو تھے ہی آلودہ تم کو بھی ہم نے کچھ نہ پایا صاف کیوں فقیہوں سے رک گئے حالی بھید تم نے نہ کچھ بتایا صاف اس چھوٹی سی غزل میں ملا اور صوفی کے ’’روبرقفا‘‘ ...

مزید پڑھیے

تنقید کے چند بنیادی مسائل

ہر وہ شخص جسے شعروادب کا مذاق ہے، لازمی طور پر ناقد نہیں ہے کیونکہ تنقید کا تعلق صرف مذاق کی اصلاح سے نہیں بلکہ زندگی کی اقدار کی قیمت متعین کرنے اور اس کے بارے میں فیصلہ دینے سے بھی ہے۔ یہ جاننا یقیناً اہم ہے لیکن اس سے کم اہم یہ نہیں ہے کہ اس کارخانہ تغیر میں جسے دنیا کہتے ہیں، ...

مزید پڑھیے
صفحہ 6165 سے 6203