قومی زبان

مختصر افسانہ

افسانہ حکایت یا مختصر کہانی لکھنے کی روایت قدیم زمانہ سے چلی آتی ہے۔ مذہبی کتابوں میں جو تمثیلی حکایتیں بھری پڑی ہیں وہ مختصر کہانیاںہی ہیں لیکن کتنے اعلیٰ پایہ کی۔ مہابھارت، اپنیشد بدھ جاتک، بائبل سبھی مقدس کتابوں میں عوامی تعلیم کا یہی وسیلہ مفید اور موثر سمجھا گیا ہے۔ علم ...

مزید پڑھیے

گالیاں

ہر قوم کا طرز کلام اس کی اخلاقی حالت کا پتہ دیتا ہے۔ اگر اس لحاظ سے دیکھا جائے تو ہندوستان روئے زمین کی تمام قوموں میں سب سے نیچے نظر آئے گا۔ طرز کلام کی متانت اور شستگی، قومی عظمت اور اخلاقی پاکیزگی ظاہر کرتی ہے۔ اور بدزبانی اخلاقی سیاہی اور قومی پستی کا پختہ ثبوت ہے، جتنے ...

مزید پڑھیے

ادب کی غرض و غایت

حضرات! یہ جلسہ ہماری ادب کی تاریخ میں ایک اہم واقعہ ہے، ہماری سمیلنوں اور انجمنوں میں اب تک عام طور پر زبان اور اس کی اشاعت سے بحث کی جاتی رہی ہے۔ یہاں تک کہ اردو اور ہندی کا جو لٹریچر موجود ہے، اس کا منشا خیالات اور جذبات پر اثر ڈالنا نہیں بلکہ محض زبان کی تعمیر تھا۔ وہ بھی نہایت ...

مزید پڑھیے

فن تصویر

شاعری کی طرح مصوری بھی انسان کے نازک احساسات کا نتیجہ ہے۔ جو کام شاعر کرتا ہے وہی مصور کرتا ہے۔ شاعر زبان سے، مصور پنسل یا قلم سے، سچی شاعری کی تعریف یہ ہے کہ تصویر کھینچ دے۔ علیٰ ہذا سچی تصویر کی صفت یہ ہے کہ اس میں شاعری کا مزہ آئے۔ شاعر کانوں کے ذریعے سے روح کو مسرت پہنچاتا ہے ...

مزید پڑھیے

میں افسانہ کیوں کر لکھتا ہوں

میرے قصے اکثر کسی نہ کسی مشاہدہ یا تجربہ پر مبنی ہوتے ہیں۔ اس میں ڈرامائی کیفیت پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ مگر محض واقعہ کے اظہار کے لئے میں کہانیاں نہیں لکھتا۔ میں اس میں کسی فلسفیانہ یا جذباتی حقیقت کا اظہار کرنا چاہتا ہوں۔ جب تک اس قسم کی کوئی بنیاد نہیں ملتی میرا قلم ہی ...

مزید پڑھیے

مختصر افسانہ کا فن!

ایک ناقد کا کہنا ہے کہ تواریخ میں سب کچھ واقعہ ہوتے ہوئے بھی حقیقت نہیں ہوتا اور افسانوی ادب میں سب کچھ تمثیلی ہوتے ہوئے حقیقت ہوتا ہے۔ اس مقولے کا مدعا اس کے سوا اور کیا ہوسکتا ہے کہ تواریخ میں شروع سے آخر تک جبر و تشدد اور مکر و فریب کا ہی مظاہرہ ہوتا ہے جو کریہہ ہے۔ بدنما ہے ...

مزید پڑھیے

ہم کہاں قسمت آزمانے جائیں

مستنصر حسین تارڑ اس عہد کے جانے پہچانے ادیب ہیں۔ انگریزی میں پرولیفک رائٹر (Prolific Writer) کی اصطلاح جس معنی میں مستعمل ہے، اس کا اطلاق مستنصر حسین تارڑ پر ہوتا ہے۔ اردو میں اس نوع کے لکھنے والوں کو ’’بسیار نویس‘‘ کہا جاتا ہے۔ تاہم بسیار نویسی چوں کہ ہمارے یہاں سنجیدہ ادبی حلقوں ...

مزید پڑھیے

حسرت کی غزل گوئی

حسرت نے ہمارے لئے دو کتابیں چھوڑی ہیں۔ ایک اپنی غزلوں کی کلیات دوسری اپنی زندگی کی کتاب۔ میں اس موقعے پرحسرت کی زندگی کے بارے میں بھی کچھ کہنا چاہتا ہوں۔ کیونکہ وہ ان کے مجموعہ غزل سے کچھ کم اہم نہیں ہے لیکن جب یہ سوچتا ہو ں کہ وہ تو اس راہ پر خار سے گزرے جس راہ پر چلنے سے بقول ...

مزید پڑھیے

غالب، ایک تہذیبی قوت

جب بھی غالب کی شاعری کا ذکر آتا ہے تو ہماری نظر سب سے پہلے یا تو ان کے کلام کی آفاقیت پر جاتی ہے جہاں وہ پوری انسانیت کے ترجمان ہیں، یا پھر ان کے کلام کے ایسے حصوں پر جہاں انہوں نے انسان کے عنصری جذبات کی ترجمانی کی ہے۔ اس میں شبہ نہیں کہ غالب کی یہ وسیع النظری اور نفسیاتی ژرف ...

مزید پڑھیے

مجاز کی موت پر

گزشتہ پچاس برسوں میں جس تیز روی کے ساتھ زمانہ بدلتا رہا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ہمارا شعور بھی ترقی کرتا رہا ہے، اس کی مثال اس سے قبل کے زمانے میں کم از کم اپنی قومی تاریخ میں تو نہیں ملتی ہے۔ جو تبدیلی کل تک بہت ہی سست رفتار اور غیرشعوری تھی، وہ آج تیز رفتار اور شعوری ہے۔ زمانے نے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 6164 سے 6203