قومی زبان

کہر زدہ شام

جب میرا پہلا رشتہ آیا تو میں تیرہ برس کی تھی۔ وہ لڑکا جس سے میرا رشتہ آیا تیس کے لگ بھگ تھا اور امپورٹ ایکسپورٹ کا دھندہ کرتا تھا۔ ادھر کا مال ادھر اورادھر کا ادھر۔ کوٹھیاں تھیں، کاریں تھیں، عزت تھی، شہرت تھی۔ بہت سے لوگ دن رات اسے سلام کرتے تھے اور بہت سے لوگوں کو وہ سلام کرتا ...

مزید پڑھیے

کالے کوس

چھوٹا سا قافلہ، جو تین عورتوں اور ایک مرد پر مشتمل تھا، دم لینے کے لیے کنوئیں کے قریب ڈیرا ڈالے تھا۔ وہ لوگ مسلمان تھے۔۔۔ اور وہ دن اس سرزمین کو آزادی ملنے کے دن تھے جسے آج کل پاکستان اور ہندوستان کہتے ہیں۔ مرد، ۳۲ یا ۳۳ برس کا گرانڈیل شخص تھا۔ سر پر چھوٹی سی پگڑی کے دو چار بل۔۔۔ ...

مزید پڑھیے

علی! علی!

لگ بھگ پینتیس برس پہلے کا پنجاب۔۔۔ یہ اسی دو رکے پنجاب کی ایک سچی کہانی ہے۔ ان دنوں پنجاب کے دیہات میں بہت سی عام کہاوتوں میں سے ایک کہاوت یہ بھی تھی کہ مرد ہمیشہ شراب یا عورت کے باعث ہی پولیس کے چنگل میں پھنستا ہے۔ کم از کم ورسا سنگھ کے معاملے میں یہ کہاوت واقعی درست ثابت ...

مزید پڑھیے

بابا مہنگا سنگھ

ایک ہمارے ماموں صاحب ہیں کہ شہر میں کسی نہ کسی کام سے آتے رہتے ہیں۔ رات عموماً میرے ہاں ہی گزارتے ہیں اور جب رخصت ہونے لگتے ہیں تو مجھے اپنے ساتھ لے جانے پر اصرار کرتے ہیں۔ مجھے گاؤں سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ کھلی ہوا، دودھ دہی اور سیدھے سادے بھولے بھالے لوگوں سے مجھے کیا تعلق؟ میں ...

مزید پڑھیے

گمراہ

صبح کے وقت میں حجامت بنا رہا تھا۔ سامنے بڑا سا آئینہ، ہاتھ میں سیفٹی ریزر اور چہرے پر صابن کا جھاگ۔ کون نہیں جانتا کہ ایسے موقع پر چہرہ کیسی کیسی صورتیں اختیار کرتا ہے۔ معاً میرے منہ کا دہانہ ایک مخصوص انداز سے کھلا تو میرا سیفٹی ریزر والا ہاتھ ساکت ہوگیا۔ اپنے منہ کا واشگاف ...

مزید پڑھیے

کالی تتری

کالی تتری چری وچ بولے تیاڈدی نوں باج پے گیا بڑے مزے میں مولا نے چلم میں تمباکو اور اس کے اوپر سلگتے ہوئے اپلے کے دو ٹکڑے جمادئے۔ اور پھر مارے سردی کے دانت کٹکٹاتا ہوا چارپائی پر چڑھ ٹانگوں پر دھسہ مگن ہو گیا۔ روٹی کھانے کے بعد اسے حقے کی سخت طلب ہوتی تھی۔ چنانچہ اس نے آنکھیں ...

مزید پڑھیے

دودھ بھری گلیاں

شام کی سرمئی زلفیں آسمان کی بے کراں وسعتوں میں لہرا گئیں۔ وہ اپنے مکان سے باہر نکلا۔ اس نے تنگ و تاریک اور غلیظ گلی کی نانک شاہی اینٹوں کی بنی ہوئی اونچی دیواروں کے بیچ میں سے دم بدم چمک کھوتے ہوئے عمیق آسمان کی جانب دیکھا۔ آڑی ترچھی سرخ لکیرو ں کے باعث آسمان کا چوڑا سینہ تلواروں ...

مزید پڑھیے

گرنتھی

’’ست نام۔‘‘ یہ الفاظ حسب معمول گرنتھی جی کے منہ سے نکلے اور ان کے قدم رک گئے۔ لیکن ان کے کچھے کا لٹکتا ہوا ازاربند گھٹنوں کے قریب جھولتا رہا۔ ’’گرنتھی جی! تم کو سومرتبہ کہا ہے کہ یوں دندناتے ہوئے اندر نہ بڑھے آیا کرو۔ ذرا پرے کھڑے رہا کرو۔ کسی وقت آدمی نامعلوم کیسی حالت میں ...

مزید پڑھیے

سزا

یہ کہانی پنجاب کے ایک گاؤں سے وابستہ ہے۔ چھوٹا سا گاؤں تھا۔ دو ایک حویلیوں کو چھوڑ کر باقی تمام مکانات گارے کے بنے ہوئے تھے۔ وہی جوہڑ، وہی ببول، شرینہہ اور بیریوں کے درخت، وہی گھنے پیپل کے تلے روں روں کرتے ہوئے رہٹ، وہی صبح کے وقت کنوؤں پرکنواریوں کے جمگھٹ، دوپہر کے وقت بڑے ...

مزید پڑھیے

کٹھن ڈگریا

رکھی رام دکان سے واپس آ رہاتھا۔ صورت سے ظاہر ہوتا تھا کہ وہ اس وقت کوئی مزےدار بات سوچ رہا ہے۔ ہونٹوں پر مسکراہٹ کھیل رہی تھی۔ چلتے چلتے جب اسے سگریٹ جلانے کی خواہش محسوس ہوئی تو اسے خیال آیا کہ ماچس تو دکان پرہی رہ گئی ہے۔ خیر کوئی مضائقہ نہیں۔ اب وہ گھر کے قریب پہنچ چکا ہے۔ وہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 6100 سے 6203