قومی زبان

نیل یکشنی

ایک اس بارپھر ایک آنچ کی کسر رہ گئی۔ چلو یونان، چلو یونان! فادر ٹائم نے یایاور کو سر سے پان59و تک دیکھا ’’کہانی تو کہیں سے بھی شروع ہوسکتی ہے۔‘‘ آچاریہ مہاشویتم بولے۔ یایاور کے اغل بغل میں مون سون اور مِس فوک لور۔ کتھا دوار پر کُھدے ان کے پیدائشی نام۔ وِینس اور اینٹگنی۔ ڈاکٹر ...

مزید پڑھیے

برہمچاری

پنچ ترنی کی وہ رات مجھے کبھی نہ بھولے گی، نہ پہلے کسی پڑاؤ پر سورج کماری نے اِتنا سنگار کیا تھا، نہ پہلے وہ گیس کا لیمپ جلایا گیا تھا۔ اس روشنی میں سورج کماری کا عروسی لباس کتنا بھڑکیلا نظر آتا تھا۔ دونوں گھوڑے والوں کو خاص طور پر بُلایا گیا تھا۔ ایک کا نام تھا عزیزا اور دوسرے ...

مزید پڑھیے

لال دھرتی

کوئی رنگ مظلوم نگاہوں کی طرح خاموش اور فریادی ہوتا ہے۔ کوئی رنگ خوبصورتی کی طرح کچھ کہتا ہوا اور داد طلب دکھائی دیتا ہے۔ کوئی رنگ مچلتا ہوا ہمیں کسی ضدّی بچّے کی یاد دِلا جاتا ہے اور کسی کو دیکھ کر غنودگی سی چھا جاتی ہے۔۔۔ لاری کے ڈرائیور نے دریا پار کرتے ہوئے کہا، ’’اب ہم ...

مزید پڑھیے

بھینٹ

چاند کی نکھری ہوئی چاندنی میں صاف و شفاّف ندی کے کنارے اپنی تمام روایتوں اور عظمتوں کا حامل پیگوڈا کھڑا تھا۔ اُس کی مخروطی چھت کسی ہادئ برحق کی آسمان کی طرف اُٹھی ہوئی اُنگلی کی طرح یہ دکھاتی ہوئی معلوم ہوتی تھی کہ یہ ہے صداقت کی راہ اور یہی ہے گیان کی منزل۔ بُدھ مندر کے سائے ...

مزید پڑھیے

شبنما

بتّیاں جل چکی ہیں۔ چکلے میں رات ذرا پہلے ہی اتر آتی ہے۔ شبنما ایک چالیس بیالیس برس کی عورت اپنے گال رنگ کر، ہونٹ رنگ کر کُرسی پر آبیٹھی ہے۔ دھیرے دھیرے اُس کے ہونٹ ہلتے ہیں، کچھ نہ کچھ گنگنا رہی ہوگی۔ بیاہ میں کیا دھرا تھا؟ یہاں تو روز بیاہ ہوتا ہے نئے آدمی سے، گھڑی گھڑی۔ وہ ایک ...

مزید پڑھیے

ستلج پھر بپھرا

اِن جنونی لوگوں کی باتوں پر اُنھیں غصّہ آرہا تھا۔ کبھی کوئی بڑا بوڑھا یوں بول اُٹھتا، جیسے پھٹا ہوا ڈھول دھپ دھپائے، کبھی کوئی ایسی آواز اُبھرتی جیسے گیلا پٹاخہ پھٹ جائے۔ ستلج اُن کا منہ چڑا رہا تھا۔ لیکن بڑے بوڑھے دعا کے لیے ہاتھ اُٹھائے کھڑے تھے۔ بچّوں کے لیے یہ ہلڑ مچانے کا ...

مزید پڑھیے

بٹائی کے دنوں میں

پچھم کی طرف سے آنے والی ہوا کے نیچے گیہوں کے پودے سر ہلارہے تھے۔ کنکُوت کے لیے ریاست کا سرپنچ کھیت کی مینڈ پر کھڑا تھا۔ دیوان صاحب کا آدمی مونچھوں کو تاو دے رہا تھا۔ فصل کا جائزہ لیتے ہوئے سر پنچ نے فیصلہ کیا کہ کوئی ساٹھ ایک من دانے ہوں گے۔ جو کام پہلے آدھ گھنٹہ مانگتا تھا۔ اب ...

مزید پڑھیے

لاوارث

کُوچ بہار کے پلیٹ فارم پر گاڑی ایک چیخ کے ساتھ رُک گئی اور پری توش کھڑکی کے راستے جھٹ ایک ڈبے میں گُھس گیا۔ نیچے سے سانیال اور بوس سب سامان اُسے تھماتے چلے گئے اور بار بار تاکید کرتے رہے کہ وہ ایک پوری سیٹ پر قبضہ جما لے۔ سانیال ہنس ہنس کر کہہ رہا تھا، ’’پری توش ہمارا بھائی ہے۔ ...

مزید پڑھیے

سلام لاہور

(ایک) بھرتری ہری کہہ گئے۔۔۔ کالو نہ یا تا و یمئیویاتا! وقت نہیں گزرتا، ہم گزر جاتے ہیں۔ بس ایک نغمہ ’بس ایک المیہ‘ بس ایک جستجو۔ سر سے ڈھلکا ہوا آنچل اور سر ڈھکنے کی کوشش میں کھلتا ہوا سینہ۔ کوئی بھی سر ہو۔۔۔ کومل رِکھب یا کومل گندھار۔ عشقے دی گلی وچوں کوئی کوئی ...

مزید پڑھیے

دیوندر ستیارتھی کے ساتھ ایک دن

کبھی کبھی یوں ہوتا ہے کہ آپ گھر سے نکلتے ہیں اور ستیارتھی آپ کو گلی کے نکڑ پر نظر آتا ہے۔ آپ شام کو کافی ہاؤس پہنچتے ہیں اور ستیارتھی آپ کو کاؤنٹر کے قریب نظر آتا ہے۔ آپ بہت رات گئے گھر کا راستہ پکڑتے ہیں اور ستیارتھی آپ کو کسی اسٹال کے باہر نظر آتا ہے اور پھر یوں ہوتا ہے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 6093 سے 6203