قومی زبان

کمپوزیشن پانچ

میری انگلیاں دکھ رہی ہیں کہ ایک مدت سے میں نے کچھ نہیں لکھا ہے۔ دن دھول نکلا۔۔۔ خوف زدہ آنکھوں نے دیکھا شہر کا غرور پاؤں میں پڑا ہے۔ دیو قامت آئفل ٹاور انجر انجر پنجر پنجر غائب تھا اور وہ شہر کا شہر عمارت دھواں دھواں تھی جہاں کا کروچ کیکٹس اور صلیب پناہ گزیں تھے۔ دن دھواں ...

مزید پڑھیے

کمپوزیشن تین

جنوری کی اس خوش گوار خنک صبح میں کافی ہاؤس کے ویران لان میں کرسیاں جوڑے، ٹانگیں پسارے نیم دراز تھا۔ میری بائیں کہنی میز پر ٹکی ہوئی اور بوجھل پلکیں گری ہوئی تھیں۔ سورج میری پشت پر تھا اور خنک، کاٹتی ہوئی ہوا مغرب کی اور سے چلی آ رہی تھی۔۔۔ میز پر کافی رکھی ہوئی تھی۔ گرم کافی، ...

مزید پڑھیے

جسم کی دیوار

اس کے پاؤں برف ہو رہے تھے، پنڈلیاں دکھ رہی تھیں، زبان کسیلی ہوگئی تھی، حلق میں خراشیں پڑ گئی تھیں اور اسے یوں محسوس ہو رہا تھا کہ اس کی پیشانی، دائیں کنپٹی سے ناک تک کھوکھلی ہوگئی ہے۔ وسط دسمبر کی اس سرد رات کو اس نے کناٹ پلیس سے ماڈل ٹاؤن تک، تقریباً سات میل کا فاصلہ پیدل طے کیا ...

مزید پڑھیے

کمپوزیشن ایک

سورج کے ساتھ تمہارا کیا سمبندھ ہے؟ میں جاہل، بے بس، بیمار کچھ نہ کہہ پاتا۔ ان دنوں میرے ذہن کی قیدگاہ میں یہی سوال تھا۔۔۔ سورج کے ساتھ تمہارا کیا سمنبدھ ہے؟ میرے ذہن کی قیدگاہ کی چابیاں میرے پاس نہ تھیں کہ دورازہ کھول دیتا، سوال کو بھی نجات ملتی اور مجھے بھی۔ چابیاں کس کے ...

مزید پڑھیے

کمپوزیشن دو

آپ لوگ مجھے جانتے ہیں، پہچانتے نہیں۔ پہچاننے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ آپ لوگوں نے مجھے دیکھا نہیں ہے اور آپ مجھے کبھی دیکھیں گے بھی نہیں۔ اگر میں آپ کے سامنے آ جاؤں، ممکن ہے، آپ میں سے کچھ لوگ بھڑک جائیں اور مجھے ادھ موا کر دیں۔ میرا کام ہی ایسا ہے۔ آپ وزارت خارجہ ...

مزید پڑھیے

انا کا زخم

شاید تیسرا دور تھا۔ بہکنے کی منزل تو ابھی بہت دور تھی مگر سرور کا گہرا رنگ سب پر چڑھ چکا تھا۔ خدا جانے کس طرح بات چیت ذاتی پسند اور ناپسند پر رک گئی۔ میں نے غور سے سنا راہی کہہ رہا تھا۔ ’’یارو! میں ان بچوں کو پیار کرتا ہوں، بار بار چومتا ہوں۔ جو ماں باپ سے چار چوٹوں کی مار کھاتے ...

مزید پڑھیے

بس اسٹاپ

زندگی کے اس موڑ پر، اس لمحے، مجھے انتظار کرنا تھا، بس انتظار کرنا تھا۔ میں اس بس اسٹاپ پر بس کا انتظار کر رہا تھا۔ میری تپتی ہوئی گھڑی میں ساڑھے بارہ بج رہے تھے اور میں پسینہ پسینہ ہو رہا تھا۔ نام کو تو وہ بس اسٹاپ تھا۔۔۔ نام کو کیا، وہ واقعی بس اسٹاپ تھا کہ بجلی کے کھمبے پر، ...

مزید پڑھیے

مقتل

کئی بار میرے پاؤں پھسلے اور ہر بار یوں ہوا کہ میری پسلیوں کا جال کیلوں میں پھنس گیا، میری آنکھوں کے گہرے گڈھے کیلوں میں الجھ گئے اور میں ٹنگ گیا اور منہ کے بل زمین پر گرنے سے بچ گیا۔ اگر میں منہ کے بل زمین پر گر جاتا تو میری موت ہو جاتی۔ مجھے چھت پر پہنچنا تھا۔۔۔ چار آڑی ترچھی ...

مزید پڑھیے

بھاگوتی

بھاگوتی تھکی ماندی گھر پہنچی اور دھڑام سے چارپائی پر گر پڑی۔ دھن پتی دروازے کی جانب پشت کئے الماری میں سے کونین نکال رہی تھی۔ وہ غیر متوقع دھماکے کی آواز سن کر سہم گئی۔ گھبراہٹ میں اس کے ہاتھ میں سے کونین کی شیشی پھسل کر فرش پر جا پڑی اور چکنا چور ہوگئی۔ شیشی کے ٹوٹنے کی آواز ...

مزید پڑھیے

شہر کی رات

ابھی اس نے سگریٹ سلگایا ہی تھا کہ بس آن دھمکی۔ سگریٹ لبوں میں دبا کر اس نے فٹ بورڈ پر قدم رکھا تو بس چل پڑی۔ جہازی بس خالی پڑی تھی۔ اور کنڈکٹر ڈرائیور کے پاس سے اگلی سیٹ پر بیٹھا ہوا تھا۔ کنڈکٹر اس کی جانب بڑھا تو اس نے ہپ پاکٹ میں ہاتھ ڈال کر پینتیس نئے پیسوں کے سکے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 6094 سے 6203