قومی زبان

اشکوں کی بارات

زینت کی زندگی پھر ایک بار جہنم بن گئی جب سے اس پر اکمل کا کالا سایہ پڑا تھا وہ اندرہی اندر پگھلنے لگی ۔ستم ظریفی کی بارش میں وہ شب و روز بھیگنے لگی۔کیونکہ غریبی کا ناگ پھن پھیلائے پھر سے کھڑا تھا۔اپنوں کی بے مروتی اور ان کی لعن و طعن اس کی راہ میں کانٹوں کی طرح بچھے ہوئے تھے گویا ...

مزید پڑھیے

ان دیوتا

’’تب اَن دیو، برہما کے پاس رہتا تھا۔ ایک دن برہما نے کہا۔ او بھلے دیوتا! دھرتی پر کیوں نہیں چلا جاتا؟‘‘ اِن الفاظ کے ساتھ چنتُو نے اپنی دل پسند کہانی شروع کی۔ گونڈوں کو ایسی بیسیوں کہانیاں یاد ہیں۔ وہ جنگل کے آدمی ہیں، اور ٹھیک جنگل کے درختوں کی طرح اُن کی جڑیں دھرتی میں گہری ...

مزید پڑھیے

نئے دیوتا

گاجر کے گرم حلوے کی خوشبو سے سارا کمرہ مہک اٹھا تھا اور اگر کسی دعوت کی سب سے بڑی خوبی یہی ہے کہ ہر کھانا نہایت سلیقے سے تیار کیا جائے اور معمولی معمولی چیزمیں بھی ایک نیا ہی ذائقہ پیدا کردیا جائے تو بلاشبہ دہلی کی وہ دعوت مجھے ہمیشہ یاد رہے گی۔ اتنی بھی کیا خوشی ہے، میں سوچ رہا ...

مزید پڑھیے

رفوگر

(۱) آسمان جیسے پھٹے پشمینے کا شامیانہ۔ نیل گگن پہ دودھیا میگھ، جیسے مدھوبن میں مست ہاتھی۔ ہندوستان کی قسم۔ کارواں سرائے سلامت یا الٰہی مٹ نہ جائے دردِ دل! ترہی والا سفید گھوڑے پر کالا شہسوار۔ ترہی بجی۔۔۔ پہلے دیوگیری بِلاوَل پھر مالکوس۔ دوکان کی اونچی سیڑھیاں چڑھ کے آئی ...

مزید پڑھیے

خوشبو کی کوئی منزل نہیں

سکھ وَنت کی زبان سے وہ بات ہزار بار سننے پر بھی ہمیشہ نئی معلوم ہوتی کہ تخلیق کے لمحے آوارہ تتلیوں کی طرح ہوتے ہیں، جو کبھی ایک پھول پر جا بیٹھتی ہیں، کبھی دوسرے پر یا یہ کہ گھوڑی اس وقت تک بوڑھی نہیں ہوتی جب تک گھوڑا بوڑھا نہیں ہوتا اور گھوڑا کبھی بوڑھا نہیں ہوتا۔ آتش دان کے ...

مزید پڑھیے

کتھا سرکس

ایک ہیلو لاہور، تیرے رنگ ہزار۔ میں کون؟ ماں کا دیو۔۔۔ دیوگندھار۔ جھک گیا آسمان۔ ہم قربان! کتھا سرکس عرف صدیوں پہ پھیلا فاصلہ۔ سنت نگر، وشنو گلی، گھوڑا اسپتال کہاں کا؟ لاہور کا، اور کہاں کا؟ سپنے میں دیکھا نیلا گنبد۔ دیوگندھار کا ایک نام امرت یان۔ سوکھے ہونٹوں پر پیاس۔ امرت ...

مزید پڑھیے

ہرے رنگ کی گڑیا

میں نے اُسے پہلے پہل ایک سرکاری دفتر میں دیکھا۔ وہ سبز رنگ کے لباس میں ملبوس تھی۔ میں اپنے پُرانے دوست مٹُّو سے ملنے کے لیے ٹھیک گیارہ بجے پہنچا۔ وہ وہاں پہلے سے موجود تھی۔ مٹو نے اُس سے میرا تعارف کرایا جب یہ پتہ چلا کہ وہ مصوّری میں دلچسپی رکھتی ہے اور اِس فن میں اُسے بڑی شہرت ...

مزید پڑھیے

مندر والی گلی

رائے صاحب کا گھر مندر والی گلی میں نہیں بلکہ گنگا کے کنارے تھا۔ وہ گھر گنگا کے کنارے نہ ہوتا تو مجھے کمرے کی کھڑکیوں سے گنگا کے درشن کیسے ہوتے۔ اب آپ پوچھیں گے یہ کب کی بات ہے۔ آرام سے بیٹھ کر سنیے۔ بہت خوشحالی کا زمانہ تھا۔ ایک پیسے میں تین سودے آجاتے تھے۔ آٹھ دن، نو میلے والی ...

مزید پڑھیے

پھر وہی کنج قفس

شِوپور جانے والے ساتھیوں کی طرف بیراگی بابا مڑ مڑ کر دیکھتا رہا۔ اُس نے سوچا آگے چل کر وشنو پور والے بھی بچھڑ جائیں گے، اور پھر کہیں رانگا ماٹی والے اس قافلے کو آخری سلام کریں گے۔ اپنی جنم بھومی کو کوئی کیسے بھول سکتا ہے؟ اور جب بچھڑنے والوں کے چہرے پونم کی چاندنی میں تحلیل ...

مزید پڑھیے

تانگے والا

شاہ محمد کے تکیے کا ایک حصّہ کاٹ کر اصطبل بنالیا گیا تھا۔ یہ سب کچھ جبراً ہوا۔ آخر رمضان کی چھاتی بھی تو چوڑی تھی اور اس دیوہیکل جوان کو دیکھ کر سب کے حوصلے جواب دے جاتے تھے۔ پھر جبر کا یہ قصّہ اور بھی طویل ہوگیا۔ کبوتروں کے دڑبے سے لے کر مزار تک لید بکھری رہتی تھی۔ لید بکھیرے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 6092 سے 6203