قومی زبان

ننگے ہاتھ

اس روزخاندان میں طوفان آگیا جب اس نے چچا کو اپنے ننگے ہاتھ سے چھو لیا۔ دالانوں اور بالکنیوں سے رنگین کڑھائیوں اور چمکتے ستاروں سے آراستہ دستانوں والے جانے کتنے ہاتھ برآمد ہوئے اور اسے گھسیٹتے ہوئے تاریکی میں گم ہوگئے ۔ ' خدایا! مجھے ہمت دے میں اپنی بھتیجی کو قتل کر سکوں ' اس نے ...

مزید پڑھیے

حویلی مہر داد کی ملکہ

وہ کسی یونانی دیومالائی داستان کا رنگ و آہنگ لیے کوئی جمالیاتی تجربہ تھی یا' ایفروڈائٹ ' کا پُر اسرار پیکر۔ ویسی ہی پُر فریب ، وہی جوشیلا شباب۔ اس کی مدہوش کر دینے والی اٹھان دیکھ کر سکھی سہیلیوں کا حسن اور جوانیاں ماند پڑ گئں اور بڑ ی بوڑھیاں تو اسے چلتی پھرتی قیامت سے تشبیہہ ...

مزید پڑھیے

توبہ سے ذرا پہلے

مجھے تم سے نفرت ہے ‘‘ ۔۔۔۔۔۔ ایک کردار نے دوسرے سے کہا اور اس نے یوں اسے مڑ کر دیکھا کہ وہ خود بھی ایک لمحے کو ساکت ہو گیا بالکل اس کی نظر کی طرح ٹھنڈا ، یخ، ساکت ۔ تو گویا محبت نہ ہوئی کوئی تھیٹر پلے ہو گیا ۔ چلیے جی یہ سین ختم۔۔۔ اُٹھائیے کرسی، میز اور دیوار ۔۔۔۔۔۔۔ اور اگلے سین ...

مزید پڑھیے

بی بانہ اور زوئی ڈارلنگ

بہت کلاسیکل پروفائل تھا بی بانہ کا۔۔۔ ڈ کنز اور روسٹیز کے پروفائل کی مانند۔ اٹھارویں صدی کی روسی اور ہسپانوی شاہزادیوں کی سی آن بان والی۔ یا پھر یوں جیسے چغتائی کی بنی تصویروں کے عشق بلب غزال رو نقوش اور ابھاروں میں جان پڑ گئی ہو۔ عمر خیام کی رباعیوں جتنی مے کش اور شاہ حسین کی ...

مزید پڑھیے

زمیں زادہ

وہ جس کے سر سے جنگلی کبوتروں کی خوشبو آتی تھی، اسے کافور کی بُو نے بد حواس کردیا۔ اس بُو کے ادراک نے اسے انکار کا حرف سکھایا اور وہ رات کے اندھیرے میں وہاں سے بھاگ نکلا۔ کتنی کھائیوں میں گرا، کتنی چوٹیں کھائیں۔ کیسے زخموں نے نڈھال کیا، یہ ایک خوفناک اوردرد و آشوب سے بھرے طویل سفر ...

مزید پڑھیے

عشق بالواسطہ

لارڈ کرزن ہندستان کے سابق وائسرائے اور انگلستان کے مشہور سیاست داں کی بابت مشہور تھا کہ وہ ’’میں‘‘ کااستعمال بہت کرتے تھے۔ قیصر ولیم شہنشاہ جرمنی میں بھی لوگ یہی عیب بتاتے تھے۔ نفسیات کے ماہرین کہا کرتے تھے کہ یہ لوگ اپنی انانیت کی وجہ سے وہ ٹھوکریں کھائیں گے کہ ان کے مرنے کے ...

مزید پڑھیے

گناہ کا خوف

عبدالمغنی صاحب نے مختاری کے پیشے میں وہ نام پیدا کیا تھا کہ ڈپلوما والے وکیل بیرسٹر کیا کریں گے۔ بڑے بڑے زمیندار، تعلقدار، مہاجن خوشامدیں کرتے تھے۔ کمشنری بھر میں کون ابتدائی مقدمہ ایسا ہوتا تھا جس میں عبدالمغنی صاحب دو فریق میں سے ایک کے مددگار نہ ہوں۔ ان کی ترتیب دی ہوئی مسل ...

مزید پڑھیے

تیسری جنس

مدی کا اصل نام احمدی خانم تھا۔ تحصیلدار صاحب پیار سے مدی مدی کہتے تھے، وہی مشہور ہوگیا۔ مدی کا رنگ بنگال میں سو دو سو میں اور ہمارے صوبہ میں ہزار دو ہزار میں ایک تھا۔ جس طرح فیروزے کا رنگ مختلف روشنیوں میں بدلاکرتا ہے اسی طرح مدی کا رنگ تھا۔ تھی تو کھلتی ہوئی سانولی رنگت جس کو ...

مزید پڑھیے

موت کا کنواں

پتا جی نے میرا ہاتھ زور سے پکڑ رکھا تھا تاکہ میں کہیں اِدھر اُدھر نہ چلا جاؤں اور بھیڑ میں گُم ہو جاؤں۔ میرے ساتھ میری ماں اور بڑی بہن بھی تھی جو عمر میں مجھ سے آٹھ سال بڑی تھی۔ ایتوار ہونے کے سبب گورنمنٹ سنٹرل مارکیٹ میں، جس کو ’نمائش گاہ ‘ یا ’نمائش‘ بھی کہتے ہیں، لوگوں کا ...

مزید پڑھیے

گونگے سنّاٹے

یہ ایک سچّی کہانی ہے مگر میری گزارش ہے کہ ان کرداروں کو آپ ڈھونڈنے نہیں نکلنا کیونکہ اب وہ وہاں پر نہیں رہتے ہیں۔ نہ جانے ٹرانسفر ہو کر کہاں چلے گئے۔ منوہر کھرے کام تو کسی اور سنٹرل دفتر میں کرتا تھا مگر عبوری طور پر رہتا تھا کسی اور محکمے کے گیسٹ ہاؤس میں۔ یہ ساری مہربانی اس کے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 6089 سے 6203