قومی زبان

اب میں وہاں نہیں رہتا

ڈاکیہ تین بار اس ایڈرس پر مجھے ڈھونڈنے گیا تھا لیکن تینوں بار مایوس ہو کر لوٹ آیا۔ اس نے دروازے پر کئی بار دستک دی تھی، بلند آواز میں میرا نام پکارا تھا اور پھر دائیں بائیں دیکھ لیا تھا کہ شاید کوئی پڑوسی آواز سن کر گھر سے باہر نکل آئے اور اسے بتلا دے کہ میں گھر میں موجود ہوں یا ...

مزید پڑھیے

اندھیر نگری

ایک زمانہ تھا کہ مطبوعہ تحریر کو اکثر مستند مانا جاتا تھا۔ جہاں کہیں کسی اخبار، رسالے یا کتاب میں کوئی بات چھپ جاتی اس پر فوراً یقین کیا جاتا۔ تشکیک کی بہت کم گنجائش ہوتی تھی۔ جہالت اور ضعیف الاعتقادی کی یہ حالت تھی کہ ’جو مانگو گے وہی ملے گا‘ جیسا اشتہار پڑھا نہیں، جھٹ سے ...

مزید پڑھیے

ڈاک بابو

انگریزوں کے قاعدے قانون آج بھی ہمارے ملک میں رائج ہیں۔ دیوانی قانون۔۔ ۔ فوجداری قانون۔۔ ۔۔ تعزیراتِ ہند۔۔ ۔۔ ! ہندستان ہی کیا پورے برِصغیر کی یہی حالت ہے۔ انگریزوں نے ہمارے نظام کو اتنا مسخ کر دیا کہ اب یوں لگتا ہے کہ ان سے پہلے ہندستان میں حکومتوں کا وجود ہی نہ تھا اور اگر تھا ...

مزید پڑھیے

ہرکارہ

تپتی ہوئی سرمئی سڑک پر وہ اپنی سائیکل گھسیٹے جا رہا تھا مگر ٹانگیں ساتھ نہیں دے رہی تھیں۔ سارا بدن جلتا ہوا سا محسوس ہو رہا تھا۔ سانس بھی پھول چکی تھی۔ پھر بھی وہ منزل تک پہنچنے کی لگاتار کوشش کر رہا تھا۔ آسمان سے شعلے برس رہے تھے۔ لوگ کئی دنوں سے مون سون کا انتظار کر رہے تھے مگر ...

مزید پڑھیے

ایک انقلابی کی سرگزشت

میری بوڑھی آنکھوں نے اسّی بہاریں اور اسّی پت جھڑ دیکھے ہیں۔ بہار تو خیر نام کے لیے آتی تھی ورنہ جن دنوں میں چھوٹا تھا میں نے کہیں چمن میں گل کھلتے دیکھے ہی نہیں۔ ہر طرف سیلاب، سوکھا، قحط، بھوک مری، غلامی اور بے روزگاری نظر آتی تھی۔ ملک پر فرنگیوں کا قبضہ تھا جو ہمیں غلامی کی ...

مزید پڑھیے

دودھ کا قرض

ساری بستی شعلوں میں لپٹی ہوئی تھی۔ آگ کی لپٹوں اور دھوئیں کی اوٹ میں سے نہ جانے کہاں سے ایک چھوٹا سا لڑکا برآمد ہوا اور سنسان سڑک پر سر پٹ دوڑ نے لگا۔ عمر کوئی دس گیارہ برس کی تھی۔ رات بھر وہ اندھیرے کو اوڑھ کر خود کو چھپاتا رہا، پھر صبح کاذب نے اس کی امیدیں جگائیں اور وہ خود کو ...

مزید پڑھیے

گواہوں کی تلاش

میں نے گواہوں کی تلاش میں سارا شہر چھان مارا مگر کوئی گواہی دینے کے لیے تیار نہ ہوا۔ انھیں عدالت میں جھوٹ نہیں بولنا تھا بلکہ سچائی بیان کرنی تھی، پھر بھی کسی کو میرے ساتھ ہمدردی نہ ہوئی۔ شاید عدالت میں سچ بولنا مشکل ہوتا ہو گا۔ نہیں تو سب کے سب انکار کیوں کرتے ؟ ہنسی خوشی میری ...

مزید پڑھیے

جاگتی آنکھوں کے خواب

آرزوؤں کی اُڑان کی کوئی حد نہیں ہوتی۔ وہ نہ مالی حالت دیکھتی ہے اور نہ سماجی رتبہ۔ شعبان ڈار کی دِلی آرزو تھی کہ اس کے دونوں بیٹے، خالد اور اشتیاق ڈاکٹر بن جائیں۔ در اصل ان دنوں اکثر والدین اپنے بچوں کو پڑھا لکھا کر ڈاکٹر یا انجینئر بنانا چاہتے تھے۔ ان پیشوں کے علاوہ کچھ سوجھتا ...

مزید پڑھیے

فرض شناس

میں اپنے دفتر میں بیٹھا سوچ رہا تھا کہ آج کوئی منحوس خبر ضرور ملنے والی ہے۔ کوئی کابوسی ڈر تھا جو مجھے پریشان کر رہا تھا۔ دن ہی کچھ ایسے تھے کہ ذہن ہر دم منفی خیالات میں گرفتار رہتا تھا۔ ہڑتالیں، جلسے جلوس، سرکاری کرفیو، سِول کرفیو، گولی باری، بم دھماکے، انکاونٹر، ناکہ بندی، ...

مزید پڑھیے

لہو کے گِرداب

کئی گھنٹوں سے وہ اپنے ہم سفر کا انتظار کر رہی تھی مگر وہ واپس آیا نہ کہیں دکھائی دیا۔ ہر لمحہ اس کے لیے امتحان بنتا جا رہا تھا۔ وہ سوچنے لگی۔ ’’ یہ ریل گاڑی جب منزل مقصود پر پہنچ جائے گی تو میں کہاں جاؤں گی؟وہاں میرا کوئی بھی نہیں ہے۔ اجنبی شہر۔۔ ۔۔ ۔۔ اجنبی راستے۔۔ ۔۔ ۔ اجنبی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 6090 سے 6203