قومی زبان

غازی مرد

رات کو جب کبھی کتوں کے بھونکنے، یا مرغ کی بے وقت اذان سے چراغ بی بی کی نیند اچٹ جاتی، تو وہ دبے پاؤں اپنی کوٹھری سے نکلتی، اور راہ ٹٹولتی ہوئی باہر آنگن میں اپنےشوہر کی چار پائی پر آکر آہستہ سے بیٹھ جاتی اور اس کے پاؤں دابنا شروع کردیتی اور پھر جب تک اسے دوبارہ نیند کے جھونکے نہ ...

مزید پڑھیے

بہروپیا

یہ اس زمانے کی بات ہے جب میری عمر بس کوئی تیرہ چودہ برس کی تھی۔ ہم جس محلے میں رہتے تھے وہ شہر کے ایک بارونق بازار کے پچھواڑے واقع تھا۔ اس جگہ زیادہ تر درمیانے طبقے کے لوگ یا غریب غرباء ہی آباد تھے۔ البتہ ایک پرانی حویلی وہاں ایسی تھی جس میں اگلے وقتوں کی نشانی کوئی صاحب زادہ ...

مزید پڑھیے

میگی

اواخر اپریل کی چمکدار دوپہر تھی۔ امین تھوڑی دیر کے لیے دفتر سے اٹھ آیا تھا۔ کھانے کا وقت ہونے کے باعث بازار میں چہل پہل کم تھی، سڑک پر لوگ نہیں تھے۔ شور تھا۔ جتنے ہوٹل اور ریستوران تھے سب کے ریڈیو سیٹ مختلف سٹیشنوں کے پروگرام سنا رہے تھے۔ پھر دھوپ کی ہر لحظہ بڑھتی تمازت۔ وہ ...

مزید پڑھیے

میرے خیالوں کی ہم سفر

آج بھی جب وہ یاد آتی ہے تونجانے کیوں؟میری آنکھیں بھیگ جاتی ہیں۔ دل کے موسم پر ویرانی کی بدلی سی چھا جاتی ہے۔ مجھے تو اس سے کبھی محبت تھی ہی نہیں۔۔۔پھر ایسا کیا ہوا؟ کب،کیوں اور کیسے ہوگیا؟ یہی بات میرے لئے حیران کُن تھی۔وہ جب مجھ سے پوچھتی، علی!! تم نے کبھی محبت کی لذت کو محسوس ...

مزید پڑھیے

گہرے گھاؤ

نومبر کی وہ وحشت نا ک شام اس کے لا شعور میں کائی کی طرح جم چکی تھی ۔ اسے اپنے ہاتھ لال اور ہرے رنگ کا ایک شاہکار دکھائی دیتے تھے۔ جیسے کسی آرٹسٹ نے اپنے دل کے رنگین زخم کینوس پر اتار دیئے ھوں۔ جب وہ کھرچ کھرچ کر تھک جاتی تو وارڈ میں موجود سب کرم فرماؤں کو رو رو کر اپنے زخم ...

مزید پڑھیے

دوسرا مرد

جب مرد کسی سے محبت کرتا ہے تو کیا سچ مچ واقعی اسی سے محبت کرتا ہے،کیا پھر اس سے شادی بھی کر لیتا ہے ؟ وہ مجھ سے آج رو رو کر پوچھ رہی تھی۔ ساون کی کالی گھور گھٹاوں کی طرح اس کی آنکھوں میں آنسو تھمنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔ اس کی خوبصورت چمکدار آنکھیں سوجن اور سرخی کی وجہ سے آج ...

مزید پڑھیے

تہذیب کی برزخ

ارے۔۔۔ بھلا یہ بھی کوئی زندگی ہے؟۔ جب دیکھو اور جسے دیکھو بس نصیحت پہ نصیحیت کرنے پر تلا ہے۔۔۔ سب کا بس مجھ ہی پر کیوں چلتا ہے؟ جینا ، ان وقت ناوقت ملی نصیحتوں کی بھرمار سے بری طرح اکتا چکی تھی۔ امی، دادی اماں اور ابا جان ۔۔۔ ارے سب کے سب۔۔۔ بھیا کو بھلا کیوں کچھ نہیں کہتے؟۔ کیا ...

مزید پڑھیے

اَمتل

تالیوں کی گونج نے سمینار کے اختتام کا اعلان کیا تو وہ اپنا بیگ اٹھا کر سست روی سے قدم بڑھاتی ہوئی ھال کے خارجی دروازے کی طرف بڑھ گئی۔ وہ دروازے سے چند قدم دوری پر تھی کہ کسی نے اسے پیچھے سے پکارا۔ وہ ٹِھٹھک کر رُکی اور مُڑ کر دیکھا تو پروفیسر فصیح چوہدری کچھ کہتے ہوئے تیزی کے ساتھ ...

مزید پڑھیے

وجود سے وجود تک

اللہ نے اسے پانچ برس بعد اس خوشخبری سے نوازہ تھا ۔ جس کے لیے وہ پل پل ترسی تھی۔ اب اسکے بھی اولاد کی مہک آئے گی،اس کا سونا پن بھی اب دور ہو جائے گا۔ وہ عاشر کو اپنی رپورٹ دکھاتے ہوئے بولی، ۔تم اب خوش ہو نا،اب تو تم دوسری شادی نہیں کرو گے بولو وہ مسکراتے ہوئے، کچھ یوں گویا ہوا ہاں ...

مزید پڑھیے

رقص مرگ

ایک عجیب سی بے بسی کا امڈتا ہوا سمندر اس کی آنکھوں سے عیاں تھا۔ چہرے پر انمٹ صدمات کی دھول عمیق اداسیوں کی مہر ثبت کر چکی تھی۔ اب تو شاید، اس کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں بھی بوڑھی ہو چکی تھیں.اسے کچھ سمجھ ہی نہیں آرہا تھا۔ کسی کھوئی ہوئی بے نشاں منزل کے لیے بھٹکتے ہوئے شکستہ پا دل ...

مزید پڑھیے
صفحہ 6084 سے 6203