سرخ گلاب
اس کا اپنا گھر تو کوئی تھا ہی نہیں مگر گاؤں کے ہر گھر کو وہ اپنا ہی گھر سمجھتی تھی۔ دن میں وہ کبھی کسی گھر میں دکھائی دیتی کبھی کسی گھر میں۔ کبھی ذیل دار کے ہاں تمباکو کوٹ رہی ہوتی کبھی شمے گوجر کے ہاں چھاچھ بلورہی ہوتی۔ کبھی مائی تاباں کے ساتھ اس کچی دیوار پر جس نے سارے گاؤں کا ...