قومی زبان

تنکے کا سہارا

ہمارے محلے میں ایک میر صاحب رہا کرتے تھے۔ نام سے تو ان کے شاید دو ایک آدمی ہی واقف تھے مگر رفتہ رفتہ سب کو یہ معلوم ہو گیا تھا کہ وہ چنگی خانے میں ملازم ہیں۔ خدا معلوم وہاں کیا کام کرتے تھے مگر شام کو جب وہ لوٹتے تو کبھی دو چار گنے، کبھی گڑ کی بھیلی، کبھی پان، کبھی کھجوریں رومال ...

مزید پڑھیے

سیاہ و سفید

جی۔ اے۔ وی۔ مڈل اسکول کی استانی میمونہ بیگم آئینے کے سامنے کھڑی اپنے بالوں میں کنگھی کر رہی تھی۔ اور ساتھ ہی ساتھ سوچ رہی تھی کہ پچھلے کئی برس میں اپنی قلیل تنخواہ میں سے دو دو تین تین روپے بچاکر جو سو روپیہ جمع کرلیا ہے اس کا کون سا زیور بناؤں کہ اچانک اسے اپنی بائیں پیشانی کے ...

مزید پڑھیے

کن رس

بعض لوگوں کو گانے بجانے سے قدرتی لگاؤ ہوتا ہے۔ خود چاہے بے سرے ہی کیوں نہ ہوں مگر سریلی آواز پر جان دیتے ہیں۔ راگ ان پر جادو کا سا اثر کرتا ہے۔ رفتہ رفتہ وہ گانے بجانے کے ایسے عادی ہو جاتے ہیں جیسے کسی کو کوئی نشہ لگ جائے۔ صاحب ثروت ہوئے تو عمر بھر گویوں کی پرورش کرتے رہے، نہیں تو ...

مزید پڑھیے

مکرجی بابو کی ڈائری

کئی روز کی مسلسل مصروفیتوں کے بعد ورما ایشیاٹک کمپنی کے اسسٹنٹ ڈائریکٹرمکرجی بابو کوفراغت کی ایک شام نصیب ہوئی تو انہوں نےسوچاکہ اسے یونہی نہیں گنوانا چاہیے۔ لندن کی ایک تنگ اور پرپیچ گلی میں جو پکاڈلی سرکس سے زیادہ دور نہ تھی، ایک پرانے مکان کی چوتھی منزل پر ان کا ایک چھوٹا ...

مزید پڑھیے

بحران

جب سے سرکار نے لوگوں کو مکانات تعمیر کرانے کے لیے زمینیں الاٹ کرنی شروع کی ہیں، اس شہر کی کایا ہی پلٹ گئی ہے۔ آس پاس کے وہ علاقے جو میلوں تک ویران پڑے تھے ، اب ان میں جگہ جگہ کھدائیاں ہو رہی ہیں۔ ان گنت راج مزدور، مستری اور ٹھیکہ دار ایک عجیب بے چینی اور عجلت کی کیفیت کے ساتھ کام ...

مزید پڑھیے

دو تماشے

مرزا برجیس قدر کو میں ایک عرصے سے جانتا تھا۔ ہرچند ہماری طبیعتوں اور ہماری سماجی حیثیتوں میں بڑا فرق تھا، پھر بھی ہم دونوں دوست تھے۔ مرزا کا تعلق ایک ایسے گھرانے سے تھا جو کسی زمانے میں بہت معزز اور متمول سمجھا جاتا تھا، مگر اب اس کی حالت اس پرانے تناور درخت کی سی ہوگئی تھی جو ...

مزید پڑھیے

سرخ جلوس

یہ ان دنوں کا قصہ ہے جب میں نے ’’نوبہار‘‘ کے چیف ایڈیٹر سے ایک معمولی سا اختلاف ہو جانے پر جوانی کے جوش میں استعفا دے دیا تھا۔ اور پھر رفتہ رفتہ فکر معاش نے مجھے ’’ستارہ مشرق‘‘ میں ملازمت کرنے پر مجبور کر دیا۔ ’’ستارہ مشرق‘‘ کسی رسالہ یا اخبار کا نام نہیں بلکہ یہ ایک ہوٹل ...

مزید پڑھیے

ادّھا

سب اسے ’’ادّھا‘‘ کہہ کے بلاتے تھے۔ پورا کیا، پونا کیا،بس ادّھا۔ قد کا بونا جو تھا۔ پتا نہیں کس نے نام رکھا تھا۔ ماں باپ ہوتے تو ان سے پوچھتا۔جب سے ہوش سنبھالا تھا، یہی نام سنا تھا اور یہ بھی نہیں کہ کبھی کوئی تکلیف ہوئی ہو۔ دل دُ کھا ہو۔ کچھ نہیں۔ ہر وقت اپنی مستی میں رہتا ...

مزید پڑھیے

سانجھ

لالہ جی کو یہ بات کھل گئی کہ بڑھیا(لالائن) نے بال کٹوا دئیے۔ اور ان سے پوچھا بھی نہیں۔ پچھلے مہینے ان کی بہو مائیکے گئی تھی تو اپنی ساس کو ساتھ لے گئی تھی، دلی۔ کہ ٹرین میں گود کے بچے کو سنبھالنے میں آسانی رہے گی۔ لالہ جی سے خود مایا دیوی نے پوچھا تھا ’’بہوکہہ رہی ہے دلی چلنے کے ...

مزید پڑھیے

مسکراہٹ کا عکس

روشنی کا استعارہ کر لیا دل نے ہر آنسو ستارہ کر لیا ایک بہت بڑے فریم میں ابا جی کی ایک بڑے سائز کی تصویر لگا کے میں نے فریم کو اپنے ڈرائینگ روم میں آویزاں کر رکھاہے۔گھر کے باقی کمروں میں بھی ان کی چھوٹی چھوٹی تصویریں سجارکھی ہیں اور یہ ساری تصویریں میرے من میں بھی لگی ہوئی ہیں۔ گو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 6074 سے 6203