تنکے کا سہارا
ہمارے محلے میں ایک میر صاحب رہا کرتے تھے۔ نام سے تو ان کے شاید دو ایک آدمی ہی واقف تھے مگر رفتہ رفتہ سب کو یہ معلوم ہو گیا تھا کہ وہ چنگی خانے میں ملازم ہیں۔ خدا معلوم وہاں کیا کام کرتے تھے مگر شام کو جب وہ لوٹتے تو کبھی دو چار گنے، کبھی گڑ کی بھیلی، کبھی پان، کبھی کھجوریں رومال ...