قومی زبان

تیسری دُنیا کے لوگ

رات قبر کے اندھیرے کی طرح تاریک اور خاموش تھی ۔ چہار طرف مہیب سناٹا چھایا ہوا تھا ۔ تھکے ہارے جسم زلفِ شب کی گھنی چھاؤں میں پناہ لے کر عالمِ خواب میں مست و سرشار تھے کہ اچانک چاروں سمتیں شفق کی طرح سرخ ہوگئیں ۔ رفتہ رفتہ وہ تمام روشنیاں نزدیک آتی گئیں ۔ ایک ہجوم تھا جو طوفانی ...

مزید پڑھیے

سیاہ آسمان

اندھیری سیڑھیاں پاؤں سے ٹٹول ٹٹول کر چڑھتے چڑھتے دم پھول گیا تو سانس بحال کرنے کے لیے دیوار کا سہار الے کر رک گیا۔ اور ہاتھ یونہی غیرارادی طور پر سر کے ارد گرد کسے لوہے کے کڑے کو چھونے لگا۔ میں اس بلڈنگ میں باقس کے فلیٹ پر پہلے ہزار مرتبہ آچکاہوں مگر پہلے نہ تو سیڑھیاں کبھی اتنی ...

مزید پڑھیے

تنخواہ کا دن

آج مزدوروں کے چہرے پر خلاف معمول تازگی اور توانائی جھلک رہی تھی، آج سب مستعدی دکھلا رہے تھے۔ آج کسی کو تھکن محسوس نہیں ہورہی تھی۔ آج کسی کو بخار نہیں تھا۔۔۔ آج ان کی تنخواہ کا دن تھا۔ مُراد تپتے ہوئے سرخ لوہے کے ٹکڑوں پر ہتھوڑے برساتے ہوئے کچھ سوچ سوچ کر آپ ہی آپ ...

مزید پڑھیے

زرد چہرے

آصف کی بہن جوان تھی اور پانچ سال سے اپنے دولہا کا انتظارکررہی تھی۔ جانے اس کا دولہا کون تھا؟ کیسا تھا کہاں کا رہنے والا تھا اور کب آنے والا تھا۔ آصف کو کچھ ایسا محسوس ہوتا کہ جب تک اس کی بہن کے رخساروں پر گیندے کے پیلے پیلے پھول کھلے ہیں۔ اس کا دولہا کبھی نہ آئے گا۔ کیوں کہ دولہے ...

مزید پڑھیے

ٹام جیفرسن کے پنجرے

نوجوان لڑکا طوطے کو گالی سکھارہا تھا۔ ’’بول مٹھو۔۔۔ سالا۔۔۔!‘‘ سالا۔۔۔ سالا۔۔۔ سالا۔۔۔ طوطا خوش دلی سے دوہرانے لگا۔۔۔ بڈھے ٹام نے گردن موڑ کر لڑکے کو دیکھا۔ ’’کیا کرتے ہو۔۔۔؟ میرے بچوں کو خراب کر رہے ہو۔۔۔؟‘‘ نوجوان، ٹام کی بات نظر انداز کر کے اور اس کی طرف شوخی سے ...

مزید پڑھیے

حمام میں

(۱) نام تو تھا اس کا فرخندہ بیگم مگر سب لوگ فرخ بھابی فرخ بھابی کہا کرتے تھے۔ یہ ایک طرح کی رسم سی پڑگئی تھی۔ ورنہ رشتہ ناتہ تو کیا، کسی نےاس کے مرحوم شوہر کو دیکھا تک نہ تھا۔ وہ کسی کی بھابی تھی یا نہ تھی۔ مگر اس کی خدمت گزاریوں کو دیکھتے ہوئے یہ نام اس پرپھبتا خوب تھا، اور وہ خود ...

مزید پڑھیے

اندھیرے میں

’’مجھے چھوڑ دو۔۔۔ مجھے چھوڑ دو۔۔۔ اب میں ایک پل بھی یہاں نہیں رہوں گا۔‘‘ بڈھے نے اپنے کمزور اور کانپتے ہوئے ہاتھوں سے نوجوان کی قمیص کا دامن اور بھی مضبوطی سے تھام لیا۔ اور بڑی لجاجت سے کہا، ’’بس اب غصہ تھوک بھی ڈالو بیٹے۔ کہہ جو دیا اب کبھی نہیں پیئوں گا۔ لو میں توبہ کرتا ...

مزید پڑھیے

سایہ

دن بھر جیسے جیسے سائے گھٹتے بڑھتے اور زاویے بدلتے رہتے، سبحان کی دکان بھی جگہیں بدلتی رہتی۔ صبح کو سورج نکلنے سے پہلے ہی وہ اپنا ٹھیلہ وکیل صاحب کے مکان کے سامنے سڑک کے اس کنارے لا کھڑا کرتا۔ اس طرف کوئی عمارت نہ تھی۔ زمین بھوبھل کی طرح تھی اور تھوڑی سی ڈھلوان کے بعد ایک میدان ...

مزید پڑھیے

ناک کاٹنے والے

تین شخص چغے پہنے سر پر آڑی ترچھی پگڑیاں باندھے، ننھی جان کے کمرے میں داخل ہوئے اور چاندنی پر گاؤ تکیوں سے لگ کر بیٹھ گئے۔ ’’مزاج تو اچھے ہیں سرکار!‘‘ رنگ علی نے کہا۔ ان تینوں میں سے کسی نے اس کی مزاج پرسی کی رسید نہ دی۔ گلابی جاڑوں کے دن تھے۔ باہر ہلکی ہلکی بوندا باندی ہو رہی ...

مزید پڑھیے

جوار بھاٹا

ایک شجرہ نسب چھجو، باپ کا نام باوجود تحقیق بسیار معلوم نہ ہو سکا۔ کسی گاؤں میں کبابی کی دکان کرتے تھے۔ شیخ مسیتا، چھجو کے بیٹے۔ شہر میں پان سگرٹ کی دکان تھی پھر عطاری کرنےلگے۔ حکیم عمر دراز، شیخ مسیتا کے بیٹے۔ ان پڑھ تھے مگر ساری عمر حکمت کرتے رہے۔ بلا کے زیرک تھے۔ اگر تعلیم سے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 6073 سے 6203