قومی زبان

چھنال

مون سون کی پہلی بارش والے روز اس کا جسم درد سے اینٹھ رہا تھا، اور وہ چارپائی پر پڑی رہنا چاہتی تھی۔ صبح سے آسمان پر بادل تھے۔ وہ بے خیالی میں اس چیل کو تک رہی تھی، جو ہوا میں تیرتی معلوم ہوتی۔ کچھ دیر بعد چیل غوطہ لگا کر منظر سے غائب ہوگئی۔ وہ یوں ہی لیٹے آسمان کو تکتی رہی۔ ...

مزید پڑھیے

ایک کال سینٹر ایجنٹ کی سرگزشت

اس کی موت کے تین روز بعد، یک دم اس احساس نے آن گھیرا کہ میں اس سے محبت کرتا ہوں۔ میں اس امر سے واقف تھا کہ یہ جذبہ میری ذلت کا باعث بن سکتا ہے، سو میں اس سے جوجھنے لگا۔ اور یہی سے نیستی کا آغاز ہوا۔ بدقسمتی کسی کیمیائی عمل کے دوران جنم لینے والے حادثات کے مانند ہوتی ہے، جس سے مزید ...

مزید پڑھیے

چاند ماموں

یہ ان بیت ہوئے دنوں کا قصّہ ہے، جب تاروں بھرا آسمان ہمارا تھا۔ ہم چاند کو مٹھی میں بند کرلیتے۔ ہوائیں چکھنے کے لیے چہرہ رضائی سے باہر رکھتے۔ تاریکی میں دُور کہیں مونگ پھلی والا آواز لگاتا۔ کتے کچھ دیر بھونک کر چپ ہوجاتے۔ اور کوئی زور سے کھانستا۔ ابھی ہماری گلی میں بجلی نہیں آئی ...

مزید پڑھیے

آخری آدمی

الیاسف اس قریے میں آخری آدمی تھا۔ اس نے عہد کیا تھا کہ معبود کی سوگند میں آدمی کی جون میں پیدا ہوا ہوں اور میں آدمی ہی کی جون میں مروں گا۔ اور اس نے آدمی کی جون میں رہنے کی آخر دم تک کوشش کی۔ اور اس قریے سے تین دن پہلے بندر غائب ہو گئے تھے۔ لوگ پہلے حیران ہوئے اور پھر خوشی منائی کہ ...

مزید پڑھیے

اپنی آگ کی طرف

میں نے اسے آگ کی روشنی میں پہچانا۔ قریب گیا۔ اسے ٹہوکا۔ اس نے مجھے دیکھا پھر جواب دیے بغیرے ٹکٹکی باندھ کر جلتی ہوئی بلڈنگ کو دیکھنے لگا۔ میں بھی چپ کھڑا دیکھتا رہا۔ مگر شعلوں کی تپش یہاں تک آرہی تھی۔ میں نے اسے گھسیٹا، کہا کہ چلو۔ اس نے مجھے بے تعلقی سے دیکھا۔ پوچھا، ...

مزید پڑھیے

ٹھنڈی آگ

مختار صاحب نے اخبار کی سرخیوں پر تو نظر ڈال لی تھی اور اب وہ اطمینان سے خبریں پڑھنے کی نیت باندھ رہے تھے کہ منی اندر سے بھاگی بھاگی آئی اور بڑی گرم جوشی سے اطلاع دی کہ ’’آپ کو امی اندر بلارہی ہیں۔‘‘ منی کی گرم جوشی بس اس کی ننھی سی ذات ہی تک محدود تھی۔ پوسٹ ماسٹر صاحب اسی طرح گم ...

مزید پڑھیے

آخری موم بتی

ہماری پھوپھی جان کو تو بڑھاپے نے ایسے آلیا جیسے قسمت کے ماروں کو بیٹھے بٹھائے مرض آدبوچتا ہے۔ میری سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ بعض لوگ اچانک کیسے بوڑھے ہوجاتے ہیں۔ آندھی دھاندھی جوانی آتی ہے، بڑھاپا تو دھیرے دھیرے سنبھل کر آیا کرتا ہے۔ لیکن پھوپھی جان بوڑھی نہیں ہوئیں بڑھاپے ...

مزید پڑھیے

روپ نگر کی سواریاں

منشی رحمت علی حسب عادت منہ اندھیرے اکول کے اڈے پر پہنچ گئے۔ اڈا سنسان پڑا تھا۔ چاروں طرف اکّے ضرور نظر آتے تھے لیکن بے جتے ہوئے۔ ان کے بموں کا رخ آسمان کی طرف تھا اور چھتریاں زمین کی طرف جھکی ہوئی تھیں۔ جابجا کھونٹوں سے بندھے ہوئے گھوڑے یا تو اونگھ رہے تھے یا ایک الکساہٹ کے ساتھ ...

مزید پڑھیے

پچھتاوا

مادھو پیدا ہوکر بہت پچھتایا، مگر پچھتانے سے کیا ہوتا تھا، پیدا تو وہ ہوچکا تھا، اصل میں وہ ماں کے بھرّے میں آگیا، عجیب بات ہے کہ ماں ہی کی باتوں سے اس کے اندر یہ بات بیٹھ گئی کہ آدمی کو پیدا ہی نہیں ہونا چاہیئے اور ماں ہی کی باتوں میں آکر وہ پیدا ہونے پہ رضا مند ہوگیا، اسی پچھتاوے ...

مزید پڑھیے

وہ اور میں

اب اس میز پربس چائے کے باسی برتن تھے اور بجھے ہوئے سگریٹوں کے ٹکڑے، سگریٹ کی راکھ کچھ میز بکھری ہوئی، کچھ ایش ٹرے میں پڑی ہوئی، اس نے میز کا جائزہ لیا، پھر کاؤنٹر پہ گیا، منیجر سے پوچھا، ’’وہ زینے کے برابر والی جو میز ہے اس پر ایک شخص بیٹھا تھا وہ چلا گیا؟‘‘ منیجر نے زینے کے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 6064 سے 6203