قومی زبان

چور

اُسے پتا تھا کہ آج وہ پکڑا جائے گا۔ آنے والی مشکل کی بُو ہوا میں چاروں طرف پھیلی ہوئی تھی۔ صبح سویرے گھر سے نکلنا اور پھر گھنٹوں بعد لوٹنا اب اُس کی عادت بن چکی تھی۔ مگر شاید آج کسی نے اُس کا پیچھا کاٹ تھا۔ اور یہ عادت؟ یہ عادت اُسے پڑی کیسے؟ پہلے پہل تو وہ گھر سے نکلتا اور ارد گرد ...

مزید پڑھیے

حرامخور

حرامخور شہر میں داخل ہو چکا تھا۔ کب اور کیسے ہُوا، اِس بارے میں اتفاق نہیں تھا۔ اتفاق اِس بارے میں بھی نہیں تھا کہ اُس کی اصل شکل و ہیئت کیا ہے۔ کہ وہ شہر میں داخل ہو چکا تھا اِس کی پہلی واضح خبر تب ملی جب بخار کی دوا پینے والے بہت سے بچے جاں بحق ہو گئے اور تفتیشی ٹیم نے بتایا کہ ...

مزید پڑھیے

مقدس لمحے

صبح چودہ اگست تھی۔ ایک عجیب سی خوشی اور انتظار اگست شروع ہوتے ہی سبھی دلوں میں پھوٹ پڑا تھا اور جوں جوں چودہ اگست قریب آ رہی تھی، بے چینی بڑھتی جا رہی تھی۔ اُس کی سمجھ میں‌ نہ آتا تھا کہ یہ بے چینی کس بات کی ہے۔ بہر حال وہ خوش تھا اور دوسروں کی طرح وہ بھی اپنے نئے کپڑے تیار کر کے سو ...

مزید پڑھیے

جیون راگ

صبح، آٹھ بج کر پچاس منٹ، روشنی۔ ۔ ۔ گھر کے خاموش کمرے میں ایک بڑے صوفے پر حیدر مزے سے لیٹا ایک دلچسپ ناول پڑھ رہا تھا۔ کالج سے سردیوں کی چھٹیاں تھیں اور مکمل فراغت ہونے کے باوجود وہ گھر والوں کے ساتھ گھومنے پھرنے نہیں گیا تھا۔ آخر گھر میں آرام سے ناول پڑھنے اور ٹی وی دیکھنے کا ...

مزید پڑھیے

مکروہ پرندہ

دادی اماں کی کہانیوں میں مکروہ پرندے کا ذکر ضرور ہوتا تھا، جس نے ساتھ والے گاوں پر آفت نازل کر رکھی تھی۔ بچوں کے اصرار پر دادی اماں نے بتایا تھا کہ مکروہ پرندے میں ایک سینکڑوں سال پرانی درندہ صفت روح بستی ہے۔ وہ روح جس نے ماضی میں قبیلے کے قبیلے اور پوری پوری نسلیں نیست و نابود ...

مزید پڑھیے

سویا ہُوا محل

گاؤں والے سخت تنگ آ چکے تھے۔ ڈاکو دن دیہاڑے آتے اور کسی کو بھی لوٹ کر لے جاتے۔ مریض کلینک کے باہر ‘بند ہے’ کا بورڈ دیکھ کر واپس چلے آتے۔ بچوں کی تعلیم کا کوئی انتظام نہیں تھا۔ سرکاری اہلکار کٹائی کے وقت گاؤں آتے اور شاہی حکمنامہ دکھا کر دو تہائی فصلیں قبضے میں کر لیتے۔ اگر کبھی ...

مزید پڑھیے

ناپاک

“آسمان والے کا واسطہ حاجی صاحب۔ ۔ ۔ ۔ آسمان والے کا واسطہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہمارے بچوں کو بچا لیں!” دروازہ کھُلتے ہی یوحنا حاجی سلیم کے قدموں میں گِر پڑا اور بلبلا کر رونے لگا۔ پیچھے اُس کی بیوی گھٹنوں کے بل بیٹھی اپنے دو بچوں کو کسی پاگل دیوانے کی طرح پیار کئے جا رہی تھی۔ وہ اُنہیں سینے ...

مزید پڑھیے

ایک پاگل کہانی

جب شائستہ الفاظ میں ملبوس اس کہانی کو خلق ہوئے دس برس بیت گئے، تو میں نے اسے خیالات کا نیا لباس عطا کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس یقین کے ساتھ کہ لباس کی تبدیلی کے حساس عمل کے دوران کہانی کی روح سے چھیڑ خانی سے باز رہوں گا۔ گو یہ ممکن نہیں تھا! یہ عجیب و غریب کہانی میں نے دس برس قبل لکھی ...

مزید پڑھیے

سرد خانے کا ملازم

جب غفور نے لاش وصول کی، وہ بری طرح تپ رہی تھی! وہ چونکا ضرور، لیکن حیران ہونے سے باز رہا۔ اور ایسا کرنا مشکل نہیں تھا، سردخانے کے درودیوار حیرت چُوس لینے کے عادی تھے۔ اور پھر۔۔۔ مُردے پر چڑھا تپ امکانی تھا کہ آج گرمی کچھ زیادہ تھی! لیکن جب انچارج کی جانب سے، مشینی انداز میں، لاش ...

مزید پڑھیے

سسکتی ہوئی قلقاریاں

اس کی چھاتیوں میں زندگی تھی، جو اسے تکلیف دیتی، قطرہ قطرہ ٹپکتی، سینہ بند گیلا کرتی، نشان چھوڑتی، اور باقی رہتی۔ اس کا سینہ بھرا ہوا تھا۔ کاندھے جھکے تھے۔ وہ درد میں مبتلا تھی۔ اس رس کے سبب، جو اس کے سینے کا ابھار تھا، وہاں جوش مارتا تھا۔ جسے نئی نسل کی پرورش کرنی تھی کہ وہ نئی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 6063 سے 6203