قومی زبان

تماشا گھر

جو کچھ ہوا، وہ آخر ہوا کیسے؟ میں اپنے باہری کمرے کے دروازے پر کرسی ڈالے بیٹھا تھا۔ سامنے کھلا میدان۔ وہ مشرق کی طرف سے آئی تھی۔ بس ایک پرچھائیں سی۔ کوئی چیز کب کیسی نظر آتی ہے یہ بات کیا دیکھنے والے کی خود اپنی حالت پر منحصر نہیں؟ یہ سب تو میں اب بتا سکتا ہوں کہ وہ کوئی تیس ...

مزید پڑھیے

ایک حلفیہ بیان

میں مقدس کتابوں پر ہاتھ رکھ کر قسم کھاتا ہوں کہ جو کچھ میں نے دیکھا ہے وہ سچ سچ بیان کروں گا۔اس سچائی میں آپ کو شریک کرلوں گا جو صرف سچ ہے اور سچ کے سوا کچھ نہیں۔ یہ ایک رات کی بات ہے۔ یہ ایک ایسی رات کی بات ہے جب میں اکیلا اپنے بستر پر لیٹا تھا اور دیوا پر ٹیوب لائٹ جل رہی تھی۔ ...

مزید پڑھیے

ہائی وے پر ایک درخت

گردن میں پھندا سخت ہوتا جارہا تھا۔ آنکھیں حلقوں سے باہر نکلنے کے لئے زور لگانے لگی تھیں۔ منھ کا لعاب جھاگ بن کر ہونٹوں کے کونوں پر جمنے لگا تھا۔ موت اور زندگی کے درمیان چند لمحوں کافاصلہ اب باقی رہ گیا تھا۔ دم نکلنے سے پہلے پھٹی پھٹی آنکھوں سے اس نے شاخ کو دیکھا، جس میں وہ لٹکا ...

مزید پڑھیے

میراث

جب ٹیپو سلطان کا گھوڑا ٹی ٹی نگر سے گزرا اور بان گنگا کے پل کے قریب پہنچا تو ایک جلیبی والے کو دیکھ کر گھوڑا مچل گیا۔ تھکے مارے گھوڑے نے بہت دنوں سے جلیبیوں کی شکل نہیں دیکھی تھی۔ وہ بدکا اور دو لتیاں اچھالنے لگا ۔ ٹیپو اپنے گھوڑے کو بہت چاہتا تھا۔ پس اس نے جلیبی والے کو آواز دی ...

مزید پڑھیے

سب اکیلے ہیں

میں نے یہ درد بھی تمہارے لیے سہہ لیا ہے۔۔۔! ادھر۔۔۔ میری طرف نظریں اٹھاکر دیکھو۔۔۔! (لیکن اس نے نہیں دیکھا) دیکھو نا میری آنکھوں میں کہ اگر یہ جھوٹی ہوں گی تو ان میں وہ صاف شفاف روشنی تمہیں نہیں ملے گی کہ جس کا جلوہ کبھی کسی پہاڑ پر آگ کی تلاش میں بھٹکتے ہوئے آج سے ہزاروں سال ...

مزید پڑھیے

دیوار پر جڑی تختیاں

ایک وقت تھا جب وہ عمارت ایک خاموش اور پرسکون علاقے میں اپنے باغیچے میں ایستادہ عجیب و غریب مجسموں کے ساتھ بڑے احترام کی نظر سے دیکھی جاتی تھی۔ جب میں نے جوانی میں نوکری شروع کی تو وہاں کا پر وقار اور عالمانہ ماحول دور دور تک مشہور تھا۔ پہلی منزل پر ایک بڑا کمرہ تھا جس کے دروازے ...

مزید پڑھیے

پیشاب گھر آگے ہے

ایک باقاعدہ بنے ہوئے شہر کی شاہراہ، ایک اجنبی، پیشاب کی اذیت ناک شدت اور پیشاب گھر کی تلاش۔ جب سب کچھ بنتا ہے تو پیشاب گھر نہیں بنتے۔ جب پیشاب گھر بنتے ہیں تو لوگ وہاں پاخانہ کردیتے ہیں۔ پتلون کی فلائی پر باربار ہاتھ جاتا ہے۔ ایک کشادہ سی صاف ستھری دیوار پر لکھا ہے یہاں پیشاب ...

مزید پڑھیے

گلاب کی جڑ

’’اس کی کیا ضمانت ہے کہ جو کچھ آپ کہہ رہے ہیں وہ سب صحیح ہے ؟‘‘ جنید صاحب نے سنہری کمانی کی عینک کا زاویہ اپنی چمکتی ہوئی دبنگ سی نظر آنے والی خاصی صحت مند ناک پر درست کرتے ہوئے کہا۔ ان کے پکے جامنی رنگت چہرے پر سوالیہ سنجیدگی بڑی واضح تھی۔ ’’سوال یہ ہے کہ جو کچھ میں کہہ رہا ہوں ...

مزید پڑھیے

تعویذ

“مولوی صاحب، کوئی ایسا تعویذ لکھ دیں کہ میرے بچے رات کو بھوک سے رویا نہ کریں۔ ” مولوی صاحب نے تعویذ لکھ دیا۔ اگلے ہی روز کسی نے پیسوں سے بھرا تھیلا گھر کے صحن میں پھینکا۔ شوہر نے ایک دُکان کرائے پر لے لی۔ کاروبار میں برکت ہوئی اور دُکانیں بڑھتی گئیں۔ پیسے کی ریل پیل ہو گئی۔ ...

مزید پڑھیے

بوجھ

مجھے روز ایک ہی خواب آتا ہے۔ میں چیونٹی ہوں اور ایک بھاری بوجھ اُٹھائے ایک تنگ راستے پر چڑھائی چڑھ رہا ہوں۔ راستے کے دونوں طرف گہرائی ہے۔ مجھے نیچے نظر نہیں آتا۔ کوئی پھونک مارتا ہے۔ میرے قدم اُکھڑ جاتے ہیں۔ میں بوجھ سمیت گہرائی میں گرتا ہوں۔ مگر مجھے چوٹ نہیں آتی۔ شاید نیچے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 6062 سے 6203