قومی زبان

مردم گزیدہ

گلی تھی کہ شیطان کی آنت۔۔۔ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔بتائی گئی تمام نشانیوں کو وہ عبور کرتا جا رہا تھا۔ بڑی سڑک جہاں پر سے بازار کے لیے مُڑتی ہے،وہاں سے بائیں ہاتھ پر ایک گلی پھوٹتی ہے ۔گلی کے سرے پر ایک سیلون ہے۔کچھ آگے جاکر گلی کے بیچوں بیچ ایک چھوٹا سا مندر ہے۔۔۔مندر ...

مزید پڑھیے

دھند میں لپٹی ایک صبح

اس بار سردیاں کچھ زیادہ ہی دیر کے لئے رک گئی تھیں۔جنور ی ختم ہونے کو آ رہا تھا مگر ٹھنڈ ابھی ختم نہیں ہوئی تھی۔شمالی علاقوں میں بھاری برف باری کا سلسلہ جاری تھا ۔مغرب سے آنے والی سرد ہوائیں چہار سو چکراتی پھرتیں۔ فجر کے وقت دھند کی چادر کبھی کبھی اتنی دبیز ہو جایا کرتی کہ سامنے ...

مزید پڑھیے

پسپائی

مجھے عورتیں فتح کرنے کا شوق ہے۔ سب جانتے ہیں عورت اپنی ذات میں ایک مکمل دنیا ہوتی ہے لہٰذا پوری دنیا کی طرح پوری عورت کی فتح بے حد ضروری ہے۔ میں اپنی فتوحات کا احاطہ نصف سکندرِ اعظم کی طرح آدھی دنیا تک محدود نہیں رکھنا چاہتا تھا لہٰذا میری پہلی ترجیح وہ آدھی دنیا ہوتی جو سکندر ...

مزید پڑھیے

تعویذ

امی نہ رہیں تو صرف اتنا ہی ہوا نا کہ اپنے کمرے میں نہ رہیں۔ ہمارے گھر میں نہ رہیں۔ اس دم دمے میں بھی نہ رہیں جس کے زنانی دروازے سے سواری گھر جانے پر وہ پردہ داری کی لاج رکھتیں اور راہ گیروں کی نظروں سے خود کو چھپاکر چھپاک سے گھر کی چار دیواری میں ہوجاتیں۔ میں نے اب بے چوں و چرا یہ ...

مزید پڑھیے

ایک پھول، ایک تتلی

بنجر زمین پر پھوار پڑے یا موسلا دھار بارش ہو، جب کونپل ہی نہیں پھوٹے گی تو پھر کلی کا چٹکنا معدوم۔ رضیہ چچی بس ایسی ہی ایک بنجر سی زمین تھیں۔ سوکھی ساکھی دھرتی کی طرح چچا کے قدموں کے تلے بچھی رہتیں۔ کٹے ہوئے کھیت کے سوکھے تھنٹھ بھی ہوتے تو کوئی دیکھ سمجھ کر قدم رکھتا کہ مبادا ...

مزید پڑھیے

پو پھٹنے تک

راملو کی چھوٹی سی کٹیا میں آٹھ زندگیاں سانس لیتی تھیں۔ اسی کٹیا میں انکیا کا بچپن جوانی سے جاملا تھا۔ اسی کٹیا میں ملیا کی میں بھیگی تھیں۔ اسی کٹیا میں پوچی نے شرمانا سیکھا تھا۔ او رپھر اسی کٹیا میں انکیا کی بیوی نے دو بچے بھی جنے تھے۔۔۔ اور اب یہی بچے دن دن بھر کٹیا کے باہر ننگ ...

مزید پڑھیے

خالی پٹاریوں کا مداری

اگر وہ مجھے پیچھے سے پکار لیتا— ابّا تو بھی کیا میں پل بھر کو اس کے لیے ٹھہر سکتا تھا؟ ’’آنسو مٹی میں گرے کہ دامن میں جذب ہو۔ پلکوں سے چھوٹنے کے بعد نہ کنکر ہے نہ موتی۔‘‘ کیسی کیسی راحتیں تج کر عمر کی کشتی میں ڈولتے ہم کتنی مسافتیں طے کر لیتے ہیں۔ نہ پلٹ کر دیکھنے کی فرصت ہے نہ ...

مزید پڑھیے

ننگے زخم

مہینے کی پہلی تاریخ کا تصور کسی کے لیے خوش آیند ہوتا ہو تو ہو؛ میرے لیے تو سارے سوئے ہوئے فتنوں کو جگانے کا پیش خیمہ ہوتا ہے۔ غلہ والا، دودھ والا، مالک مکان، ملازم، دھوبی، بھنگی، نائی بچوں کی فیس۔ پہلی تاریخ چپکے سے اس طرح نہیں چلی آتی جس طرح ولی دکنی کی محبوبہ دلنواز ان کے گھر ...

مزید پڑھیے

ایک قتل کی کوشش

ایک میں ہوں۔۔۔ متحیر اور مبہوت۔ ایک وہ ہے۔ پیتھالوجسٹ۔ بہت دنوں سے یہ پیتھالوجسٹ مجھ سے کہہ رہا ہے، ’’دیکھو! جو کچھ خارج ہوکر باہر آتا ہے بس وہی میرا مقدر ہے۔‘‘ ایک چھوٹے سے اسپتال کا کمرہ۔۔۔۔ میری خورد بین ٹسٹ ٹیوب، بہت سے فلاسک، شیشیاں، ہری لال نیلی، پاخانہ، پیشاب، ...

مزید پڑھیے

ایک سگریٹ لائٹر کی کہانی

ایک بار نہیں کئی بار ایسا ہی ہوا تھا۔ جس کی وجہ سے ایسا ہوا تھا وہ وجہ تو بہت معمولی تھی، میری جگہ کوئی اور بھی ہوتا تو اس کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوتا، خود چائے کی دوکان کا مالک جس کا میں ملازم تھا وہ بھی جانتا تھا کہ ایسا ہوجانا بڑی عام سی بات ہے، لیکن بات کتنی ہی معمولی کیوں نہ ہو، ...

مزید پڑھیے
صفحہ 6061 سے 6203