قومی زبان

پتا جی

’’نہیں، بڑی بہو۔‘‘ جب سے بڑے بابو کے پتا کا دیہانت ہوا تھا وہ بھی ان کے مانند اپنی بیوی کو بڑی بہو کہہ کربلانے لگا تھا۔ ’’تم سمجھتی کیوں نہیں؟‘‘ ’’اس میں سمجھنے کی کیا بات ہے؟‘‘ بڑی بہو سویٹر بنتے ہوئے وہاں سے جانے کے لیے اٹھ کھڑی ہوئی۔ ’’جا کہاں رہی ہو؟ بیٹھی رہو۔‘‘ ...

مزید پڑھیے

تیسری دنیا

اسلام علیکم۔۔۔ آپ کےساتھ بیٹھنے میں مجھے کوئی عذر نہیں مگر میں کہیں بیٹھ جاتا ہوں تو لوگ میری داستان سنتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں اور مجھے شرمندگی ہونے لگتی ہے، میں کیسا مہمان ہوں کہ میرے میزبان مجھ سے چھٹکارا پانے کے لیے اپنے ہی گھروں سے باہر ہولیتے ہیں۔۔۔ لیجیے، بیٹھ گیا۔۔۔ ...

مزید پڑھیے

گرین ہاؤس

یو۔ این۔ او کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل کے اس نجی سن ڈاؤنر سےمولو اب گھر لوٹنا چاہ رہا تھا مگر اس نے اتنی پی لی تھی کہ اسے ڈر تھا، اٹھا تو لڑکھڑانے لگوں گا۔ آسٹریلین لاکر اس کی خواہش اور خوف بھانپ کر ہنسنے لگا، ’’پر جب نشے کا یہ عالم ہو تو گھٹنوں کو سیدھا ہی کیوں کیا جائے؟‘‘ لاکر سے ...

مزید پڑھیے

بیک لین

لال پگڑی والے نے مجھے روک لیا ہے۔ ’’کہاں جارہے ہو؟‘‘ میری سمجھ میں نہیں آرہاہے کہ اسے کیا بتاؤں۔ ’’جاؤ، خبر دار، جو ادھر ادھر آنکھ اٹھائی۔ ناک کی سیدھ میں چلتے جاؤ۔‘‘ چلو، چھٹی ہوئی۔ یہ لوگ نامعلوم کیوں مجھے روک روک کر خبردار کرتے رہتے ہیں۔ میں کوئی ایسا ویسا ...

مزید پڑھیے

نامرد

اس چوڑی سڑک کے ایک کنارے میں بہت مشہور سنیماہال ہے جس میں صرف انگریزی فلمیں دکھائی جاتی ہیں۔ اس کے دوسرے کنارے پر بھی سنیما ہال ہیں اور سب کچھ کے علاوہ سنیما ہال یا ہوٹل زیادہ ہیں۔ ہوٹل بھی شریفیہ، نظامیہ، صابریہ قسم کے ۔۔۔ جن کے بڑے بڑے ڈرائننگ ہال میں ہر وقت چیخ و پکار مچی ...

مزید پڑھیے

ٹھنڈا میٹھا پانی

اب جنگ ختم ہوچکی ہے، جگہ جگہ پر کھدی ہوئی حفاظتی خندقیں پٹ چکی ہیں، جن لوگوں کے گھر توپ کے گولوں سے ملبے میں تبدیلی ہو چکے تھے، ان گھروں کو پھر سے آباد کیا جا رہا ہے، فائر بندی ہوئے بھی عرصہ گزر گیا، جب جنگ شروع ہوئی تھی تو خزاں کا موسم تھا، پھر سردی پڑی اور اب بہار آئی ہوئی ہے، اب ...

مزید پڑھیے

بھورے

محمد بھورے ولد محمد بوٹے کے دماغ میں کوئی خلل پیدا ہوگیا ہے، یہ سب کا متفقہ فیصلہ تھا مگر مس لالی خاں ہاؤس سرجن کا خیال تھا کہ ان کے دماغ میں کوئی خلل نہیں ہے کیونکہ وہ بقائمی ہوش و حواس تمام کام انجام دیتا ہے، اگر گھنٹے کی آواز سے اس پر بے چینی طاری ہو جاتی تو یہ کوئی جذباتی ...

مزید پڑھیے

سہرا

کل ساجد میاں کا نکاح تھا مگر خوشی کے بجائے ان کے چہرے پر وحشت برس رہی تھی، وہ اپنی دونوں بہنوں سے بار بار کہہ رہے تھے، ’’ارے بڑی بجیا آپ اچھی طرح سن لیں، میرا بستر ہمیشہ کی طرح اماں بی کے کمرے میں بچھا رہے گا، اسے کوئی نہیں ہٹائے گا اور آپ بھی سن لیں چھوٹی بجیا، اب آپ میرا بستر ...

مزید پڑھیے

سودا

جب وہ افسر بہادر کے گھر نوکری کے لیے بھیجا گیا تو اس پر عجیب سی وحشت طاری تھی۔ شانے جھکے ہوئے، رنگ پیلا، آنکھوں تلے اندھیرا۔ اتنی بڑی کوٹھری میں وہ یوں کھوگیا جیسے سچ مچ مرگیا ہو۔ یتیموں کی طرح کھڑا ٹکر ٹکر دوسرے نوکروں کا منہ تک رہا تھا اور وہ سب اس قدر مصروف تھے کہ کسی نے اس کی ...

مزید پڑھیے

خرمن

کنیز کوٹھری کے ایک کونے میں سر نیہوڑائے بیٹھی تھی اور دوپٹے کے آنچل سے آنسو پونچھے جا رہی تھی، اس کے پاس اماں کمر پر دونوں ہاتھ رکھے کھڑی تھی اور اسے گھور گھور کر دیکھے جا رہی تھی، کنیز نے ایک بار سر اٹھا کر بے بسی سے ماں کو دیکھا اور پھر گھٹنوں میں منہ چھپا لیا۔ ’’سوچ لے ری، ہاں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 6048 سے 6203