قومی زبان

ڈیڑھ روپیہ

جس عمارت کا میں ذکر کر رہا ہوں وہ ظاہری طور پر بڑی با وقار، سنجیدہ اور بارعب دکھائی دیتی ہے لیکن اندر سے بڑی گندی اور غلیظ ہے۔ مجھے یہاں رہتے ہوئے کافی عرصہ ہوگیا ہے اس لئے میں اس کے حدود اربعہ سے اچھی طرح واقف ہوں۔ گراؤنڈ فلور میں دن کو بھی اندھیرا رہتا ہے، یہاں سورج کبھی نہیں ...

مزید پڑھیے

چاندی کے تار

اب جبکہ تمھاری شادی ہوچکی ہے اور تم ایک دوسرے شخص کی آغوش میں جا چکی ہو، مجھے تمہیں خط لکھنے کا حق حاصل ہوگیا ہے۔ گویا ایک عجیب سی بات ہے کہ جب تم خط لکھتی تھیں تو میں جواب دینےسے قاصر تھا، اور اب میں تمھیں خط لکھ رہا ہوں لیکن تم اس خط کا جواب دینے سے معذور ہوگی، میرےلئے یہ بوجھ ...

مزید پڑھیے

ممی

’’ممیّ، یو آر گریٹ ممیّ۔ میرے پاس آؤ۔ وسکی کا ایک اور پیگ لونا۔‘‘ ’’ڈونٹ بی سیلی مائی سن۔‘‘ ممیّ چلاّئی۔ ’’بی اےگڈ مدر۔ صرف ایک پیگ اور۔‘‘ ممیّ وسکی کی بوتل سے ایک پیگ ڈالتی ہے اور پینے والے ہاتھ میں گلاس دیتی ہے۔ ’’یو آرگریٹ ڈارلنگ۔ تھوڑی برف۔ یہ برف کہاں سے لائی ہو، ...

مزید پڑھیے

لیجئے ہم نے پھر عشق کیا

عشق جیسی لطیف شے، جس پر ہمارے مشہور و معروف شاعروں اور افسانہ نگاروں نے افسانے لکھ کر غیر فانی شہرت حاصل کی ہے اور بہت سے عاشقوں اور معشوقاؤں نے اپنی زندگی کی بازی لگا کر ادبی داستانوں میں جگہ بنالی ہے، اسے مزاحیہ انداز میں پیش کرنا پرلے درجہ کی حماقت ہے، لیکن بندہ نواز، میں بے ...

مزید پڑھیے

حنائی انگلیاں

کیا کرتے ہو راجندر بھیا۔۔۔؟ کچھ نہیں بی اے پاس کر چکا ہوں۔۔۔ اب کیا کر رہے ہو۔۔۔ ایم اے کی تیاری کر رہا ہوں۔۔۔ پھر کیا کروگے، بی اے کا امتحان پھر دوں گا۔۔۔ آہا۔۔۔ آہا۔۔۔ آہا۔۔۔ ہاہاہاہا۔۔۔ سالی نوکری نہیں ملتی۔ بہت کوشش کر چکا ہوں، جھوٹ بکتے ہو، رات دن گھر میں رہتے ہو، اور اپنے ...

مزید پڑھیے

جہاں میں رہتا ہوں

میں دن رات یہی سوچتا رہتا ہوں کہ تمھیں کیا لکھوں، وہ کون سا مضمون ہے جس پر ادیبوں نے خامہ فرسائی نہیں کی، تم نے لکھا ہے کہ عورت کی محبت کے متعلق کیوں نہیں لکھتے، یہ قصہ بہت پرانا ہو چکا، اور میں نے عورت کی محبت کے متعلق اتنا لکھا ہے کہ میرا جی ان باتوں سے اکتا گیا ہے، اب جی چاہتا ہے ...

مزید پڑھیے

زندگی چاند سی عورت کے سوا کچھ بھی نہیں

اس نے نیا سوٹ پہنا، اور قدآدم آئینے کے سامنے کھڑے ہوکر اپنا جائزہ لیا۔ سر کے بال کچھ بکھرے ہوئے تھےاس نے برش سے بالوں کو اپنی جگہ جمایا۔۔۔ اور سر کو جھٹک کر پھر آئینے کے سامنے کھڑا ہوگیا۔۔۔ اسے اپنی ناک کچھ لمبی سی دکھائی دی۔ کاش اس کی ناک اتنی لمبی نہ ہوتی تو اس کی زندگی خوش گوار ...

مزید پڑھیے

کھڑکیاں کھول دو

میرے گرد آوازوں کا جال ہے جو مجھے اپنی طرف کھینچ رہا ہے میں ہر سمت نظر دوڑاتی ہوں۔ کچھ مدہم مدہم آوازیں مجھے پیچھے کی طرف سے آتی ہیں میں سیڑھی سیڑھی اتر کر نیچے پہنچ جاتی ہوں۔ میرے مقابل ڈھیروں بچوں کے جھرمٹ اک معصوم سی بچی اپنا چہرہ ہاتھوں سے ڈھانپے اپناآپ چھپائے کھڑی ...

مزید پڑھیے

نائلون میں لپٹی لاش

کمرے میں سنہری مہک رچی تھی۔ پیلاہٹ اترنے کا آج آخری دن تھا یا زردی چڑھنے کا پہلا دن۔ کوئی بات آج تک طے نہ ہوئی تھی تو یہ کیسے ہوجاتی۔ وہ یہ سب سوچتی سرجھکائے بیٹھی تھی۔ کوئی لڑکی ریڈیو کُھلا چھوڑ گئی تھی۔گھٹیا بے ہودہ قسم کے گانے سننے کا لڑکیوں کو کتنا شوق ہے اس نے سوچا۔ ’’اک ...

مزید پڑھیے

امن کے ہاتھ

یہ ان دنوں کی بات ہے جب دوسری جنگ عظیم اپنے شباب پر تھی۔۔۔ فوجی کیمپ اور سپاہیوں کے دستے مکڑی کے جال کی طرح ملک کے چپے چپے میں پھیلا دیے گئے تھے۔ ہمارا علاقہ بھی اس کی زد سے نہ بچ سکا۔۔۔ ہمارے گاؤں کے قریباً چار پانچ فرلانگ کی دوری پر ایک بڑے سے گھنے باغ میں ملٹری کیمپ بننے لگا اور ...

مزید پڑھیے
صفحہ 6040 سے 6203