قومی زبان

شاطر کی بیوی

عمدہ قسم کا سیاہ رنگ کا چمک دار جوتا پہن کر گھر سے باہر نکلنے کا اصل لطف تو جناب جب ہے جب منہ میں پان بھی ہو، تمباکو کے مزے لیتے ہوئے جوتے پر نظر ڈالتے ہوئے بید ہلاتے جا رہے ہیں۔ یہی سوچ کر میں جلدی جلدی چلتے گھر سے دوڑا۔ جلدی میں پان بھی خود بنایا۔ اب دیکھتا ہوں تو چھالیہ ندارد۔ ...

مزید پڑھیے

تیمارداری

پانچ چھ سال انگلستان میں رہ کر میں واپسی کی تیاری کر رہا تھا۔ کچھ دن تک تو نتیجے کا انتظار رہا اور خوب ملک کی سیر کی۔ اب ارادہ ہو رہا تھا کہ کیوں نہ یورپ کے مشہور ممالک کی پہلی اور آخری مرتبہ سیر کی جائے۔ والد صاحب روپیہ جس تنگ دلی سے بھیجتے تھے، اس کا اندازہ اس سے بخوبی ہو سکتا ہے ...

مزید پڑھیے

چاول

گزشتہ جولائی کا ذکر ہے کہ ا یک عجیب شخص سے ملاقات ہوئی۔ یہ حضرت ایک کمپنی کے ٹریولنگ ایجنٹ ہیں۔ اپنی تجارت کے سلسلے میں یہاں آئے۔ ایک اور صاحب ڈاک بنگلے میں ٹھہرے تھے، جن سےملاقات ہوئی اور ان کی وجہ سے آپ سے بھی تعارف حاصل ہوا۔ میں نے دونوں حضرات کو کھانے پر مدعو کیا۔ اول تو ...

مزید پڑھیے

خودمختار دوشیزہ

(انگلستان کی ایک جھلک) ’’یہ کیا ہے؟‘‘ میں نے دوسرا گلاس ختم کرتے ہوئے پوچھا، ’’بولتی نہیں، یہ کیا ہے۔۔۔؟‘‘ اس کے سرخ ہونٹ دہکنے لگے۔ سارا چہرہ شرارت کے نور سے تلملا اٹھا۔ صاف و شفاف چہرے پر سرخی جھلکنے لگی۔ چہرہ مسرت آمیز جذبات کا آئینہ تھا۔ اس نے اپنے سرخی مائل سنہری بالوں ...

مزید پڑھیے

پٹی

پٹیاں ایک تو وہ ہوتی ہیں جو چارپائیوں میں لگائی جاتی ہیں اور ایک وہ جو سپاہیوں کے پیروں پر باندھی جاتی ہیں، پھر اور بہت قسم کی پٹیاں بھی ہیں، لیکن میرا مطلب یہاں اس پٹی سے ہے جو پھوڑا پھنسی یا اسی قسم کی مصیبتوں کے سلسلے میں ڈاکٹروں کے یہاں باندھی جاتی ہیں۔ میری بیوی کے ملنے ...

مزید پڑھیے

ٹیلی فون

بیسویں صدی کی بہترین ایجاد، کیا بلحاظ فوائد بنی نوع انسان اور کیا بلحاظ آرام و آسائش، اگر ہے تو ٹیلی فون ہے۔ (۱) مندرجہ بالا اقتباس میری آنکھوں کے سامنے تھا۔ میں نے نہایت ہی اطمینان سے اپنی میز پر نظر ڈالی اور کیوں نہ ڈالتا کہ میں بھی ایک ٹیلی فون کے سیٹ کا ملک تھا۔ میرے گھر میں ...

مزید پڑھیے

نیکی کرنا جرم ہے

پہلے میں کہتا تھا کہ نیکی کرنا کوئی جرم نہیں لیکن اب کہتا ہوں کہ نیکی کرنا جرم ہے اور وہ بھی قابل دست اندازی پولیس۔ لوگ کہتے ہیں کہ تم احمق ہو اور میں کہتا ہوں کہ تم! لہٰذا اب میں اپنا قصہ سنا کر آپ کی عقل کا بھی امتحان لیتا ہوں۔ (۱) ایک روز کا ذکر ہے کہ میں اسکول سے واپس گھر آ رہا ...

مزید پڑھیے

چند بیل

ایک بیل کو میں نے دیکھا کہ خاموش بیٹھا جگالی کر رہا ہے۔ آنکھیں نیم باز ہیں اور ایک کتا بڑی مشقت، تن دہی اور انہماک کے ساتھ اس کے منہ کے سامنے کھڑا بھونک رہا ہے۔ بڑھ بڑھ کر بھونکتا ہے اور پیچھے ہٹتا ہے۔ آخر جب کتا بہت قریب پہنچ گیا تو بیل نے زور سے ’’سوال‘‘ کر کے یوں سر ہلا دیا ...

مزید پڑھیے

مصری کورٹ شپ

میں نے جو پیرس سے لکھا تھا وہی اب کہتا ہوں کہ میں ہرگز ہرگز اس بات کے لئے تیار نہیں کہ بغیر دیکھے بھالے شادی کر لوں، سو اگر آپ میری شادی کرنا چاہتی ہیں تو مجھ کو اپنی منسوبہ بیوی کو نہ صرف دیکھ لینے دیجئے بلکہ اس سے دو چار منٹ باتیں کر لینے دیجئے۔ یہ الفاظ تھے جو نوری نے اپنی بہن ...

مزید پڑھیے

رساکشی

میں اپنے اس افسانے کو ایک موٹے سے رسے کے نام نامی پر معنون کرتا ہوں جو بڑے زور و شور سے کھینچا جا رہا ہے۔ (۱) عرصہ کئی سال کا ہوا ہم دو دوست دسمبر کی چھٹیوں میں اپنے وطن لاہور سے کلکتے گئے۔ وہاں سے واپسی کا ذکر ہے کہ میرے دوست تو وہیں رہ گئے اور میں کلکتے سے سیدھا وطن روانہ ہوا۔ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 6030 سے 6203