قومی زبان

ماں

’’بیٹی اچھی!‘‘ یہ آواز، ایک عالیشان عمارت، اسمٰعیل بلڈنگ کے دروازے کے پاس بجلی کے کھمبے کے نیچے کھڑی ہوئی، ایک برقعہ پوش عورت کے لبوں سے نکلی اور اس کے قریب کھڑی ہوئی سردی سے ٹھٹھرتی ہوئی ایک کمسن لڑکی، اس کی ٹانگوں سے لپٹ گئی۔ ’’کیوں اماں؟‘‘ ’’جاؤ بیٹی! اندر چلی جاؤ، ...

مزید پڑھیے

اولڈ ایج ہوم

آخری سیڑھی اور اس کے کمرے کے درمیان کم و بیش دس گز کا فاصلہ حائل تھا اور یہ فاصلہ اس کے لیے ایک بڑی آزمائش کا حرملہ بن جاتا تھا۔ کمرے کا دروازہ بند ہوتا تھا تو اسے کسی قدر اطمینان ہوجاتا تھا کہ اس کے پوتے اور پوتیوں کے حملے سے اس کا کمرہ محفوظ ہے مگر جب اس کے دونوں پٹ کھلے ہوتے تھے ...

مزید پڑھیے

رپورٹر

وہ علاقہ جو صرف ایک سال پیشتر ایک انتہائی پس ماندہ گاؤں سمجھا جاتا تھا، حکومت اور لوگوں کی مشترکہ منصوبہ بندی، ایثار اور محبت سے ایک اچھاخاصا ترقی یافتہ قصبہ بنگیا تھا۔ کھنڈرات کی جگہ ایک منزلہ، دومنزلہ اور کہیں کہیں سہ منزلہ مکانات سراٹھائے کھڑے تھے۔ شاندار حویلیاں بھی اپنے ...

مزید پڑھیے

خون کی ایک بوتل

ڈاکٹر ابھی ابھی راؤنڈ کرکے باہر نکلا تھا۔ ماں نے آنکھیں بند کرلی تھیں۔ شاید وہ سو چکی تھی۔ اس کا جی چاہا کہ ذرا ادھر اُدھر گھوم پھر آئے اور وہ دروازے کی طرف جانے لگا۔ دروازے سے کچھ دور ہی تھا کہ نرس جو ڈاکٹر کے ساتھ باہر گئی تھی تیزی سے اندر آتی ہوئی دکھائی دی۔ اس نے ہاتھ کےاشارے ...

مزید پڑھیے

رموز خاموشی

میں چار بجے کی گاڑی سے گھر واپس آ رہا تھا۔ دس بجے کی گاڑی سے ایک جگہ گیا تھا اور چونکہ اسی روز واپس آنا تھا لہٰذا میرے پاس اسباب وغیرہ کچھ نہ تھا۔ صرف ایک اسٹیشن رہ گیا تھا۔ گاڑی رکی تو میں نے دیکھا کہ ایک صاحب سیکنڈ کلاس کے ڈبے سے اترے۔ ان کا قد بلا مبالغہ چھ فٹ تھا۔ بڑی بڑی ...

مزید پڑھیے

مہارانی کا خواب

میری عمر جب دو برس کی تھی تو کئی جگہ سے میری شادی کے پیغام آئے۔ منجملہ ان کے صرف ایک ایسا تھا جو ہم پلہ والی ریاست کے یہاں سے تھا لیکن لڑکی بہت بڑی تھی۔ در اصل اس کی عمر پندرہ سولہ برس کی تھی اور میں صرف دو برس کا بچہ۔ چونکہ یہ پیغام ایک ہم پلہ مہاراجہ کی راجکماری کا تھا اس لیے پتا ...

مزید پڑھیے

یکہ

دس بجے ہیں۔ لیڈی ہمت قدر نے اپنی موٹی سی نازک کلائی پر نظر ڈالتے ہوئے جماہی لی۔ نواب ہمت قدر نے اپنی خطرناک مونچھوں سے دانت چمکا کر کہا، گیارہ، ساڑھے گیا بجے تک تو ہم ضرور پھو۔۔۔ ہونچ۔۔۔ بغ۔۔۔ موٹر کو ایک جھٹکا لگا اور تیوری پر بل ڈال کر نواب صاحب نے ایک چھوکرے کے ساتھ موڑ کا ...

مزید پڑھیے

وکالت

منظور ہے گزارش احوال واقعی اپنا بیان حسن طبیعت نہیں مجھے وکالت بھی کیا ہی عمدہ۔۔۔ آزاد پیشہ ہے۔ کیوں؟ سنیے میں بتاتا ہوں۔ پار سال کا ذکر ہے کہ وہ کڑا کے کا جاڑا پڑ رہا تھا کہ صبح کے آٹھ بج گیے تھے مگر بچھو نے سے نکلنے کی ہمت نہ پڑتی تھی۔ لحاف میں بیٹھے بیٹھے چائے پی۔ دو مرتبہ ...

مزید پڑھیے

کرکٹ میچ

(۱) کرکٹ میچ پر آج کل برسات کے موسم میں کوئی مضمون لکھنا ’’بے فصلی‘‘ سی چیز ہے۔ بالخصوص جب کہ زیادہ عرصہ نہیں گزرا کہ کرکٹ کے واہیات میچوں کا حال اور ان کی خبریں چھاپتے چھاپتے اخبار والوں نے پبلک کو پست کر دیا اور پھر اب تو ایم سی سی والے بھی ہندوستان سے ’’آؤٹ‘‘ ہو گئے، ورنہ ...

مزید پڑھیے

انگوٹھی کی مصیبت

میں نے شاہدہ سے کہا، تو میں جا کے اب کنجیاں لے آؤں۔ شاہدہ نے کہا، آخر تو کیوں اپنی شادی کے لئے اتنی تڑپ رہی ہے؟ اچھا جا۔ میں ہنستی ہوئی چلی گئی۔ کمرہ سے باہر نکلی۔ دوپہر کا وقت تھا اور سناٹا چھایا ہوا تھا۔ اماں جان اپنے کمرہ میں سو رہی تھیں اور ایک خادمہ پنکھا جھل رہی تھی۔ میں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 6029 سے 6203