قومی زبان

بڑے شرم کی بات

اماں جان نے خوشخبری سنائی کہ ’’افضل آ رہا ہے۔۔۔‘‘ ’’ارے!‘‘ میرے منہ سے نکلا مگر میں چپ ہوکر سیدھی اٹھی اور چلی گئی۔ یہ واقعہ تھا کہ بھائی افضل آ رہے تھے۔ کون بھائی افضل؟ بس نہ پوچھئے۔ جب کا ذکر ہے کہ بھائی افضل ہمارے ہاں رہتے تھے۔ بخدا کیا زمانہ تھا۔ بھائی افضل توتلے ہیں۔ ...

مزید پڑھیے

کیا کبھی تم پر بھی کوئی عاشق ہوا ہے؟

ایک تو وہ لوگ ہیں جن کو خوبصورت ترین ہستی یعنی خدانے اپنےہاتھ سے بنایا ہے جیسے رسالوں کے ایڈیٹر۔ یا شیطان کے کان بہرے، خود ہماری گھر والی اور دوسرے وہ لوگ ہیں جن کو شاید خدائے تعالیٰ نے فرشتوں سے ٹھیکے پر بنوایا ہے اور ان ٹھیکیداروں نے ہم کو اس تیزی سے بنا بنا کر پھینکا ہے کہ ...

مزید پڑھیے

ممتحن کا پان

ریل کے سفر میں اگر کوئی ہم مذاق مل جائے تو تمام راہ مزے سے کٹ جاتی ہے۔ گو بعض لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں کہ انہیں کوئی بھی مل جائے تو وہ اس کے ساتھ وقت گزاری کرلیتے ہیں، مگر جناب میں غیر جنس سے بہت گھبراتا ہوں اور خصوصاً جب وہ پان کھاتا ہو۔ اب تو نہیں لیکن پہلے میرا یہ حال تھا کہ پان ...

مزید پڑھیے

جنم قیدی

اے ری سکھی سیاں ارہر میں جھانکیں شام کا سہانا وقت تھا۔ خوبصورت گدھے ریشمی کھیتوں میں کلیلیں کر رہے تھے۔ ان کی سریلی آوازوں کا پر کیف نغمہ ہوا میں ایک ارتعاش اور ترنم پیدا کر رہا تھا۔ گوبر اور سڑے ہوئے پتوں کی بھینی بھینی بدبو سے ہوا میں گرمی سی تھی۔ کیا ہی خوبصورت منظر تھا۔ ...

مزید پڑھیے

رنگروٹ کی بیوی

جنگ کے آخری زمانے میں جو کشمکش میدان جنگ پر ہوگی، اس کا اندازہ اس سے لگ سکتا ہے کہ ڈسٹرکٹ رکوٹنگ افسر یعنی ضلع کے سپاہی بھرتی کرنے والے افسر کے یہاں گشتی چٹھی آگئی تھی کہ کم قد کے سپاہی بھی بھرتی کر لیے جائیں اور یہ واقعہ ہے کہ اس زمانہ میں اکثر ایسے سپاہی بھرتی کر کے بھیجے گئے کہ ...

مزید پڑھیے

مٹی کا زنگ

یہ سب جیسے اچانک ہی ہوا۔ ریلوے اسٹیشن پرمعمول کی زندگی نے یکلخت کروٹ لی اور پھر ستے ہوئے چہروں اور نیندسے بوجھل آنکھوں والے مسافروں کاایک ہجوم اکٹھا ہوتا چلاگیا۔ رات کا پہلا پہر ہوگا، جب یہ واقعہ پیش آیا۔ دور کے سفر پر نکلنے والے مسافروں اور اسٹیشن کے عملے کے لیے یوں تویہ کوئی ...

مزید پڑھیے

مرگ زار

وہ دھند میں ڈوبی ہوئی ایک صبح تھی ۔ مری میں میری پوسٹنگ کو چند ہی روز گزرے تھے اور جتنی صبحیں میں نے اس وقت تک دیکھی تھیں سب ہی دھند میں لپٹی ہوئی تھیں ۔ کلڈنہ روڈ پر ہمارا دفتر تھا ۔ ابھی مجھے گھر نہیں ملا تھا لہذا میں روزانہ پنڈی سے یہاں آیا کرتا تھا گزشتہ ہفتے کے آخری تین روز تو ...

مزید پڑھیے

جنم جہنم-۳

اور وہ کہ جس کے چہرے پر تھوک کی ایک اور تہہ جم گئی تھی۔ اُس کی سماعتوں سے تھوک کر چلی جانے والی کے قہقہوں کی گونج اَبھی تک ٹکرا رہی تھی وہ اُٹھا۔ بڑ بڑایا۔ ’’جہنم۔ لعنت‘‘ پھر اَپنے وجود پر نظر ڈالی اور لڑکھڑا کر گر گیا۔ اب نگاہ اوپر کی تو نظر میں کوئی بھی نہ تھا‘ جو سما رہا ہو وہ ...

مزید پڑھیے

رکی ہوئی زندگی

وہ کھانے پر ٹوٹ پڑا، ندیدہ ہو کر۔ عاطف اسے دِیکھ رہا تھا، ہک دَک۔ کراہت کاگولا پیٹ کے وسط سے اُچھل اُچھل کر اس کے حلقوم میں گھونسے مار رہا تھا، یوں کہ اسے ہر نئے وار سے خود کو بچانے کے لیے دِھیان اِدھر اُدھر بہکانا اور بہلانا پڑتا۔ وہ بھوکا تھا۔ شاید بہت ہی بھوکا، کہ سالن کی ...

مزید پڑھیے

سورگ میں سور

جب سے تھوتھنیوں والے آئے ہیں‘ دکھ موت کی اَذِیّت سے بھی شدید اور سفاک ہو گئے ہیں۔ تاہم ایک زمانہ تھا ۔۔۔ اور وہ زمانہ بھی کیا خوب تھا کہ ہم دُکھ کے شدید تجربے سے زِندگی کی لذّت کشید کیا کرتے ۔ اس لذّت کا لپکا اور چسکا ایسا تھا کہ خالی بکھیوں کے بھاڑ میں بھوک کے بھڑ بھونجے چھولے تڑ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 6031 سے 6203