قومی زبان

کرداروں میں بٹی ہوئی زندگی

تہذیب کے انتقال کے بعد بوڑھے کے لیے بچا ہی کیا تھا۔ جو وہ اونچی چھتوں، وسیع و عریض کمروں، لمبے دالانوں، پر پیچ سیڑھیوں، گھومتی راہداریوں والی قدیم حویلی میں رہتا۔ بچوں سے اس کا رشتہ تو بہت پہلے ہی ٹوٹ چکا تھا۔ جب چھوٹی بہو نے اس کی یادداشتوں اور غزلوں سے بھرے کاغذوں کو یہ کہہ کر ...

مزید پڑھیے

آوازیں

مرمریں فرش پر دور سے نزدیک ہوتی ہوئی سخت ایڑی والے جوتوں کی ٹَک ٹَک، چوڑیوں کی چھن چھن اور موسم کے پھولوں کی نرم و لطیف خوشبو نے میرے حواس کو چُھوا اور لمحہ بھر کو مجھے سحر زدہ کردیا اور پھر ایک ہی ردھم میں رقصاں آوازیں اور پھولوں کی مہک مجھ سے آگے نکل گئے۔ ہسپتال کے کسی بستر پر ...

مزید پڑھیے

اغواء

۱۶ نومبر ۲۰۰۱ء کی سبک سرنرم دھند میں لپٹی ہوئی صبح، جب کرۂ ارض پر عالمی لغت انسانی میں حاکمیت، انسانیت ، جنگ ، امن بھائی چارہ اور دہشت گردی جیسے لفظوں کے معنی بدل چکے تھے۔ ایک عورت ساری رات کی طلاطم خیز شب بیداری کے بعد بیٹھی نہ جانے کیوں دعائیں مانگ رہی تھی۔ اسے معلوم نہیں تھا ...

مزید پڑھیے

ککلی کلیر دی

قلم ککلی ؟۔۔۔ یہ کیا عنوان ہوا؟؟ اسے اعتراض تھا۔ وہ میری تحریروں کی پہلی قاری تھی اور ناقد بھی۔ میں نے کہا: تمہارے نزدیک قابل اعتراض لفظ قلم ہے یا ککلی؟ وہ اَپنی گہری بھوری آنکھیں میرے چہرے پر جماکر کہنے لگی: قلم بھی ۔۔۔اور۔۔۔ککلی بھی۔ دونوں؟۔۔۔ مگر کیوںںںںں؟ میں نے سٹ پٹا کر ...

مزید پڑھیے

کہانی کیسے بنتی ہے

وہ میرے پاس آئی اور مجھے کریدکرید کر پوچھنے لگی: ’’کہانی کیسے بنتی ہے؟‘‘ مجھے کوئی جواب نہ سوجھ رہا تھاکہ میرا سیل میری مدد کو آیا ۔ دوسری جانب گاؤں سے فون تھا: ’’سیموں مر گئی۔‘‘ ’’کون سیموں؟‘‘ میں نے اپنے وسوسے اوندھانے کے لیے خواہ مخواہ سوال جڑدیا۔ حالاں کہ ادھر ہمارے ...

مزید پڑھیے

آئینے سے جھانکتی لکیریں

میں اپنی نگہ میں سمٹ کر بھدی چھت سے پھسلتی دیوار تک آپہنچی تھی۔ میں نیچے آ رہی تھی یا دیوار اوپر اٹھ رہی تھی؟ کچھ نہ کچھ تو ضرور ہو رہا تھا۔ اور جو کچھ ہو رہا تھا وہ میرے باطن کے کٹورے کو اطمینان کے شیریں پانیوں سے کناروں تک بھر رہا تھا۔ باطن کا شہر بھی عجیب ہوتا ہے۔ بدن کو گھیرتی ...

مزید پڑھیے

تکلے کا گھاؤ

کاغذ پر جُھکا قلم کمال محبت سے گزر چکے لمحوں کی خُوشبو کا متن تشکیل دینے لگتا ہے: ’’ابھی سمہ بھر پہلے تک دونوں وہ ساری باتیں کررہے تھے ٗ جو دنبل بن کر اندر ہی اندر بسیندھتی ٗ پھولتی اور گلتی رہیں یا پھر اَلکن ہو کر تتّے کورنوالے کی طرح حلق میں ٹھہری ہوئی تھیں۔ تتّا کورنوالہ ٗ نہ ...

مزید پڑھیے

شاخ اشتہا کی چٹک

اسے قریب نظری کا شاخسانہ کہیے یا کچھ اور کہ بعض کہانیاں لکھنے والے کے آس پاس کلبلا رہی ہوتی ہیں مگروہ ان ہی جیسی کسی کہانی کو پالینے کے لیے ماضی کی دھول میں دفن ہو جانے والے قصوں کو کھوجنے میں جتا رہتا ہے۔ تو یوں ہے کہ جن دنوں مجھے پرانی کہانیوں کا ہوکا لگا ہوا تھا ‘ مارکیز کا ...

مزید پڑھیے

بند آنکھوں سے پرے

راحیل کو زِندگی میں پہلی مرتبہ اَپنی بے بسی پر ترس آیا۔ کل شام تک وہ اَپنی قسمت پر نازاں تھا۔ کون سی نعمت تھی‘ جو اس کا مقدّر نہ ٹھہری تھی۔ یہ جو تتلی جیسی بچی نایاب اور پھولوں جیسے دو بچے نبیل اور فرخ پھلواڑی میں کھیل رہے ہیں‘ راحیل ہی کے بچے ہیں۔ کل تک وہ انہیں دیکھتا تھا تو ...

مزید پڑھیے

شمشان گھاٹ

لکڑی کا سال خوردہ دروازہ چر چرا کر کھلا اور وہ لمبا گھونگھٹ کاڑھے کفن ایسی سفید چادر میں لپٹی لپٹائی اندر داخل ہوئی اور دیوار کے ساتھ پشت ٹکاکر بیٹھ گئی۔ فجر کی نماز کے بعد وہاں چڑیوں کی چہکار تلے درس چل رہا تھا۔ مسجد قرار دئیے گئے چار دیواروں کے بیچ اس ادھ کچے کشادہ صحن میں چند ...

مزید پڑھیے
صفحہ 6020 سے 6203