قومی زبان

کہانیوں سے پرے

تصویر کے عقب میں تحریرشدہ عبارت پڑھنے کے بعد میرے اوسان خطاہوگئے ۔ تاریخ پرنظرپڑی تو حواس معطل ہوگئے، گویا پاؤں کے نیچے سے زمین کھسک گئی ہو۔ مجھے کسی بھی حال میں پہنچناتھالیکن میں یہ طے نہیں کرپارہا تھا کہ مجھے جانا چاہئے یا نہیں۔ نئی نئی ملازمت، وسائل کی کمی اور والدہ کی ...

مزید پڑھیے

ایک معمولی خط

آپ کے اور میرے لیے تو یہ صرف ایک بے ضرر، بلکہ مزیدار، حماقت ہوتی جس پر اکیلے میں کیا دوسروں کوبھی سنا کر ہنسا جاسکتا ہے، مگر اس کا ذکر کرتے ہوئے اِسے ان اضطراری کمزوریوں میں شمار کرنا پڑے گا جن کی یاد ہمیشہ آنکھوں کے نیچے پسینہ لے آتی ہے، کیونکہ اس کی زندگی میں کمزوریوں کی تعداد ...

مزید پڑھیے

حرام جادی

دروازہ کی دھڑ دھڑ اور’’کواڑ کھولو‘‘ کی مسلسل اور ضدی چیخیں اس کے دماغ میں اس طرح گونجیں جیسے گہرے تاریک کنوئیں میں ڈول کے گرنے کی طویل، گرجتی ہوئی آواز۔ اس کی پر خواب او نیم رضا مند آنکھیں آہستہ آہستہ کھلیں لیکن دوسرے لمحہ ہی منہ اندھیرے کے ہلکے ہلکے اجالے میں ملی ہوئی سرمہ ...

مزید پڑھیے

چائے کی پیالی

حالانکہ وہ یہ دیکھنا تو چاہتی تھی کہ اس ایک سال کے دوران میں کون کون سی نئی دکانیں کھلی ہیں، کون کون سے پرانے چہرے ابھی تک نظر آتے ہیں، وہ گورا گورا سنار کالڑکااب بھی دکان پر بیٹھا ہوا اپنے بالوں پر ہاتھ پھیرتا رہتا ہے یا نہیں، سنگر کے ایجنٹ کے یہاں وہ ننھی سی سینے کی مشین ابھی تک ...

مزید پڑھیے

پھسلن

جمیل کا تو اس طرف خیال تک نہ گیا تھا، مگر ذاکر کے غیر متوقع طرزعمل نے اس کے دل میں بھی دلچسپی، ورنہ کم سے کم کھرچن سی تو ضرور پیدا کردی۔ وہ ہوا یوں کہ ایک دن مردانے میں ذاکر جمیل کی کمر میں ہاتھ ڈالے پلنگ پربیٹھا تھا کہ یکایک اندر سے نذرو نمودار ہوا۔اس نے ایک لمحے کے لیے ٹھٹک ...

مزید پڑھیے

دروازہ

کہہ دیا نا میں نے لکھنا چھوڑ دیا ہے۔ اس کے لہجے میں مایوسی ، تلخی اور احتجاج سب ملے ہوئے تھے ۔ آج جب وہ پاؤں گھسیٹتا، سر جھکائے ، ملگجے لباس اور بڑھی ہوئی ڈاڑھی کے ساتھ سڑک کی طرف کا جالی دار دروازہ آہستگی سے کھول کر اپنے پسندیدہ کونے تک پہنچا تو میں بھی وہیں جابیٹھا۔ وہ مجھے ...

مزید پڑھیے

فیک

میں جان گیا تھا کہ صبا اسماعیل ایک فیک آئی ڈی ہے لیکن میں اسے ان فرینڈ تک کرنے کو تیار نہیں تھا چہ جائیکہ بلاک کرتا۔ کچھ نشے اپنا جواز بھی ساتھ ہی لاتے ہیں اور ہوتے ہوتے جواز کے مرہون منت ہی نہیں رہتے ۔ صبا کی فرینڈز ریکوئیسٹ آنے پر میں نے کئی مشترک دوستوں کے فہرست میں ہونے کی ...

مزید پڑھیے

اجلے پاؤں، میلے پاؤں

وہ میری قطار سے اگلی قطار میں میرے سامنے سے دائیں والی کرسی پر دونوں پاؤں اپنی رانوں تک سکیڑ کر سیٹ پر رکھے بیٹھی تھی۔ آلتی پالتی مارے نہیں بلکہ اپنی منحنی ، نازک ٹانگیں دوہری کئے ۔ اس کے لاغرسفید پاؤں مجھے بہت خوب صورت اور سبک لگ رہے تھے ۔ ایک پاؤں اجلا تھا اور ایک میلا۔ وہ ...

مزید پڑھیے

کُشتی

’’پھر میں نے اُسے کہا کہ زیور اتار کر رکھ لو‘‘۔ ’’وہ کیوں ؟ کیا کوئی کشتی ہونے جا رہی تھی؟‘‘۔ ہم تینوں حمید کے ساتھ جڑے بیٹھے تھے۔ آٹھویں کے سالانہ امتحانات سر پر تھے لیکن پھر بھی حمید کو شادی کے لئے چھٹیاں مل ہی گئیں۔ لیکن ملیں صرف چار اوروہ بھی اس لئے کہ ماسٹر جمال الدین ...

مزید پڑھیے

دشت ِ وحشت

وہ مجھے سرحد تک جانے والی ٹرین کی منتظر ریلوے کے مخصوص بنچ پر بیٹھی ملی۔ بڑے اسٹیشن پر بہت رونق تھی۔ ہفتے میں دوبار سرحد تک ، جانے والی گاڑی نے علی الصبح نکلنا تھا۔ برادر ملک کے ساتھ مسافروں کی آمد و رفت کا بس ایک ہی رستہ کھلا تھا اور یہ ریل گاڑی اُسی سرحدی مقام تک جاتی تھی۔ مجھے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 6012 سے 6203