قومی زبان

بھابی جان

جنازے کے دہلیز پار کرتے ہی بھابی جان کی آنکھوں میں حیرت سے برف ہوئے آنسو چھلک پڑے۔ وہ غم سے چیخیں نہ درد سے چلائیں، بس ٹُک ٹُک اپنے محبوب شاعر اور چالیس سال کے رفیق کو جاتے ہوئے دیکھتی رہیں۔ دل و دماغ تو ساری طنابیں رات ہی کو توڑ چکے تھے جب چاروں بیٹے بیٹیوں اور ان کے بچوں کے ...

مزید پڑھیے

سوال

(سماجی مذہبی ذہنی ارتقا) سوال سے گریز، امکانات کا راستہ بند کرنے اور شتر مرغ کی طرح ریت میں منہ چھپا کر طوفان کے ٹل جانے کی امید کرنے والی قوم کی سرزمین پر جنم لینے والی اس کہانی کے دو کردا رہیں۔ یہ ایک دوسرے کو صرف ایک حوالے سے جانتے ہیں۔ مگر کبھی ملے نہیں ایک ملک کے بھی نہیں۔ ...

مزید پڑھیے

ملامتی

مہر آج اپنے گھر نہ پہنچ سکی تھی۔ دو میل پیدل چل کر وہ جیسے ہی خالہ اماں کے گھر میں داخل ہوتی اپنے کام میں لگ جاتی۔ نہ اسے تھکن کا احساس ہوتا اور نہ ہی کوئی آرام کی خواہش۔ بس اسے تو یہ یاد ہوتا کہ جلد سے جلد یہاں سے کام ختم کرکے اسے اگلے بلاک میں جانا ہے۔ اس کے ذمے تین کام تھے۔ ایک ...

مزید پڑھیے

پندرھواں سال

آج ہفتہ ہے اور معمولات کے مطابق آج مجھے ماں کا ہاتھ بٹانا ہے۔ ماں، جس سے میں بہت محبت کرتا ہوں۔ وہ تو میں پہلے بھی بہت کرتا تھا، مگر اب زیادہ کرنے لگا ہوں۔ عمر کے کئی برس میں نے اور ماں نے اکیلے ہی گزارے ہیں۔ اسی چھوٹے سے تین کمروں کے فلیٹ میں ابو کے بغیر۔ وہ ہمارے ساتھ زیادہ نہ رہ ...

مزید پڑھیے

مجسمہ

مددگاروں کو رخصت کرنے کے بعد ایقان دیر تک سنگِ مر مر کو چاروں طرف سے دیکھتا رہا۔ اسے یقین تھا کہ وہ اس چٹان کو اپنے حسین تصورات کا روپ دینے میں ضرور کامیاب ہوگا۔ اسی دوران اس کے کانوں سے آواز ٹکرائی۔ اس نے پلٹ کر دیکھا۔ برآمدے میں موم کھڑی ہوئی تھی۔ ایقان نے پتھر پر اچٹتی سی نظر ...

مزید پڑھیے

ہم تو اس جینے کے ہاتھوں۔۔۔

حیرت کا طلسم فضا پر طاری ہوچکا تھا،ہر کسی کی نگاہ اسٹیج پر مرکوز تھی ۔اسٹیج پر سارے معزز مہمان موجود تھے اور وہ بھی دم بخود تھے،غالباً ان کی بھی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ چشم زدن میں یہ کیا ہوگیا۔لوگ کاناپھوسی کرنے لگے، میری طرح شاید وہ لوگ بھی یہ جاننے کے لئے بے چین تھے کہ ابھی ...

مزید پڑھیے

فردوسِ حزیں

آبشارکی زیریں لہروں کی بازگشت وصال و فراق کے زمزمے سنارہی تھی،دیودار کے پتوں،ڈالیوں اورجڑوں پرجمی ہوئی برف بتدریج پگھل کرزمین میں جذب ہورہی تھی، سردی ہڈیوں میں اتررہی تھی،سویٹر،مفلراوردستانے خودآتش بدن مانگ رہے تھے اوردور بہت دورچنارکے نرم پتوں کو چوم کرآنے والی نیم ...

مزید پڑھیے

سروجنی

’گیہوں کی بالیاں کچھ زیادہ بڑی ہونےلگی ہیں ، ۔’’ہاں اورپگڈنڈیاں اب سکڑ گئی ہیں۔ دو لوگ ایک ساتھ نہیں چل سکتے‘‘۔ کوئی ایک مانوس سی آواز نے سرگوشی کی ۔ اس نے آس پاس دیکھا ۔ ادھ پکی بالیوں کے لہلانے کی آواز تھی ۔ کچھ دن قبل سرپھری ہوا چلی تھی ، ابروباراں میں زبر اور گھنی فصلیں چت ...

مزید پڑھیے

جنازہ خوں گشتہ زندگی کا

رجنی کول کی آنکھ اچانک کھل گئی۔ یوں محسوس کیا کہ ابھی کوئی چھوکرگیا ہے، کسی یخ بستہ لب نے سرگوشی کی ہے۔۔۔ٹھٹھری سی،بے کیف، رُست خیز۔۔۔سانسوں میں تھکن،سینے میں جکڑن اور بدن پر کسی لمس کی حدت دشتِ سکرات میں لے گئی۔۔۔ آہ نیم کش کے ساتھ ایک لمحے کے لئے آنکھیں موند لیں اور پھر آہستہ ...

مزید پڑھیے

غالب سالا بچ گیا

سیاہی ٔ شب میں اوپر دوربہت دورآفاق کی پہنائی میں، قوس در قوس ٹمٹماتے ہوئے لرزیدہ تاروں کی زردی مائل مدھم روشنی طوفان میں ہچکولے کھاتی کشتی کے مانند نظرآرہی تھی۔پہلے تو اسےکچھ سمجھ میں نہیں آیا کہ اچانک وہ کس جگہ پر آگیا ہے،کس ساعت زوال میں کب، کیوں اور کس نے اسے اس پاتال ...

مزید پڑھیے
صفحہ 6011 سے 6203